Advertisement

سبق : مولوی عبد الحق
مصنف : شاہد احمد دہلوی
ماخوذ از : بزم ہم خوش نفساں

Advertisement

تعارفِ سبق : سبق ” مولوی عبد الحق “ کے مصنف کا نام ”شاہد احمد دہلوی“ ہے۔ یہ سبق کتاب ”بزم ہم خوش نفساں“ سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

Advertisement

تعارفِ مصنف

شاہد احمد دہلوی 22 مئی 1906ء کو دلّی میں پیدا ہوئے۔ یہ مولوی نذیراحمد کے پوتے اور مولوی بشیرالدین کے بیٹے تھے۔ ان کے والد ریاست حیدرآباد میں ملازم تھے۔ لہٰذا ابتدائی تعلیم وہیں ہوئی لیکن اس کے بعد وہ علیگڑھ آئے اور دلّی منتقل ہوگئے۔ عربک اسکول سے انہوں نے دسویں درجے کا امتحان پاس کیا، پھر لاہور چلے گئے۔ جہاں کے فورمین کرسچن کالج میں داخلہ لیا۔ ڈاکٹر بننا چاہتے تھے۔ ایف ای سی کے بعد میڈیکل میں داخلہ بھی لیا۔ لیکن مردوں کے پوسٹ مارٹم جیسے مناظر سے سخت گھبرائے اور بالآخر ڈاکٹر بننے کا ارادہ ترک کردیا۔

Advertisement

خلاصہ

اس سبق میں مصنف مولوی عبد الحق کے بارے میں بتارہے ہیں وہ کہتے ہیں کہ آپ نے حیدرآباد دکن میں انجمن ترقی اردو کو فروغ دیا۔ آپ نے عثمانیہ یونیورسٹی کا منصوبہ بنایا۔ پھر اس یونی ورسٹی میں آپ نے دارالترجمہ قائم کیا اور اس میں اعلیٰ قابلیت کے مترجم جمع کیے۔

جب گاندھی جی اردو کی جان کو آگئے اور اردو کے راستے میں ہندی کو اہمیت دینے لگے تو مولوی صاحب نے انجمن ترقی اردو کا دفتر اورنگ آباد سے دلی منتقل کردیا اور وہاں اردو کو فروغ دینے لگے۔ جب مولوی صاحب نے اردو کی خاطر گاندھی جی سے ٹکر لی تو آپ اردو کے قائداعظم بن گئے اور بابائے اردو کہلانے لگے۔

Advertisement

مولوی صاحب نفاست پسند انسان تھے۔ آپ ہمیشہ شیروانی ، ترکی ٹوپی اور بڑا پچامہ زیب تن کرتے تھے۔ آپ کبھی بھی سوٹ میں نہیں پائے گئے۔ آپ عمدہ کھانا تناول فرماتے اور ایک وقت میں بہت سے کھانے آپ کے دستر خوان پر موجود ہوتے تھے۔ آپ کی خوشی مذاقی کا اندازہ اس واقع سے ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی دعوت بمبئی کے ایک رئیس نے کی۔ میزبان کو معلوم تھا کہ آپ کھانے کے بعد موسم کا پھل ضرور کھاتے ہیں۔ لہذا کھانا تناول فرمانے کے بعد میزبان نے آواز لگائی کہ پھل لاؤ تو نوکروں نے گنڈیری لا کر رکھ دی۔ مولوی صاحب نے میزبان کا دل رکھنے کے لیے ایک آدھ گنڈری اٹھا لی اور وہاں سے رخصت ہو کر اپنے ساتھیوں سے کہتے رہے کہ : ” کہو تم نے کتنے فُٹ پھل کھایا؟ اور تم نے کتنے گز پھل کھایا؟“ اور ہنستے رہے۔ مولوی صاحب نے پاکستان میں ایک کالج بنوایا اور اسے وزارتِ تعلیم سے منظور کروالیا۔ اور یہ طے پایا کہ یہاں اردو میں پرچے دئیے جائیں گے۔ پھر آپ نے ایک یونی ورسٹی بنوانے کا ارادہ کیا لیکن چونکہ حکومتِ وقت اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کے خلاف تھی تو آپ کا ساتھ کسی سرمایہ دار نے نہ دیا اور آپ کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔

سوال ۱ : مولوی عبدالحق نے ریاست حیدر آباد دکن میں کیا اہم خدمات انجام دیں؟

جواب : آپ نے حیدرآباد دکن میں انجمن ترقی اردو کو فروغ دیا۔ آپ نے عثمانیہ یونیورسٹی کا منصوبہ بنایا۔ پھر اس یونی ورسٹی میں آپ نے دارالترجمہ قائم کیا اور اس میں اعلیٰ قابلیت کے مترجم جمع کیے۔

Advertisement

سوال ۲ : مولوی عبدالحق نے انجمن ترقی اردو کا دفتر اورنگ آباد سے دلی کیوں منتقل کیا؟

