نظیر اکبرآبادی کے حالات زندگی اور ادبی خدمات پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تعارفِ نظم

یہ بند ہماری درسی کتاب کی نظم ”برسات کا تماشا“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام نظیر اکبر آبادی ہے۔ یہ نظم کلیاتِ نظیر اکبر آبادی سے ماخوذ کی گئی ہے۔

تعارفِ شاعر

نظیر اکبر آبادی کا نام ولی محمد اور تخلص نظیر تھا۔ اردو، فارسی زبان پر انھیں دست رس حاصل تھی۔ نظیر اردو کے پہلے شاعر ہیں جنھوں نے نظمیہ شاعری کو فروغ دیا۔ وہ ایک خالص عوامی شاعر تھے۔ ”برسات کی بہاریں، آدمی نامہ، ہنس نامہ، اور بنجارہ نامہ“ وغیرہ آپ کی معروف نظمیں ہیں۔

بند نمبر 1

خورشید گرم ہو کر نکلا ہے اپنے گھر سے
لیتا ہے مول بادل کر کر تلاش زر سے
آئی ہوا بھی لے کر بادل کو ہر نگر سے
آدھے اساڑھ تو اب دشمن کے گھر سے برسے
آ یار چل کے دیکھیں ، برسات کا تماشا

تشریح

مندرجہ بالا بند میں شاعر بارش ہونے سے قبل کے منظر کی منظر کشی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب سورج اپنے گھر سے گرم ہو کر نکلتا ہے تو اس کی کرنوں سے سمندر کا پانی بھاپ بن کر آسمان میں پرواز کرجاتا ہے۔ پھر ہوا ہر جگہ سے بادل کو لے کر آتی ہے اور بارش برسنے لگتی ہے۔ اس شعر میں شاعر اپنے احباب کو بارش سے لطف اندوز ہونے کی دعوت بھی دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ آدھا مہینہ تو بارش ادھر ادھر برستی رہی اب ہمارے علاقے میں برسات ہورہی ہے تو ہمیں اس موقع کا فائدہ اٹھا کر بارش سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔

بند نمبر 2

قاصد صبا کے دوڑے ہر طرف منہ اٹھا کر
ہر کوہ و دشت کو بھی کہتے ہیں یوں سنا کر
ہاں سبز جوڑے پہنو ہر دم نہا نہا کر
کوئی دم کو میگھ راجا دیکھے گا سب کو آکر
آ یار چل کے دیکھیں ، برسات کا باریک

تشریح

اس بند میں شاعر کہتے ہیں کہ ہوا ہر طرف جاکر بارش کی خبر دے دیتی ہے۔ بارش سے پہلے ہوا کی نمی سے ہمیں بھی بارش کی آمد محسوس ہوجاتی ہے اور ہوا کوہ و دشت میں جا کر بھی یہ پیغام دے دیتی ہے کہ اب بارش ہونے والی ہے سب بارش میں نہا دھو کر ہرے بھرے ہوجاؤ۔

بند نمبر 3

جب یہ نوید پہنچی صحرا میں ایک باری
ہونے لگی وہاں پھر برسات کی تیاری
چشموں میں کوہ کے بھی ہوئی سب کی انتظاری
موسم کے جانور بھی آتے ہیں باری بار
آ یار چل کے دیکھیں ، برسات کا تماشا

تشریح

زیرِ نظر بند میں شاعر کہتے ہیں کہ جب بارش کی آمد کی نوید ہوا کے ذریعے صحرا میں پہنچتی ہے تو وہاں بھی برسات کی آمد کی تیاری زور و شور سے شروع ہوجاتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ پانی کے چشمے بھی بارش کا انتظار کررہے ہوتے ہیں اور موسم کے تمام جانور بھی بارش سے لطف اندوز ہونے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔

بند نمبر 4

ساون کے بادلوں سے پھر آ گھٹا جو چھائی
بجلی نے اپنی صورت پھر آن کر دکھائی
ہو مست رعد گرجا ، کوئل کی کُوک آئی
بدلی نے کیا مزے کی رم جھم جھڑیلگائی
آ یار چل کے دیکھیں ، برسات کا تماشا

تشریح

اس بند میں شاعر کی مراد یہ ہے کہ جب بارش کا آغاز ہوتا ہے تو آسمان پر ہر طرف کالی گھٹائیں چھا جاتی ہیں۔ بجلی بھی گرجنے لگتی ہے اور آسمان کڑکنے لگتا ہے۔ کوئل بھی اپنی سریلی آواز سے اپنی خوشی کا اظہار کرتی ہے اور پھر بارش کی رم جھم شروع ہوجاتی ہے۔

