Advertisement

سوال: مندرجہ ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔

⭕️اقتباس: محمود بہت محنتی طالب علم ہے۔ ویسے تو اپنا ہوم ورک کسی سے لکھوا کر مجھے دکھا سکتا ہے، مگر وہ دوسروں کا سہارا لینا پسند نہیں کرتا۔ وہ آج کل بڑی لگن سے ٹائپ سیکھنے میں لگا ہوا ہے۔ تاکہ وہ ہماری تحریر میں ہی ہوم ورک کر سکے اور امتحان دے سکے۔ رہی آنے جانے کی بات تو ایک بار تم لوگ اسے کلاس اور لائبریری وغیرہ کے راستے کو بتا دو گے تو پھر وہ اپنی سفید چھڑی کی مدد سے خود ہی راستہ ڈھونڈ لے گا۔

Advertisement

حوالہ: یہ اقتباس ہماری نصابی کتاب ”جان پہچان“ میں شامل ہے اور سبق مکالمہ "نئی روشنی” سے لیا گیا ہے۔

Advertisement

تشریح: محمود(اندھا طالب علم) بہت محنت کرنے والا طالب علم ہے، وہ چاہے تو اسکول میں ملنے والا گھر کا کام کسی دوسرے سے لکھوا کر بھی مجھے دکھا سکتا ہے۔ مگر وہ اندھا ہونے کے باوجود کسی دوسرے کی مدد لینا پسند نہیں کرتا۔ ماسٹر صاحب آگے کہتے ہیں کہ محمود آج کل بہت محنت اور دلچسپی کے ساتھ ٹائپ سیکھنے میں لگا ہوا ہے۔ تاکہ وہ ہماری لکھاوٹ میں گھر کا کام کر سکے اور اپنا امتحان بھی دے سکے۔ رہی آنے جانے کی بات تو یہ ہے کہ اگر تم محمود کو کلاسوں اور لائبریری (کتب خانہ) کا راستہ بتا دو گے تو وہ اپنی سفید چھڑی کی مدد سے خود ہی وہاں پہنچ جایا کرے گا۔

Advertisement

⭕️غور کیجئے۔

▪️ ہمارے جسم میں آنکھیں بہت اہمیت رکھتی ہیں۔
▪️ہم ان آنکھوں کے ذریعہ ہر چیز دیکھ سکتے ہیں۔
▪️ہمارے جسم میں وٹامن اے کی کمی ہو جانے پر آنکھیں کمزور ہو سکتی ہے۔
▪️ہمیں آنکھوں کی کمزوری کو دور کرنے کے لیے پھل اور ہری سبزیوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہیئے۔

⭕️سوالات و جوابات:

سوال 1: کلاس میں بچے کس بات پر حیرت زدہ تھے؟

جواب : بچے اس بات پر حیرت کر رہے تھے کہ روز کی طرح کلاس میں شور نہیں ہے۔ اسلم اور جاوید کی بات بلکل صاف سنائی دے رہی ہے کہ کلاس میں ایسے لڑکے کو داخلہ ملا ہے جو اندھا ہے۔

Advertisement

سوال 2: بریل ایجاد کرنے والے کا نام کیا تھا؟

جواب : بریل ایجاد کرنے والے فرانس کے "لوئی بریل” تھے۔

سوال 3: بریل کے ذریعے پڑھائی کس طرح ہوتی ہے؟

جواب : ایک خاص آلے (بریل) کے ذریعے موٹے کاغذ پر حروف کو ابھارا جاتا ہے۔ جنہیں تھوڑی تربیب کے بعد انگلی سے چھو کر پڑھ سکتے ہیں۔ بریل میں چھ نقطے ہوتے ہیں۔ جن کو کئی طرح سے ملا کر حروف ابھارے جاتے ہیں۔ دنیا کی کوئی بھی زبان اس تحریر میں لکھی اور پڑھی جا سکتی ہے۔

Advertisement

سوال 4: لوگ سفید چھڑی کیوں رکھتے ہیں؟

جواب : سفید چھڑی اندھے لوگوں کی پہچان ہے۔ اسے دیکھ کر لوگ انہیں خود راستہ دے دیتے ہیں۔

سوال 5: آنکھوں کی حفاظت کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہئے؟

جواب : آنکھوں کی حفاظت کے لیے ہمیں ہری سبزیاں، گاجر، پھل، کدو وغیرہ کا زیادہ سے زیادہ استعمال کرنا چاہئے۔

Advertisement

⭕️ نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجئے۔
موسیقار۔ حیرت زدہ۔ مقدار۔ وقفہ۔ اخبار نویس۔ عہدہ۔ آلہ

موسیقار:نوشاد بہت بڑے موسیقار تھے۔
حیرت زدہ:عجیب چیزوں کو دیکھ کر میں حیرت زدہ رہ گیا۔
مقدار:ہر چیز کی کوئی نا کوئی مقدار ہوتی ہے۔
وقفہ:مدرسے کے وقفہ میں ہم کھانا کھاتے ہیں۔
اخبار نویس :حسن کامیاب اخبار نویس ہے۔
عہدہ :محنت اور قابلیت سے اچھا عہدہ ملتا ہے۔
آلہ :ادیب کے لیے قلم سب سے بڑا آلہ ہے۔

⭕️ اسم کی تعریف کریں، اور سبق سے پانچ اسم تلاش کریں:

کسی بھی چیز کے نام کو اسم کہتے ہیں۔
اسکول۔ پیڑ۔ کلاس۔ اسلم۔ جاوید

⭕️خالی جگہوں کو بھریے۔

1▪️ان کے….. اسکول….. الگ ہوتے ہیں۔ (گھر/اسکول/ہاسٹل)
2▪️کم روشنی میں نہیں….. پڑھنا….. چاہیے۔ (سونا/کھانا/ پڑھنا)
3▪️ارے واہ، یہ تو بہت….. مزے دار….. بات ہوگی۔ ( خراب/مزے دار/بیکار)
4▪️ان سب باتوں کا خیال رکھنے سے تمہاری آنکھیں….. محفوظ….. رہ سکتی ہیں۔ ( اچھی/ محفوظ/بہتر)

Advertisement

⭕️عملی کام:

بینائی کی حفاظت کس طرح کی جا سکتی ہے، اس پر پانچ جملے لکھیں؟

1▪️ہمیں کم روشنی میں نہیں پڑھنا چاہئے۔
2▪️پھل، ہری سبزیاں خوب کھانا چاہئے۔
3▪️گندگی اور گردو غبار سے بچنا چاہئے۔
4▪️آنکھوں کو صاف پانی سے دھونا چاہئے۔
5▪️ آنکھوں کو صاف ستھرے کپڑے سے صاف کرتے رہنا چاہتے۔

Advertisement
تحریر :ارمش علی خان محمودی بنت محمد طیب عزیز محمودی

Advertisement

Advertisement

Advertisement