کرشن چندر کی افسانہ نگاری پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں۔

کرشن چندر کا شمار مشہور افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے اپنے افسانوں میں اس دور کے معاشی، سیاسی اور سماجی صورت کی خامیوں، رسم و روایات، مذہبی تعصبات وغیرہ کو بیان کیا ہے۔ مزدور، فقیر، بھنگی، کلرک جیسے نچلے طبقے کے مفلوک الحال لوگوں کو حاشیے سے اٹھا کر اپنے فن کے مرکز میں لا کر کھڑا کر دیا۔ ان کے افسانوں میں مناظر فطرت کی خوبصورت تصویریں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ انہوں نے افسانے کو نئی بلندیوں تک پہنچایا ہے۔

خلاصہ

کرشن چندر کا ”دو فرلانگ لمبی سڑک “ طنزیہ افسانہ ہے۔ اس میں پورے ملک کی مجموعی حالات کی ایک واضح جھلک پیش کی گئی ہے۔ ایسی سڑک کسی بھی بڑے شہر میں ہوسکتی ہے اور اس سڑک پر وہی سب کچھ ہو سکتا ہے۔ سڑک سخت اور بے حس معاشرے کی صورت حال کا استعارہ بن کر ابھرتی ہے۔

مصنف نے سڑک کی سرگزشت بیان کی ہے کیونکہ اسے ہر روز کبھی پیدل کبھی سائیکل پر اسی سڑک پر سے گزرنا ہوتا ہے۔ اس نے بہت لمبی لمبی چوڑی سڑکیں برادے سے ڈھکی ہوئی جن کے گرد سرو و شمشاد کے درخت کھڑے تھے، اس طرح سے بہت سڑکیں دیکھی ہوں گی لیکن وہ اس سڑک کو اس طرح جانتا ہے جتنا کسی گہرے دوست کو بھی نہیں جانتا۔

مصنف لگاتار نو سال سے اس پر چل رہا ہے۔ وہ ہر صبح اور شام اپنے گھر سے جو کچہری کے قریب ہے، اپنے دفتر جو لا کالج کے پاس واقع ہے بس یہی کوئی دو فرلانگ لمبی سڑک ہے۔ اتنے دنوں میں مصنف نے بہت سے واقعات اور حادثات دیکھے۔ اسے کبھی مسکراتے اور روتے نہیں دیکھا مگر ان کا سڑک پر کوئی اثر نہیں ہوا۔

اس سڑک کے دونوں طرف بیسویں فقیر بیٹھے رہتے ہیں اور آواز لگاتے رہتے ہیں: ’ہائے بابو اندھے محتاج فقیر پر ترس کھاؤ‘ کوئی انہیں پیسہ دیتا ہے اور کوئی گالیاں بھی دیتا ہے۔کبھی اسی میں کوئی غریب عورت دو تین چھوٹے بچوں کو گود میں لیے حسرت بھری نگاہوں سے لوگوں کو دیکھتی ہے کہ کوئی پیسہ دے دیتا۔ کبھی کوئی امیر اپنی گاڑی سے گزرتا ہے۔

ایک بار ایک تانگے والا انگریز سے چھ آنے کرائے کے بجائے آٹھ آنے مانگتا ہے تو تانگے والے کو بری طرح مارتا ہے۔ پولیس والا وہاں پہنچ کر کہتا ہے حرام زادے صاحب بہادر سے معافی مانگو۔ تانگے والا اپنی میلی پگڑی سے آنسو صاف کرتا ہے کیونکہ اس وقت انگریزوں کی حکومت تھی اور ہندوستانیوں پر ظلم کرتے تھے۔ اس واقعے کے بعد سڑک سنسان ہو جاتی ہے۔

پھر شام ہوتے ہی بجلی کے قمقمے روشن ہوگئے لوگ اسی پر سے گزرتے ہیں مختلف طرح کی باتیں کرتے ہوئے کوئی نوکری، کوئی جنگ کی بات کر رہا ہے کوئی اپنی بیوی کی بیماری کی باتیں کر رہا ہے۔ ان ہی میں سے کچھ لوگ پھٹے ہوئے کپڑے پہنے ننگے پاؤں تھکے ہوئے قدم سے جاتے ہیں۔ مصنف انہیں دیکھتا ہے کہ آخر یہ لوگ کیسے ہیں یہ نہ آزادی چاہتے ہیں، یہ کیسی عجیب باتیں ہیں پیٹ، بھوک، بیماری، پیسے، حکیم کی دوا، جنگ۔۔۔

بوڑھی عورت جوان عورت کے پیچھے بھاگتی ہوئی جا رہی ہے۔ بوجھ کے مارے اس کی ٹانگیں کانپ رہی ہیں اس کی جھریوں میں غم ہے بھوک اور صدیوں کی غلامی۔

مصنف ایک منظر بیان کرتا ہے کہ اسکول کے چھوٹے چھوٹے بچے ڈیڑھ گھنٹے سے سڑک کے دونوں طرف قطار باندھے کھڑے ہیں۔ کسی بڑے آدمی کا انتظار کر رہے ہیں۔ جھنڈیوں سے استقبال کر رہے ہیں، سڑک پر بہت تیز دھوپ ہے، بچے پیاس سے بے حال ہیں تھک گئے ہیں۔ کچھ دیر بعد بڑا آدمی سڑک پر سے گزر گیا لڑکے خوشی سے جھنڈیاں توڑ دیئے۔ اس وقت تک سڑک خاموش تھی لیکن اب چہل پہل شروع ہوگئی۔

خوانچے والے صدائے لگانے لگے، ریوڑیاں گرم گرم چنے حلوہ پوری، نام کباب۔ سڑک کے کنارے ایک بوڑھا فقیر مرا پڑا ہے، اس کے پیلے دانت ہونٹوں کے اندر دھنس گئے ہیں۔ اس کی کھلی ہوئی آنکھیں آسمان کی طرف دیکھ رہی ہیں ” خدا کے لئے مجھ غریب پر ترس کر جاؤ رے بابا” کوئی کسی پر ترس نہیں کرتا۔ سڑک خاموش اور سنسان ہے۔ انسان کی دل کی طرح بے رحم بے حس۔۔۔۔

یہ سب دیکھ کر مصنف پریشان ہو جاتا ہے۔ اس کی جی میں آیا کہ چلا چلا کر کہے کہ میں انسان نہیں ہوں میں پاگل ہوں مجھے انسانوں سے نفرت ہے۔ مجھے پاگل خانے کی غلامی بخش دو میں ان سڑکوں کی آزادی نہیں چاہتا۔ سڑک خاموش ہے یہ دو فرلانگ لمبی سڑک۔۔۔

اس کہانی کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