• کتاب”اپنی زبان”برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر21:کہانی
  • مصنف کا نام:رام اسرار راز
  • سبق کا نام:لالچ

خلاصہ سبق:

اس سبق کا عنوان ” لالچ ” ہے جس میں مصنف نے ایک مشکوب کے لالچ کی کہانی کو بیان کیا ہے۔ یہ مشکوب دن بھر ایک تھیلا پہنے لوگوں میں ٹھنڈا میٹھا پانی بیچا کرتا تھا۔ایک دن اسے کوئی گاہک نہ ملا۔کافی وقت گزرنے کے بعد اس نے ایک اجنبی مسافر کو دیکھا۔ مسافر پیاسا تھا۔وہ ایک لمبی مسافت طے کر کے آیا تھا اور خوب تھکا ہوا تھا۔

مسافر نے جب بتایا کہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں تو مشکوب کو اس اجنبی مسافر پر رحم آیا۔ مشکوب کی مہمان نوازی سے خوش ہو کر مسافر نے مشکوب کو ایک کتاب دی اور بتایا کہ اس میں موجود نسخے میں ہر بیماری کا علاج پوشیدہ ہے مگر وہ یہ نسخہ غریب لوگوں میں ہر گز پیسے سے فروخت نہ کرے۔ورنہ اس دوا کا اثر جاتا رہے گا۔اس مجرب نسخہ سے مشکوب لوگوں کا علاج کرنے لگا اور حکیم مشکوب کے نام سے مشہور ہو گیا۔ایک دفعہ لالچ میں آکر مشکوب نے ایک غریب آدمی کے بیٹے کا مفت علاج نہ کیا اور اس سے رقم کا مطالبہ کیا جس کی وجہ سے دواؤں کا اثر زائل ہونے لگا۔

Advertisement

یوں دیکھتے ہی دیکھتے مشکوب واپس پرانی حالت میں لوٹ آیا۔ کچھ عرصے بعد مشکوب کو دوبارہ ایک مسافر ملا۔سانڈنی سوار مسافر نے مشکوب کو بتایا کہ میں ایک بے یارو مددگار مسافر ہوں۔میرے پاس رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔مشکوب نے اس کی مہمان نوازی کی۔جس سے اس مسافر نے خوش ہو کر مشکوب کو سونے کی اینٹیں بنانے کا نسخہ دیا اور اس کے ساتھ ساتھ غریبوں کی مدد کرنے کی تلقین بھی کی۔

مشکوب نے جب مسافر کی بات پر عمل نہ کیا۔اس کے دل میں لالچ پیدا ہوا اور اس نے مسافر کے نسخے سے سونا بناتے ہوئے غریب لوگوں کی مدد کرنے کی بجائے اپنی امارت میں اضافہ کرنا شروع کردیا۔ مگر جب دوبارہ اسے سونے کی اینٹوں کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس کے لالچ کی وجہ سے وہ کتاب پتھر میں بدل چکی تھی۔ءوں مشکوب واپس پرانی حالت میں لوٹ آیا۔یوں ایک روز ایک مسافر نے اس سے مل۔کر کہا کہ وہ اسے اچھی طرح پہچان لے۔وہ دفعہ پہلے بھی مل چکے ہیں۔

مسافر سے مشکوب نے گڑگڑا کر معافی مانگی اور کہا کہ آئندہ میں یہ غلطی کبھی نہیں دہراؤں گا۔ لالچ اور خود غرضی نے مجھے اندھا کر دیا اور میں غریبوں سے بیگانہ ہو گیا۔بوعلی سینا وہ بزرگ تھے جو دو دفعہ مسافر کے روپ میں مشکوب کے پاس آئے۔انھوں نے مشکوب سے کہا کہ میری زندگی غریبوں اور محتاجوں کے لیے وقف ہے۔مگر تمھاری سنگدلی نے میری محنت پر بھی پانی پھیر دیا۔علم اور عقل سونے سے نہیں خریدے جا سکتے اس کے لیے دردمند دل کا ہونا ضروری ہے۔

سوچیے اور بتایئے:

مشکوب کو اجنبی مسافر پر کیوں رحم آیا؟

اجنبی مسافر پیاسا تھا۔وہ ایک لمبی مسافت طے کر کے آیا تھا اور خوب تھکا ہوا تھا۔ مسافر نے جب بتایا کہ اس کے پاس پیسے نہیں ہیں تو مشکوب کو اس اجنبی مسافر پر رحم آیا۔

مسافر نے مشکوب کو کیا ہدایت دی ؟

مسافر نے مشکوب کو ایک کتاب دی اور بتایا کہ اس میں موجود نسخے میں ہر بیماری کا علاج پوشیدہ ہے مگر وہ یہ نسخہ غریب لوگوں میں ہر گز پیسے سے فروخت نہ کرے۔ورنہ اس دوا کا اثر جاتا رہے گا۔

مشکوب حکیم مشکوب کیسے بنا؟

مشکوب نے جب ایک پیاسے مسافر کو پانی پلایا اور اس کی مہمان نوازی کی تو اس نے اسے ایک مجرب نسخہ دیا۔جس سے مشکوب لوگوں کا علاج کرنے لگا اور حکیم مشکوب کے نام سے مشہور ہو گیا۔

