Advertisement

اکبر الہ آبادی کی حالات زندگی اور ادبی خدمات پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

نظم نئی تہذہب کا خلاصہ

نظم ”نئی تہذیب“ اکبر الہ آبادی کی نظم ہے۔ اس نظم میں شاعر کہہ رہے ہیں کہ جو بھی طریقہ رسم و رواج قائم ہے وہ ختم ہو گا۔ پھر اس کے بدلے میں نئی تہذیب ہوگی اورنیا سازوسامان دستیاب ہوگا اور حسین عینی اور انوکھے پن سے زیب تن سے نکلے گی۔ مگر آج کی طرح کے لوگ اس وقت نہ ہوں گے۔ جو آج دکھائی دیتی ہیں۔

Advertisement

وہ وقت بھی آنے والا ہے جب خواتین بے پردہ گھر سے نکل جائیں گی اور جس طرح آج ان کے اوپرگھونگھٹ دکھائی دیتا ہے اس وقت ان کے اوپر یہ نہیں ہوگا اور اس وقت ان کے مزاج کے اندر بھی دیگر چیزیں ہونگی۔ یورپ کی تقلید ہر شعبے میں ہوگئی ہوگی۔ مگر اس میں وہ طاقت نہ ہوگی جس سے اردو زبان مالامال ہو۔ ان سے اس وقت یہ ناآشنا ہوگی اور اس وقت مغربی زبان کا غلبہ ہوگا۔

Advertisement

میعار شرافت بھی آج کا نہ ہو گا اس میں تبدیلی رونما ہو جائے گی۔ جو اپنے کمال کے ہونگے اس وقت کم ہی نظر آئیں گے اور اس وقت اس تبدیلی پر سوچ بچار کرنے کے لئے کوئی نہیں ہوگا۔ اکبر اپنے آپ سے کہتے ہیں کہ وہ زمانے کا انقلاب آنے والا ہے پھر جب کوئی زندہ نہ بچ سکے گا۔

Advertisement

اس نظم کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement