Advertisement

انشائیہ بے تکلفی کا خلاصہ

سبق ” بے تکلفی” کنھیا لال کپور کا انشائیہ ہے جس کا آغاز وہ استاد ذوق کے اس مصرعے سے کرتے ہیں کہ اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسر آپ ذوق کے اس مصرعے کی وضا حت کرتے ہوئے تکلف کے فوائد اور بے تکلفی کے نقصانات کو مزاح کے انداز میں بیان کرتے ہیں۔

مصنف کے نزدیک تکلف بے تکلفی سے کئی درجے بہتر ہے کہ اگر جہنم کے دروازے پہ کھڑے دروغہ سے بھی تکلف کی مروت میں مسکرا کر کہیے کہ نہیں جناب پہلے آپ تو عین ممکن ہے آپ کے اخلاق سے متاثر ہو کر وہ جہنم کی بجائے آپ کو جنت میں داخل کر دے۔ لیکن اس کے برعکس اگر جنت کے دروغہ سے آپ بے تکلفی کا رویہ اختیار کریں تو ممکن ہے کہ وہ آپ کو بے تکلفی میں جنت کی نہر میں غوطے دے کر ہی آپ کے اوسان خطا کر دے۔

Advertisement

تکلف کے ایک اور فائدے کو گنواتے ہوئے کہتے ہیں کہ تکلف کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ اس میں ہینگ اور نہ پھٹکری اور رنگ چوکھا والی مثال ہے کہ آپ مہمان نوازی کرتے ہوئے مہمان کو ہزار ہا چیزیں گنوا دیں مگر وہ تکلف کی دیوار نہ ٹاپتے ہوئے شکریہ ، تکلیف کی ضرورت نہیں وغیرہ کہہ کر ٹال دے گا اور آپ کا بھرم بھی برقرار رہے گا۔

Advertisement

دوسری جانب مصنف بے تکلفی کے نقصانات پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتا ہے کہ اگر اپنے بے تکلف دوست یا مہمان سے اگر چائے کا پوچھو گو تو وہ کہیے گا چائے ہی کیوں کھانا بھی کھاؤ گا، کھانے سے پہلے چائے پیو گا لیکن چائے سے قبل سگریٹ پلا دو اور چائے کے ساتھ سموسے ، تلے انڈے اود گاجر کے حلوے وغیرہ کی فرمائش کرے گا۔

Advertisement

بے تکلفی کی ایک اور قباحت گنواتے ہوئے مصنف لکھتا ہے کہ یہ بے تکلفی کبھی کبھار آپ کے لیے باعث شرمندگی بھی ہو سکتی ہے جیسے کہ اگر آپ کسی معزز شخص کی صحبت میں ہوں اس دوران دروازے پر آپ کا کوئی بے تکلف دوست آ جائے اور دروازہ کھولنے کی تاخیر میں اس کی زبان سے بے تکلفی میں بولے جانے والے کلمات شروع ہو جائیں کہ کہاں مر گئے وغیرہ۔ گھر میں داخل ہو کر وہ مہمان کودیکھ کر محض یہ کہہ دے گا کہ معاف کیجئے گا میری ذرا ان سے بے تکلفی ہے۔

اسی طرح بعض دوست بے تکلفی میں ایک دوسرے پر گالیوں کی بوچھاڑ کر دیتے ہیں اور پاس بیٹھے شخص کو مروت میں ا کر ان کی اس بے تکلفی کی ان کو داد دینی پڑتی ہے۔ کچھ بے تکلف دوست تو ناول کے کرداروں جیسے ہوتے ہیں جو محض آپ سے ایک قمیص ہی نہیں اکثر اوقات ساری پوشاک ادھار لے جاتے ہیں۔

Advertisement

مصنف کے بھی اسی طرح کے ایک دوست ہیں جو ان کے پاس آ کر نہ صرف ٹیکسی کا کرایہ ان سے دلواتے ہیں بلکہ جاتے وقت ان کی عدم موجودگی میں کوٹ ، پتلون اور ٹائی وغیرہ لے جاتے ہیں اور نوکر کو اطلاع کر جاتے ہیں چند دن استعمال کے بعد سامان لوٹا دیا جائے گا۔مصنف اپنے ایک اور بے تکلف دوست کا قصہ بیان کرتے ہیں جو ان سے انار کلی بازار میں ملا تو بیچ بازار میں مصافحہ کرنے کی بجائے اتنی بار بغلگیر ہوا کہ راہگیروں نے دانتوں میں انگلیاں دبا لیں۔

