Advertisement

تعارفِ سبق

سبق ”ڈسٹرکٹ بورڈ کی ڈسپنسری“ کے مصنف کا نام ”قدرت اللہ شہاب“ ہے۔ یہ سبق کتاب ”شہاب نامہ“ سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

Advertisement

تعارفِ مصنف

پاکستان کے ممتاز سرکاری افسر قدرت اللہ شہاب اردو کے مشہور ادیب، افسانہ نگار، صوفی اور دانشور تھے۔ آپ کے والد کا نام محمد عبد اللہ تھا۔ آپ نے آزاد کشمیر میں سیکرٹری جنرل اور جھنگ میں ڈپٹی کمشنر کے عہدوں پر کام کیا۔ آپ پاکستان کے گورنر جنرل غلام محمد، صدر اسکندر مرزا اور صدر ایوب خان کے ساتھ بطور پرائیویٹ سیکرٹری رہے۔ ہالینڈ میں پاکستان کے سفیر بھی رہے۔ پاکستان کی ادبی تنظیم رائٹرز گلڈ کے بانی اور انجمن ترقی اردو پاکستان کے اعزازی صدر بھی رہے۔

Advertisement

شہاب نامہ آپ کی آپ بیتی ہے، جس میں آپ نے اپنے بچپن، جوانی اور بڑھاپے کا احوال بیان کیا ہے۔ قومی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے آپ کو ستارہ پاکستان کے تمغے سے نوازا۔ آپ کی دیگر تصنیفات میں یا خدا، نفسانے، ماں جی اور سرخ فیتہ مقبول کتابیں ہیں۔

Advertisement

سوال نمبر 1: اس کہانی کا خلاصہ اپنے الفاظ میں تحریر کیجیے۔

اس سبق میں مصنف ایک واقعے کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ ایک طویل دورے سے واپس آ رہے تھے، جب ایک پر فضا مقام پر انہیں ڈاک بنگلا نظر آیا۔ اس ڈاک بنگلے کی چھت کھلی ہوئی تھی۔ چوکیدار نے ۱۹۵۰ء کے سیلاب کے نتیجے کو ڈاک بنگلے کی چھت غائب ہونے کی وجہ بیان کیا تھا۔ چوکیدار نے انھیں بتایا کہ ڈاک بنگلے میں چینی کی چند پرچ پیالی اور کچھ رکابیاں بھی موجود ہیں جو سو برس پرانی ہیں۔ وہ وہاں ٹھہرے لیکن وہاں کی حالت دیکھ کر انہیں ایک ڈسٹرکٹ بورڈ کی ڈسپنسری یاد آگئی۔

مصنف کہتے ہیں کہ مجھے بغیر اطلاع دیے دور دراز دیہات میں گھومنے کا بہت شوق ہے اور اس کی یہ وجہ بیان کی ہے کہ اس طرح ایک انسان کی آنکھ ان نظاروں کا مشاہدہ کرتی ہے جو ڈپٹی کمشنر کی آنکھ کو نصیب نہیں ہوتا۔ خیر مصنف بتاتے ہیں جب میں اس گاؤں پہنچا تو مجھے ایک اصطبل نظر آیا جو دراصل اسپتال تھا۔

وہاں ڈاکٹر صاحب دھوتی اور بنیان پہنے کرسی پر اکڑوں بیٹھے تھے اور اپنے گھٹنوں پر پرچیاں رکھے نسخے لکھ لکھ کر مریضوں کو دے رہے تھے۔ مصنف کہتے ہیں کہ مریض اپنی بساط کے مطابق اپنے مرض کی تشخیص کرتا تھا اور ڈاکٹر صاحب اسے نسخہ لکھ کر دے دیتے تھے، اور غالباً اس نسخے کا تعویذ کے طور پر استعمال ہوتا ہے کیونکہ مریض نسخہ لے کر بغیر دوا کے وہاں سے چلا جاتا تھا۔

مصنف بھی وہاں بیٹھ گئے اور ڈاکٹر صاحب کو کچھ دیر بعد اطلاع ملی کہ دراصل یہ مصنف ڈپٹی کمشنر ہیں۔ جوں ہی ڈاکٹر کو گاؤں کے نمبردار نے اطلاع دی مصنف ڈپٹی کمشنر ہیں تو ڈاکٹر صاحب بھاگ کر اپنے کوارٹر میں گئے اور کچھ دیر بعد بنیان کے اوپر شیروانی پہنے اور ہاتھ میں اسٹیتھو سکوپ لے کر برآمد ہوئے۔

مصنف نے پھر اسپتال کا دورہ کیا تو انھیں گمان ہوا کہ اسپتال کے انڈوروارڈ میں ڈاکٹر کی بھینس باندھی جاتی ہے کیونکہ انھیں کو وہاں ایک کونے میں تازہ گوبر کے نشان نظر آئے ، جنہیں ابھی ابھی صاف کیا گیا ہو۔ واپسی پر ڈاکٹر صاحب نے مصنف کو وزیٹر بک پیش کی کہ اس میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔ مصنف نے اپنی رائے کا اظہار کیا اور لکھا :
” دنیائے طب میں یہ ہسپتال سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں مریضوں کے لئے بھینس کے خالص دودھ کا بھی انتظام ہے کیونکہ وارڈ میں بھینس بندھی ہوئی ہے۔ گوبر بھی وقت پر اٹھایا جاتا ہے اور مکھیوں کی آمد و رفت پر بھی کوئی پابندی عائد نہیں ہے۔ “