دواؤں کا اثر کیوں زائل ہو گیا؟

مشکوب نے ایک غریب آدمی کے بیٹے کا مفت علاج نہ کیا اور اس سے رقم کا مطالبہ کیا جس کی وجہ سے دواؤں کا اثر زائل ہونے لگا۔

سائڈنی سوار نے مشکوب کو اپنے بارے میں کیا بتایا؟

سانڈنی سوار مسافر نے مشکوب کو بتایا کہ میں ایک بے یارو مددگار مسافر ہوں۔میرے پاس رہنے کا کوئی ٹھکانہ نہیں ہے۔

قیمتی کتاب پتھر میں کیوں تبدیل ہوگئی ؟

مشکوب نے جب مسافر کی بات پر عمل نہ کیا۔اس کے دل میں لالچ پیدا ہوا اور اس نے مسافر کے نسخے سے سونا بناتے ہوئے غریب لوگوں کی مدد کرنے کی بجائے اپنی امارت میں اضافہ کرنا شروع کردیا۔ مگر جب دوبارہ اسے سونے کی اینٹوں کی ضرورت محسوس ہوئی تو اس کے لالچ کی وجہ سے وہ کتاب پتھر میں بدل چکی تھی۔

مسافر سے مشکوب نے گڑ گڑا کر کیا کہا؟

مسافر سے مشکوب نے گڑگڑا کر معافی مانگی اور کہا کہ آئندہ میں یہ غلطی کبھی نہیں دہراؤں گا۔ لالچ اور خود غرضی نے مجھے اندھا کر دیا اور میں غریبوں سے بیگانہ ہو گیا۔

بوعلی سینا کون تھے اور انھوں نے مشکوب سے کیا کہا؟

بوعلی سینا وہ بزرگ تھے جو دو دفعہ مسافر کے روپ میں مشکوب کے پاس آئے۔انھوں نے مشکوب سے کہا کہ میری زندگی غریبوں اور محتاجوں کے لیے وقف ہے۔مگر تمھاری سنگدلی نے میری محنت پر بھی پانی پھیر دیا۔علم اور عقل سونے سے نہیں خریدے جا سکتے اس کے لیے دردمند دل کا ہونا ضروری ہے۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

مجرباجنبی آدمی نے مشکوب کو مجرب دعا کا نسخہ دیا۔
بادل نا خواسته بادل نہ خواستہ اسے مہمانوں کی خاطر داری کرنا پڑی۔
کیمیاگریبو علی سینا نے مشکوب کو کیمیا گری سکھائی۔
مربیحقیقی مربی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔
اوجھلآنکھ اوجھل پہاڑ اوجھل۔
جمع پونجیاس نے اپنی تمام جمع پونجی لٹا دی۔
مسکینہمیشہ مسکین اور غریب لوگوں کی مدد کرنی چاہیے۔

ان لفظوں کے متضاد لکھیے۔

تندرستبیمار
اجنبیدوست
خوشحالمفلس
مستحقغیرمستحق
نادارامیر

محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔

عقل پر پردہ پڑ جانا صبا کی عقل پر پردہ پڑ چکا ہے کہ وہ غیر بھروسے مند شخص کو اپنی زندگی میں شامل کرنے جا رہی ہے۔
نشہ ہرن ہوناخوابوں کی دنیا سے نکل کر حقیقت سے دو چار ہونے پر عالیہ کا سارا نشہ ہرن ہو گیا۔
پتھر پگھلاناانسان محنت اور کوشش کرے تو پتھر بھی پگھلا سکتا ہے۔
تھک کر چور ہوناانتہائی خوفناک حادثے نے علی کو زخموں سے چور کر دیا۔

صیح جملے پر صیح اور غلط پر غلط کا نشان لگایے۔

پیشے کی نسبت سے لوگ اسے مشکوب کہہ کر پکارتے تھے۔✅
نسخہ پا کر بھی مشکوب سڑکوں پر پانی بیچتا رہا۔❎
مشکوب کو اجنبی مسافر پر رحم آ گیا۔✅
مسافر نے مشکوب کو مجرب نسخہ نہیں دیا۔❎
مشکوب کی دوائیں اثر والی نہیں تھیں ۔❎
لوگ مشکوب کے نام سے مخاطب کر نے لگے ۔ ✅
ایک دن ایک غروب آدمی اپنے بیمار بچے کی دوا لینے آیا۔ ✅
مشکوب کی نسخے والی کتاب غائب ہوگئی۔✅
اجنبی مسافر بوعلی سینا تھے۔✅

پڑھیے سمجھیے اور لکھیے۔

”مسافر‘ کا مطلب ہے ” سفر کر نے والا یہ اسم فاعل ہے یعنی ایسا اسم جس سے کسی کام کے کرنے کا پتہ چلے’ اسم فاعل‘ کہلاتا ہے۔

درج ذیل کو اسم فاعل میں بدل کر لکھیے۔

طلب کر نے والاطالب
شعر کہنے والاشاعر
شکر ادا کر نے والاشاکر
عبادت کر نے والاعابد
حفظ کر نے والاحافظ