حالانکہ وہ ہم سے دو روز ہی قبل مل۔چکے تھے۔ اسی طرح کچھ بے تکلف دوست ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف آدھی رات کو آپ کے گھر آ ٹپکتے ہیں بلکہ کھانے کی فرمائش اور آپ کے گھر رکنے کا مطالبہ اس کے علاوہ ہوتا ہے۔ اپنے ایک بے تکلف دوست کا قصہ بیان کرتے ہیں جنھوں نے اپنے ساتھ باٹا نگر لے جانے کے لیے مصنف کا دہلی کا ریل کا ٹکٹ پکڑ کر پھاڑ ڈالا اور قلی سے سامان اتروا کر زبردستی ساتھ لے گئے۔

Advertisement

اسی طرح ایک صاحب کی بے تکلفی کا قصہ بیان کرتے ہیں جنھوں نے دریا کنارے کھڑے غروب آفتاب سے لطف اندوز ہوتے دوست کو نہ صرف دریا میں دھکا دیا بلکہ اس پہ خوب ہنستے ہوئے بولے واہ کیا خوب چھلانگ لگائی اور اس کے بمشکل تیر کر کنارے پر آنے پر کہنے لگا کہ مجھے معلوم نہ تھا اتںے اچھے تیراک بھی ہو۔آخر میں مصنف نے یہ نتیجہ نکالا کہ تکلف سراسر نفاست جبکہ بے تکلفی کثافت ہے۔ بے تکلفی گز بھر لمبی زبان جبکہ تکلف زیر لب تبسم ہے۔ مصنف کے مطابق استاد ذوق نے غالباً تکلف کو اسی لیے تکلیف کہا ہے کہ انھیں شاید بے تکلف دوستوں سے واسطہ نہ پڑا تھا ورنہ وہ ایسا خیال ہر گز نہ پیش کرتے۔

⭕️ مندرجہ ذیل اقتباسات کی تشریح کیجئے۔

اقتباس 1 :

ہمارے ایک اور بے تکلف دوست ہیں۔ وہ جہاں کہیں ہم سے ملتے ہیں مصافحہ کرنے کی بجائے بار بار بغلگیر ہو کر بے تکلفی کا اظہار کرتے ہیں۔ ایک بار انارکلی میں ملاقات ہوئی۔ بازار کے بیچوں بیچ انہوں نے یہ عملجو دہرانا شروع کیا تو راہگیر دانتوں میں انگلیاں داب کر رہ گئے۔ ہر دو منٹ کے بعد بغلگیر ہو کر کہتے بھئی خوب ملے! یار حد ہو گئی۔ وہ اس انداز سے مجھے اپنے بازو کے شکنجے میں کس رہے تھے گویا برسوں کے بعد ملے ہیں۔ حلانکہ اس ملاقات سے دو دن پہلے مال روڈ پر ملے تھے اور وہاں بھی انہوں نے اسی قسم کی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا تھا۔

Advertisement

حوالہ : یہ اقتباس ہماری کتاب میں شامل ہیں اور سبق مضمون “بے تکلفی” سے لیا گیا ہے اس کے مصنف کا نام کنہیا لال کپور ہے۔
تشریح: کنہیا لال کپور اس اقتباس میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہمارے ایک پرانے اور نہایت بے تکلف دوست ہیں۔ جن کی بے تکلفی سے مجھے کئی بار تکلیف محسوس ہوتی ہے۔ ان کی عادت ہےکہ وہ جب کہیں ملتے ہیں تو بے وجہ بار بار گلے لگاتے ہیں۔ جبکہ صرف مصافحہ سے کام چل سکتا ہے۔ ان کی بار بار گلے لگانے کے عادت بڑی خراب ہے۔ ہماری ان سے انار کلی بازار میں ملاقات ہوئی تو ذرا ذرا سی دیر میں گلے لگا رہے تھے۔ کہ آتے جاتے لوگ حیران ہو رہے تھے۔ اور وہ اس طرح ہمیں اپنے بازؤوں میں جکڑ رہے تھے۔ جیسے ہماری برسوں میں ملاقات ہوئی ہے جبکہ ابھی دو دن پہلے ہی ہم اور وہ مال روڈ پر مل چکے ہیں۔ وہاں بھی انہوں نے گرماگرم انداز میں بار بار گلے لگایا تھا۔

اقتباس 2 :

بعض اوقات بے تکلف احباب ایسی حرکات کے مرتکب ہوتے ہیں کہ بے ساختہ پکار اٹھتے ہیں۔ ہاۓ تکلف! ہاۓ تکلف!! ایک دفعہ مجھے دہلی جانا تھا، گاڑی کے آنے میں دیر تھی۔ پلیٹ فارم پر ٹہل رہا تھا، اتنے میں ایک دوست سے ملاقات ہوگی۔ پوچھنے لگے کہاں جا رہے ہو؟ میں دہلی! کہنے لگے دہلی میں جا کر کیا کرو گے؟ چلو باٹانگر لے چلیں! میں نے معذرت چاہی۔ اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ یک لخت انہوں نے کہا، ذرا ٹکٹ دکھائیے تو، میں نے ٹکٹ دکھا دیا، ٹکٹ لے کر انہوں نے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئیے اور قلی سے کہنے لگے، صاحب کا سامان واپس لے چلو، انہوں نے دہلی جانے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔

Advertisement

حوالہ : یہ اقتباس ہماری کتاب میں شامل ہیں اور سبق مضمون “بے تکلفی” سے لیا گیا ہے اس کے مصنف کا نام کنہیالال کپور ہے۔

تشریح: کنہیا لال کپور اس اقتباس میں یہ کہنا چاہتے ہیں کہ کبھی کبھی کچھ بے تکلف دوست ایسی ایسی حرکت کرتے ہیں کہ منہ سے بے ارادہ نکل جاتا ہے کہ ہائے تکلف! یعنی تکلف بہت بری چیز ہے۔ میں ایک بار دہلی جا رہا تھا، پلیٹ فارم پر ایک دوست مل گئے، انہوں نے پوچھا تو میں نے کہہ دیا کہ دہلی جا رہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ دہلی چھوڑو اور ہمارے ساتھ باٹانگر چلو۔ انہوں نے مجھ سے دہلی کا ٹکٹ لیا اور ٹکڑے ٹکڑے کر کے پھینک دیا اور پھر قلی سے کہا کہ صاحب کا سامان واپس لے چلو اب یہ دہلی نہیں جائیں گے۔

Advertisement

اقتباس 3 :

تجربہ شاہد ہے کہ وہ تکلف بھی جس کی معراج “پہلے آپ ہے” بے تکلفی سے بدرجہا بہتر ہے۔ فرض کیجئے۔ آپ جہنم کے دروازے پر کھڑے ہیں اور جہنم کا داروغہ آپ ست کہتا ہے “تشریف لے چلیۓ” اور آپ مسکرا کر نہایت لجاجت سے عرض کرتے ہیں “جی پہلے آپ” تو عین ممکن ہے کہ آپ کے حسن اخلاق سے مرعوب ہوکر آپ کو جہنم کی بجائے جنت میں بھجوا دے اس کے برعکس اگر آپ کی داروغۂ جنت سے بے تکلفی ہے، تو ہو سکتا ہے کہ ہنسی مذاق میں وہ آپ کو باغ بہشت کی کسی نہر میں اتنے غوطے دلائیں کہ آپ کو چھٹی کا دودھ یاد آ جائے۔

حوالہ : یہ اقتباس ہماری کتاب میں شامل ہیں اور سبق انشائیہ “بے تکلفی” سے لیا گیا ہے اس کے مصنف کا نام کنہیالال کپور ہے۔

Advertisement

تشریح : کنہیا لال کپور اپنے دلچسپ انداز سے اس اقتباس میں لکھتے ہیں کہ اس تکلف کی تعریف کرنی چاہیے جو واقعی بہت اچھی چیز ہے جس میں ہر کام “پہلے آپ” سے ہوتا ہے وہ بے تکلفی سے سینکڑوں درجے بہتر ہے۔ مان لیجئے آپ کو جہنم کی سزا ملی ہے اور اس کے دروازے پر کھڑے ہیں اور جہنم کا چوکیدار آپ سے کہتا ہے کہ چلئے جہنم کے اندر تشریف لے چلئے۔ آپ مسکراتے ہوئے اور بہت شرمیلے انداز میں کہتے ہیں “جی پہلے آپ اندر تشریف لے چلئے” تو ہوسکتا ہے کہ آپ کے خوبصورت اخلاق کا اس پر بہت اثر پڑے اور وہ آپ کو جہنم کی وضاحت جنت میں داخل کروا دے اور اس چوکیدار سے آپ تکلف نہ کرتے ہو، اس سے بے تکلفی ہو تو وہ آپ سے ہنسی مذاق کرتے ہوئے جنت کی کسی نہر میں آپ کو اتنی ڈبکیاں لگوا دے کہ اس مصیبت کے وقت میں آپ کو اپنی ماں کا وہ دودھ یاد آ جائے جو پیدا ہونے پر پہلے پہل آپ نے پیا تھا اور آپ کو بہت لطف آرام محسوس ہوا تھا۔

🔺غور کیجئے🔺

کنہیا لال کپور کے اس مضمون “بے تکلفی” سے یہ سبق ملتا ہے کہ حد سے زیادہ ہر چیز پریشانی کا سبب بنتی ہے۔ حد سے زیادہ نہ تکلف اچھا ہوتا ہے اور نہ ہی بے تکلفی اچھی ہوتی ہے۔