بند نمبر 5

کالی گھٹا ہے ہر دم برسے ہیں مینھ کی دھاریں
اور جس میں اُڑ رہی ہیں بگلوں کی سو قطاریں
کوئل پپیہے کوکیں اور کُوک کر پُکاریں
اور مور مست ہو کر جوں کُو کِلا چنگاریں
آ یار چل کے دیکھیں ، برسات کا تماشا

تشریح

اس بند میں شاعر کہتے ہیں کہ جب آسمان پر کالی گھٹائیں چھا جاتی ہیں اس کے بعد برسات کا آغاز ہوتا ہے جس میں بگلوں کی قطاریں بھی اڑتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ بارش کے دوران کوئل بھی خوشی کا اظہار کرتی ہے اور مور بھی اپنے پر پھیلا کر ناچنے لگتے ہیں اور چنگھارنے لگتے ہیں۔ غرض ہر کوئی اپنے اپنے طریقے سے برسات سے لطف اندوز ہوتا ہے۔

بند نمبر 6

بنگلے سبھوں نے ہرجا اونچے چھوائے رز دے
میوے مٹھائی انبہ انگور اور سردے
پکوان تازے تازے خاصے پلاؤ زردے
برست سے ابر باراں کھلوادیے ہیں پردے
آ یار چل کے دیکھیں ، برسات کا تماشا

تشریح

اس نظم کے آخری بند میں شاعر بتاتے ہیں کہ برسات کے موسم میں کیا کیا تیاریاں کی جاتی ہیں۔ برسات کے موسم میں میوے، مٹھائی، انبہ، انگور، سردے غرض کہ کئی قسم کے پھل اور میواجات کھائے جاتے ہیں۔ بارش کے دوران تازے تازے مزیدار قسم کے پکوان بھی تیار کیے جاتے ہیں جن میں پلاؤ اور زردے بھی شامل ہوتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ آسمان کا دروازہ کھول دیتے ہیں اور بارش برسنے لگتی ہے۔

اس نظم کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

سوال نمبر 2 : آپ برسات سے کیسے لطف اندوز ہوتے ہیں؟

جواب : ہم بارش سے پہلے مٹی کی بھینی بھینی خوشبو کو محسوس کرتے ہی پکوڑے اور سموسے بنانے کی تیاری کرنے لگتے ہیں۔ بارش شروع ہوتے ہی سب گھر والے چھت پر جا کر بارش سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور پرندوں کے چہچہانے کی آوازیں ہمارے مزے کو دوبالا کردیتی ہیں۔ پھر سب لوگ بیٹھ کر مزے مزے کے پکوان کھاتے ہیں اور آس پاس ہریالی دیکھ کر اللہ پاک کا شکر ادا کرتے ہیں۔

سوال نمبر 3 : درج ذیل جوابات میں درست جواب پر (درست) کا نشان لگائیے۔

(الف) بارش کی وجہ سے تازے تازے موجود ہیں :

  • (۱)پھل
  • (۲)میوے
  • (۳)مٹھائی
  • (۴)پکوان ✔

(ب) کالی گھٹا سے چنگار رہے ہیں۔

  • (۱)ہاتھی
  • (۲)مور ✔
  • (۳)کویل
  • (۴)بگلے

(ج) کالی گھٹا میں اڑ رہی تھیں۔

  • (۱)کوئیلوں
  • (۲)بگلوں ✔
  • (۳)بجلیوں
  • (۴)کوکلوں

(د) صبا سے ہوا مراد ہے۔

  • (۱)سمندر کی ✔
  • (۲)باغ کی
  • (۳)صحرا کی
  • (۴)ریگستان کی

(ہ) بارش میں تیار ہوتے ہیں۔

  • (۱)پھل
  • (۲)پھول
  • (۳)پکوان ✔
  • (۴)لباس

سوال نمبر 4 : سطر (الف) کے الفاظ سے سطر (ب) کے الفاظ کے جوڑے بنائیے۔

(الف) چنگار۔ بادل۔ دشت۔ صبا۔ رعد۔ جھڑی۔
(ب) صحرا۔ گرج۔ مینھ۔ ہوا۔ مور۔ گھٹا۔

سطر (الف)سطر (ب)
چنگارمور
بادلگھٹا
دشتصحرا
رعدگرج
جھڑیمینھ
صباہوا

سوال نمبر 5 : خالی جگہوں کو درست الفاظ سے پُر کیجیے۔

  • (الف) آئی ہوا بھی لے کر (بادل) کو ہر نگر سے۔
  • (ب) ہر کوہ و (دشت) کو بھی کہتے ہیں یوں سنا کر۔
  • (ج) جب یہ نوید پہنچی (صحرا) میں ایک باری۔
  • (د) ہو مست (رعد) گرجا کویل کی کوک آئی۔