سوال نمبر 1: اس نظم کا خلاصہ تحریر کیجئے۔

اس نظم میں شاعر نے نے ہندو اور مسلمان دونوں کے تہواروں کا ذکر کیا ہے شاعر کہتے ہیں کہ دیوالی کے موقع پر تمام ہندو بھائیوں کے گھروں میں چراغ جل رہے ہوتے ہیں اور عید پر مسلمانوں کے گھر پر بہت خوشی ہوتی ہے لوگ ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں۔

انگریزوں نے ہماری تاریخ کو مسخ کر دیا یا یہاں کے لوگوں میں جو آپس میں پیار ، محبت اور امن تھا ، اس کے بدلے میں ان کے دل میں نفرت پیدا کر دی۔ اور اس نظم میں شاعر کہتا ہے کہ اے ہندوستان ہم تیری تاریخ دوبارہ لکھیں گے۔ ہمارے ملک جو محبت تھی ہندو اور مسلمانوں کی آپس میں بھائی چارگی تھی وہ سب ہم دوبارہ واپس لے کے آئیں گے۔

گوتم ،چشتی اور گرو نانک جیسے بزرگوں نے ہندوستان میں امن و شانتی کا درس دیا۔ آج ہمارا ملک انگریزوں کی حکومت سے آزاد ہے اور ان کے ذہن بھی آزاد ہیں۔ ہم ان کے تعصب سے نکل گئے ہیں۔ ہم سب کا ایک ہی وطن ہے اورسب کی زمین ایک ہے۔

اس نظم کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

سوال نمبر2: نیچے لکھے ہوئے بند کو مکمل کیجیے۔

”تیری ( تاریخ )ہے قرآن کا، گیتا کا ورق۔
آشتی،امن ،( اہنسا ) کے اصولوں کا (سبق )
دہر سے اپنا مقابل کوئی اب تک ( نہ اُ ٹھا )
کوئی گوتم، کوئی چشتی، کوئی( نانک ) نہ اٹھا۔“

سوال نمبر 3: نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجئے۔

الفاظجملے
اجالےہر کام کو اجالے میں کرنا چاہیے۔
اجنبیاجنبی لوگوں سے دور رہنا چاہیے۔
نفرتہمیں برے کاموں سے نفرت کرنی چاہیے۔
چالاکشاہد پوری کلاس میں سب سے چالاک بچہ ہے۔
وفامیں نے آپ سے وفا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
امنہمارے ملک میں امن وامان ہے۔
آزادہمارا ملک ایک آزاد ملک ہے۔

سوال نمبر4: ان لفظوں کی جمع لکھیے۔

واحدجمع
تہمتتہمات
فرنگیفرنگیوں
فکرافکار
عملاعمال
جذبہجذبات

سوال نمبر 5: اس نظم میں شاعر نے جن خیالات کا اظہار کیا ہے انہیں اپنے لفظوں میں لکھیے۔

اس نظم میں شاعر نے ہندوستان میں رہنے والے ہندؤں اور مسلمانوں کا ذکر کیا ہے۔کس طرح وہ آپس میں مل جل کر اپنے اپنے تہوار مناتے تھے۔ لیکن لوگوں کے درمیان پیارومحبت کو مکار اور چالاک سیاست نے نفرت اور عداوت میں تبدیل کر دیا۔ اس طرح ہماری تاریخ بدل گئی۔ انگریزوں نے یہاں تعصب کا بیج بویا۔اس ملک میں تمام تہوار چاہے وہ عید ہو یا دیوالی دونوں ایک دوسرے کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں۔