Advertisement

🔺سوالات و جوابات🔺

سوال 1 : بے تکلفی سے کیا پریشانی ہوتی ہے؟

جواب : بے تکلفی سے کبھی کبھی سخت شرمندگی اٹھانی پڑتی ہے۔

سوال 2 : تھیکرے نت اپنے ایک کردار کی بے تکلفی کا ذکر کس طرح کیا ہے؟

جواب : تھیکرے نے اپنے ایک کردار کا ذکر اس طرح کیا ہے کہ وہ صاحب جس کے یہاں ٹھہرتے تھے، اس سے رخصت ہوتے وقت ایک قمیض مانگ لیا کرتے تھے۔

Advertisement

سوال 3 : اے ذوق تکلف میں ہے تکلیف سراسر، اس مصرعے میں شاعر کیا کہنا چاہتا ہے؟

جواب : شاعر یہ کہنا چاہتا ہے کہ تکلف بری چیز ہے، اس میں تکلیف ہی تکلیف ہے۔

نیچے لکھے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجئے۔

ہینگ لگے نہ پھٹکریہینگ لگی نہ پھٹکری اور تصویر خوبصورت بن گئی۔
چھٹی کا دودھ یاد آنا میں نے مقابلے میں دشمن کو چھٹی کا دودھ یاد دلا دیا۔
دانتوں میں انگلی دبانا امید کے خلاف میرا ساتھی کامیاب ہوا تو لوگوں نے دانتوں میں انگلی دبا لی۔

نیچے دئیے ہوئے لفظوں سے واحد، جمع بنائیے۔

واحد جمع
ہاتھ ہاتھوں
نشان نشانات
جوتی جوتیاں
ٹوپی ٹوپیاں
فرض فرائض
احسان احسانات
سوال سوالات
جنگل جنگلات
جواب جوابات
منزل منازل

درج ذیل جملوں کو غور سے پڑھیے۔

(1) اکبر نے ایک کہانی پڑھی۔

اس جملے میں پڑھنے کا کام ہوا ہے جو گزرے ہوے زمانے میں ہوا ہے، اسے ماضی کہتے ہے۔

Advertisement

(2) حمید کھانا کھا رہا ہے۔

اس جملے میں کھانے کا کام ہو رہا ہے۔ اور یہ کام موجودہ زمانے میں ہو رہا ہے، اسے حال کہتے ہیں۔

(3) میں کل جے پور جاؤں گا۔

اس جملے میں جانے کا کام ہوگا اور یہ کام آنے والے زمانے میں ہوگا، اسے مستقبل کہتے ہیں۔

Advertisement

عملی کام▪️

اس سبق کے جن جملوں پر آپ کو ہنسی آتی ہے انہیں اپنی کاپی میں لکھیے۔

  • (1) جہنم کا دروغہ آپ سے کہتا ہے “تشریف لے چلئے”۔
  • (2) وہ آپ کو باغ بہشت کی کسی نہر میں اتنے غوطے دلواۓ کہ آپکو چھٹی کا دودھ یاد آ جائے۔
  • (3) جس دوست کے پاس وہ ٹھہرتے تھے، رخصت ہوتے وقت اس سے ایک قمیض ضرور مستعار لیا کرتے تھے۔
  • (4) مجھے معلوم نہ تھا کہ آپ اتنے اچھے تیراک بھی ہو۔
  • (5) تکلف گز بھر لمبا گھونگھٹ ہے تو بے تکلفی گز بھر لمبی زبان۔

کنہیالال کپور کی سوانح حیات لکھیے۔

  • نام : کنہیالال کپور
  • پیدائش : 1910ء پاکستان کے شہر لاہور میں۔
  • وفات : 1980ء پنجاب میں۔
  • کنہیا لال کپور پاکستان کے شہر لاہور میں 1910 عیسوی میں پیدا ہوئے اور وہیں پر تعلیم و تربیت ہوئی اور پھر لاہور ہی میں وہ انگریزی زبان کے استاد مقرر ہوگئے۔ ملک کے تقسیم ہونے کے بعد کنہیالال کپور پاکستان کو چھوڑ کر ہندوستان کے شہر پنجاب میں آگئے۔ اور پنجاب کے گورنمنٹ کالج موگا میں پرنسپل بن گئے۔ وہیں ان کا انتقال 1920ء میں ہوا۔

کنہیالال کپور نے طنزو مزاح کے خوبصورت اور دلچسپ مضامین لکھیں ہیں۔ وہ ہمارے سامنے کی چیزوں اور باتوں پر بہت ہوشیاری کے ساتھ طنز و مزاح پیدا کرتے ہیں۔ کنہیا لال کپور کی تحریروں میں بہت روانی اور تاثیر ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اردو ادب کے بہت مشہور اور نامی گرامی قلمکار رہے ہیں۔

Advertisement
تحریر▪️ارمش علی خان محمودی بنت محمد طیب عزیز خان محمودی▪️
Advertisement