جواب : جب گاندھی جی اردو کی جان کو آگئے اور اردو کے راستے میں ہندی کو اہمیت دینے لگے تو مولوی صاحب نے انجمن ترقی اردو کا دفتر اورنگ آباد سے دلی منتقل کردیا اور وہاں اردو کو فروغ دینے لگے۔

سوال ۳ : مولوی عبدالحق کو بابائے اردو کیوں کہا جاتا ہے؟

جواب : جب گاندھی جی اردو کی جان کو آگئے اور اردو کے راستے میں ہندی کو اہمیت دینے لگے تو مولوی صاحب نے انجمن ترقی اردو کا دفتر اورنگ آباد سے دلی منتقل کردیا اور وہاں اردو کو فروغ دینے لگے۔ جب مولوی صاحب نے اردو کی خاطر گاندھی جی سے ٹکر لی تو آپ اردو کے قائداعظم بن گئے اور بابائے اردو کہلانے لگے۔

Advertisement

سوال ۴ : مولوی صاحب کی نفاست پسندی اور خوش مذاقی کے واقعات بیان کیجیے۔

جواب : مولوی صاحب نفاست پسند انسان تھے۔ آپ ہمیشہ شیروانی ، ترکی ٹوپی اور بڑا پچامہ زیب تن کرتے تھے۔ آپ کبھی بھی سوٹ میں نہیں پائے گئے۔ آپ عمدہ کھانا تناول فرماتے اور ایک وقت میں بہت سے کھانے آپ کے دستر خوان پر موجود ہوتے تھے۔ آپ کی خوشی مذاقی کا اندازہ اس واقع سے ہوتا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کی دعوت بمبئی کے ایک رئیس نے کی۔ میزبان کو معلوم تھا کہ آپ کھانے کے بعد موسم کا پھل ضرور کھاتے ہیں۔ لہذا کھانا تناول فرمانے کے بعد میزبان نے آواز لگائی کہ پھل لاؤ تو نوکروں نے گنڈیری لا کر رکھ دی۔ مولوی صاحب نے میزبان کا دل رکھنے کے لیے ایک آدھ گنڈری اٹھا لی اور وہاں سے رخصت ہو کر اپنے ساتھیوں سے کہتے رہے کہ : ” کہو تم نے کتنے فُٹ پھل کھایا؟ اور تم نے کتنے گز پھل کھایا؟“ اور ہنستے رہے۔

سوال ۵ : مولوی صاحب نے پاکستان میں اردو کی کیا خدمات انجام دیں؟

جواب : مولوی صاحب نے پاکستان میں ایک کالج بنوایا اور اسے وزارتِ تعلیم سے منظور کروالیا۔ اور یہ طے پایا کہ یہاں اردو میں پرچے دئیے جائیں گے۔ پھر آپ نے ایک یونی ورسٹی بنوانے کا ارادہ کیا لیکن چونکہ حکومتِ وقت اردو کو ذریعہ تعلیم بنانے کے خلاف تھی تو آپ کا ساتھ کسی سرمایہ دار نے نہ دیا اور آپ کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی۔

Advertisement

سوال ٦ : مندرجہ ذیل محاورات کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے :

ناک کا بال بن جانا مولوی صاحب وہاں کے معززین کے ناک کے بال بن گئے تھے۔
مٹھی میں کر لینا مولوی صاحب نے وہاں کے لوگوں کو اپنی مٹھی میں کرلیا تھا۔
بکھیڑوں میں الجھنا مولوی صاحب شادی کے بکھیڑوں میں نہیں الجھنا چاہتے تھے۔
ہاتھ بٹانا ہمیں اپنے بڑوں کے کام میں ان کا ہاتھ بٹانا چاہیے۔
بےچون وچرا اسلام پر بے چون و چرا عمل کرنا ہی مومن کی نشانی ہے۔
پیشوائی کرنا مولوی صاحب وہاں کے لوگوں کی پیشوائی کرتے تھے۔

سوال ۷ : آپ کو جتنے امدادی فعل یاد آئیں ان کی مدد سے جملے بنائیے۔

۱) علی کتاب پڑھ سکتا ہے۔
۲) نواب کتاب پڑھنا چاہتا ہے۔
۳) عامر کو کتاب پڑھنی چاہیے۔
۴) انوشہ بیٹھ سکتی ہے۔
۵) علیزہ کو پکڑنا پڑے گا۔

سوال ۸ : اب آپ ان دونوں قسم کے حروف اضراب کو اپنے تین تین جملوں میں استعمال کیجیے۔

۱) میں دال ہی نہیں بلکہ چاول بھی بنانا جانتی ہوں۔
۲) علی فزکس ہی نہیں بلکہ حیاتیات میں بھی بہت اچھا ہے۔
۳) عامر سیب ہی نہیں امرود بھی شوق سے کھاتا ہے۔

۱) میں نہ صرف دال بلکہ چاول بھی بنانا جانتی ہوں۔
۲) علی نہ صرف فزکس بلکہ حیاتیات میں بھی بہت اچھا ہے۔
۳) عامر نہ صرف سیب بلکہ امرود بھی شوق سے کھاتا ہے۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement

Advertisement