سوال نمبر 1: اس کہانی کا خلاصہ اپنے الفاظ میں تحریر کیجیے۔

خلا اس کو کہتے ہیں جو ہمارے سر کی سطح سے اوپر ہوتا ہے۔ یہ زمین سے 60 کلومیٹر اوپر ہوا میں پایا جاتا ہے۔ اس کے تین سو کلومیٹر کے بعد یہ سب چیزیں ختم ہو جاتی ہیں۔ اس کے آگے ایک بے کنار اور انسانی کائنات ہے جہاں آواز، ہوا، پانی، روشنی کچھ بھی نہیں ہے۔

خلا پرواز کی ابتداء روس نے کی تھی اور اس نے 4 اکتوبر 1957ء میں اپنا خلائی جہاز اسپوتنک اول کو خلا میں بھیجنے کا خیال آیا اس نے اپنا خلائی جہاز اسپوتینگ اول خلا میں بھیجا۔اس کامیابی کے بعد اسے انسانوں کو خلاء میں بھیجنے کا خیال آیا چنانچہ روس نے ہی اپنے دوسرے خلائی جہاز اسپوتینگ دوم کے ذریعے لائیکا نام کی کتیا کو خلا میں بھیجا۔

سب سے پہلے جو انسان خلائی سفر پر گیا وہ روسی خلا باز یوری گگارین تھا۔ پھر روس کی ہی ایک خاتون ویلینٹنا ترشیکوا گئی۔ اس کے بعد امریکا کی تین خواتین خلا میں گئیں۔ ان کے نام اس طرح ہیں سیلی رائڈ۔کیھتی سلیوان۔،جوڈتھہ ریجنک ہیں۔ہندوستان کی سب سے پہلی خلا باز خاتون ہریانہ کی کلپنا چاؤلا ہے۔ کلپنا چاؤلا دوسری بار 16 جنوری 2003 کو امریکی خلائی شٹل کولمبیا کے ذریعے دیگر خلا بازوں کے ساتھ خلا میں بھی ان کے ساتھ ایک امریکی خاتون لاری بھی تھی اور وہ خلا میں 16 دن رکی اور پھر بہت سارے تجربات لے کر واپس ہوئی۔

2003 میں زمین پر اترنے سے کچھ منٹ پہلے اس شٹل میں کچھ ہو گیا تھا جس کی وجہ سے یہ کسی حادثے کا شکار ہوگیا۔ اس میں موجود تمام خلابازوں کی موت ہوگئی لیکن کلپنا چاؤلا نے اپنے اس قول کو سچ کر دکھایا کہ میں خلا کے لیے بنی ہوں۔ان کی قربانی ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

اس کہانی کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

سوال نمبر2: خالی جگہوں کو پُر کیجئے۔

  • 1۔ یہ دراصل ( انسان) کو خلا میں بھیجنے کی ( تیاری )تھی۔
  • 2۔ خلا بازی کی ( مہم) میں عورتیں بھی (مردوں سے کسی طرح بھی پیچھے) نہیں رہیں۔
  • 3۔ امریکہ کی ( 3 ) خواتین کامیابی کے ساتھ ( خلا) کا سفر کرچکی ہیں۔
  • 4۔ ( کلپنا چاولا ) پہلی ہندوستانی خلاباز ہے۔
  • 5۔ ان خوابوں کو پورا کرنا ہی ( اس ) نے اپنی زندگی کا ( مقصد ) بنا لیا تھا۔
  • 6۔ ان کی اس (عظیم) قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

سوال نمبر 3: نیچے لکھے ہوئے محاورات اور الفاظ کو جملوں میں استعمال کیجئے۔ ﴿پہل کرنا، خواب دیکھنا، ٹھان لینا، خلا، پرواز، آلات﴾

الفاظجملے
پہل کرنروس نے خلا میں جانے کی پہل کی۔
خواب دیکھناہمیں اونچے خواب دیکھنے چاہیے اور ان کو پورا کرنے کی جدوجہد میں لگ جانا چاہیے۔
ٹھان لینامیرے بھائی نے ٹھان لی ہے کہ وہ آگے چل کر چلتا نہیں بنے گا۔
خلاخلا ایک بے کنار اور سنسان کائنات ہے۔
پروازانسانوں کا کام آسمان میں پرواز کرنا ہے۔
آلاتکسان اپنی زمین کو جوتتے وقت بہت سارے آلات کا استعمال کرتا ہے۔

سبق میں مرکب لفظ ‘سائنس داں’ کا استعمال ہوا ہے جس کا مطلب ہے سائنس جاننے والا۔ اسی طرح داں لگا کر مزید پانچ مرکب الفاظ لکھیے۔

روشن داں۔ پھول داں۔ کنیا دان۔ آب دان۔ نادان۔

سوال نمبر 5: خلا سے متعلق اہم معلومات اپنی کاپی میں لکھیے۔

جواب: خلا اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ایک عجیب و غریب چیز ہے اس کے متعلق پوری طرح جانکاری حاصل کرنا بہت ہی مشکل کام ہے۔ خلا ایک بے کنار کائنات ہے جہاں آواز ہوا پانی روشنی کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ وہ خطہ ہے جہاں زمین کی کشش ثقل کا اثر نہیں ہوتا ہے۔سائنسدانوں نے کافی کوشش کے بعد خلائی پرواز کی ہے۔

سوال نمبر 6: کلپنا چاؤلا کے بارے میں پانچ جملے لکھیے۔

جواب: کلپنا چاؤلا کی پیدائش ہریانہ کے ضلع کرنال میں یکم جولائی 1961ء کو متوسط خاندان میں ہوئی۔ ان کے والد محترم کا نام بنوری لعل چاؤلا تھا اور وہ ایک چھوٹے بیوپاری ہیں۔ کلپنا کی ماں ایک گھریلو عورت تھی۔ ‏ کلپنا ارادے کی مضبوت تھیں۔ 1997ء میں کلپنا کو پہلی بار امریکی خلائی ایجنسی ناسا کے اسپیس شٹل کے ذریعے خلا میں جانے کا موقع ملا۔ اس وقت کے وزیراعظم مسٹر اندر کمار گجرال نے فون پر بات کرتے ہوئے دیا تھا میں نے سنا ہی تھا لیکن آج اس کو دیکھ رہی ہوں۔