چند ماہ بعد جب ڈپٹی کمشنر نے دوبارہ ڈسپنسری کا دورہ کیا تو وہ ڈاکٹر صاحب کی بھینس سے بدستور وہاں بندھی ہوئی تھی لیکن جس ورق پر ان کے پہلے معائنے کی رائے درج تھی وہ غائب تھا۔

Advertisement


اس کہانی کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

سوال نمبر 2 : درج ذیل الفاظ اپنے جملوں میں استعمال کیجئے۔

الفاظجملے
خندہ پیشانیہمیں اپنے بڑوں کے سامنے خندہ پیشانی سے پیش آنا چاہیے۔
حکمتبڑوں کی بات ماننے میں ہی حکمت ہے۔
دور افتادہ مجھے دور افتادہ گاؤں میں گھومنے کا بہت شوق ہے۔
سرعتجب علی کا پسندیدہ کھانا بنا ہوتا ہے تو وہ سرعت سے کھانا کھانے پہنچ جاتا ہے۔
خوشنودیہمیں اللہ تعالی کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے تمام انسانوں کی مدد کرنی چاہیے۔
فی البدیہہمصنف نے فی البدیہہ اپنی رائے کا اظہار کیا۔

سوال نمبر 3 : درست جواب پر (درست ✓) نشان لگائیے :

(الف) ڈاک بنگلے کی رعایت سے یاد آگئی :

(۱) ایک ڈسپنسری ✔
(۲) ایک عمارت
(۳) ایک مسجد
(۴) ایک گاڑی

Advertisement

(ب) مصنف کی وضع قطع میں کوئی علامت موجود نہیں تھی :

(۱) ڈپٹی کمشنر کی ✔
(۲) ڈپٹی ڈائریکٹر کی
(۳) ڈپٹی سیکریڑی کی
(۴) ڈپٹی کنٹرولر کی

Advertisement

(ج) آنکھ سب کچھ دیکھتی ہے :

(۱) پتھر کی
(۲) انسان کی ✔
(۳) حیوان کی
(۴) فرشتے کی

Advertisement

(د) جو اصطبل نظر آیا وہ دراصل تھا :

(۱) ڈاک بنگلا
(۲) ڈاک خانہ
(۳) اسپتال ✔
(۴) عجائب گھر

Advertisement

(ہ) ڈسپنسری کا آخری معائنہ ہوا تھا :

(۱) 1930 میں
(۲) 1931 میں ✔
(۳) 1932 میں
(۴) 1933 میں

Advertisement

سوال نمبر 4 : درست الفاظ لکھ کر خالی جگہیں پُر کیجیے :

  • (الف) ڈاکٹر صاحب دھوتی اور بنیان پہنے کرسی پر (اُکڑوں) بیٹھے تھے۔
  • (ب) مریض اپنی (بساط) کے مطابق اپنے مرض کی خود تشخیص کرتا ہے۔
  • (ج) غالباً یہ نسخہ (تعویذ) کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔
  • (د) مجھے وہم ہونے لگتا ہے کہ میں ضلع (جھنگ) کا ڈپٹی کمشنر لگ گیا ہوں۔
  • (ہ) ڈاکٹر صاحب پورے (نو) برس سے مسیحائی فرما رہے تھے۔

سوال نمبر 5 : درست بیان پر (درست ✓ ) کا نشان لگائیے :

  • (الف) چینی کے بنے ہوئے ظروف 150 سال پرانے تھے۔ (✖)
  • (ب) اسپتال کے وارڈ میں ڈاکٹر صاحب کی بھینس باندھی جاتی تھی۔(✔)
  • (ج) انسان کی آنکھ عموماً ترچھی ہوتی ہے۔(✖)
  • (د) یہاں پر دوائیوں کی جگہ تعویذوں سے علاج کیا جاتا ہے۔ (✖)
  • (ہ) وارڈ میں بکری باندھنے کا بھی بندوبست ہے۔ (✖)

سوال نمبر 6 : گزشتہ کل صبح سے رات تک کے واقعات لکھیے۔

کل سویرے مجھے میری والدہ نے فجر کی اذان کے وقت جگا دیا۔ نماز پڑھ کر میں چہل قدمی کرنے چھت پر چلا گیا۔ کچھ دیر بعد نیچے آکر میں نے ناشتہ کیا اور گھر کے کاموں میں امی کی مدد کرنے لگا۔ اس کے بعد میں نے کچھ وقت اپنے گھر والوں کے ساتھ گزارا اور پھر لاک ڈاؤن کی وجہ سے جو لوگ اپنے کاموں سے محروم ہوچکے ہیں ان میں سے کچھ لوگوں کے گھر کھانا دینے گیا۔ وہاں سے واپس آکر میں نے دوپہر کا کھانا کھایا اور ظہر کی نماز ادا کر کے کچھ دیر آرام کرنے کی غرض سے لیٹ گیا۔ پھر میں کچھ دیر بعد اٹھا اور کوچنگ چلا گیا۔ کوچنگ میں ہی عصر کی نماز ادا کی اور وہاں سے واپس آکر مغرب کی نماز پڑھنے کے بعد امی کا منگوایا ہوا سامان لے کر گھر آگیا۔ کچھ دیر بعد میں نے ٹیوشن کے ایک بچے کو پڑھایا اور پھر رات کا کھانا کھا کر میں نے عشاء کی نماز ادا کی۔ اس کے بعد میں پڑھنے لگا۔ پڑھائی مکمل کرنے کے بعد کچھ دیر میں نے موبائل استعمال کیا اور پھر سوگیا۔

Advertisement

Advertisement
Advertisement

Advertisement