Advertisement

سوال نمبر 2: ”نظریہ پاکستان“ کے سبق کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیے۔

سبق ”نظریہ پاکستان“ کے مصنف کا نام ”ڈاکٹر غلام مصطفی خان“ ہے۔

Advertisement

تعارفِ مصنف

ڈاکٹر غلام مصطفی خان جبل پور ہندوستان میں ۱۹۱۲ء میں پیدا ہوئے۔ آپ نے گھر پر ناظرہ قرآن پڑھا اور وہیں کے انجمن اسلامیہ ہائی سکول سے ثانوی جماعت تک تعلیم حاصل کی۔ علی گڑھ کالج سے ایم اے اور ناگ پور یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی اور ڈیلیٹ کی ڈگریاں حاصل کیں۔ ۱۹۳۷ء میں پبلک سروس کمیشن پاس کر کے کنگ ایڈورڈ کالج امراؤتی ہندوستان میں اردو کے استاد مقرر ہوئے۔ اس کے بعد آپ ناگ پور یونیورسٹی میں شعبہ اردو کے صدر مقرر ہوئے۔

Advertisement

۱۹۴۸ء میں آپ ہجرت کر کے پاکستان آگئے۔ بابائے اردو مولوی عبدالحق نے آپ کو اردو کالج میں صدر شعبہ اردو کے طور پر تعینات کیا۔ علامہ آئی آئی قاضی نے آپ کو حیدرآباد سندھ یونیورسٹی میں صدر شعبہ اردو مقرر کیا۔

Advertisement

ڈاکٹر صاحب ایک بڑے عالم، محقق، مصنف، ماہرِ لسانیات، ماہر تعلیم اور سلسلہ نقشبندیہ کے عظیم رہنما تھے۔ آپ کو اردو، ہندی، فارسی، عربی اور انگریزی زبانوں پر عبور حاصل تھا۔ آپ کی علمی و تصنیفی خدمات کی وجہ سے پاکستان کے مختلف اداروں نے آپ کو تمغے، ایوارڈ اور سپاس نامے عطا کیے۔ حکومت پاکستان نے ”اقبال اور قرآن“ کتاب لکھنے پر آپ کو صدارتی ایوارڈ ”ستارہ امتیاز“ سے نوازا۔ آپ کی تحریر کردہ کتابیں پاکستان کی جامعات میں پڑھائی جاتی ہیں۔ آپ کا انتقال ۲۰۰۵ء میں ہوا۔

سبق کا خلاصہ

نظریہ پاکستان سے مراد ایک ایسی اسلامی اور فلاحی مملکت بنانا ہے جہاں کوئی ایسا قدم نہ اٹھایا جائے جس سے خدا اور اس کے رسول کے سامنے ہمیں شرمندہ ہونا پڑے۔ جہاں ہمارا جینا مرنا صرف پاکستان کے لیے ہو اور قومی مفاد کے سامنے ذاتی مفاد کو دل سے نکال دیا جائے۔ جہاں ملی اتحاد اور مساوات، عدل، دیانتداری اور ہمدردی ہو اور جہاں مسلمان آزادی کے ساتھ زندگی بسر کر سکیں۔

Advertisement

شاہ ولی اللہ کا زمانہ مسلمانوں کی زبو حالی کا زمانہ تھا۔ جہاں ہر قسم کی غیر مذہبی رسومات اسلامی معاشرے میں رائج ہو چکی تھیں۔ ایسے میں شاہ ولی اللہ اور ان کے صاحبزادے نے ایک تحریک شروع کی جس کا مقصد مسلمانوں کی اخلاقی اور معاشرتی برائیوں کو دور کرنا تھا۔

سرسید احمد خان اس بات سے واقف تھے کہ ہندو اور مسلمان سیاسی طور پر ہم آہنگ نہیں ہو سکتے۔ ان کا مذہب، زبان، تہذیب اور تمدن بہت الگ ہیں، اس لئے انہوں نے مسلمانوں کو تعلیم کی طرف راغب کیا اور انہیں ہندوؤں کی سیاسی جماعت سے دور رہنے کی تاکید کی۔
جب کانگریس کو تشکیل دیا گیا تو یہ کہا گیا کہ یہ پارٹی مسلمانوں اور ہندوؤں دونوں کی آواز بنے گی اور انگریزوں کو ملک سے نکالنے کے لیے اقدام کرے گی۔ لیکن بہت جلدی مسلمانوں کو اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ کانگریس صرف ہندوؤں کی جماعت ہے، اس لیے انہوں نے اپنی الگ جماعت تشکیل دی، جس کی قیادت قائد اعظم محمد علی جناح نے کی اور کل ہند مسلم لیگ کے نام سے یہ جماعت مسلمانوں کے لیے ایک ایسی جگہ تھی جہاں وہ جمع ہو کر پاکستان حاصل کر سکیں۔

دنیا میں قومیت کی تشکیل کے دو بنیادی نظریات ہیں۔ ایک تو مغربی نظریہ ہے جس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ جغرافیائی دور کے اعتبار سے قومیں وجود میں آتی ہیں۔ دوسرا اسلامی نظریہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنایا اور یہ ایک نظریاتی قومیت ہے جو لا الہ الا اللہ پر قائم ہے۔ جو رنگ یا نسل کی بنیاد پر نہیں بلکہ ایک نظریے کی بنیاد پر وجود میں آئی ہے۔

Advertisement

ہمیں چاہیے کہ ہم نظریہ پاکستان کی قدر کریں اور پاکستان جس مقصد کے لیے حاصل کیا گیا ہے اس مقصد کو پورا کریں۔ اللہ کی عبادت کریں اور مساوات ، عدل قائم کریں۔ اللہ تعالی ہمارے ملک کو قائم و دائم رکھے۔ آمین۔

اس سبق کے سوالوں کے جوابات پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سوال نمبر 3: اپنے دوست کو ایک خط لکھیے جس میں بتائیے کہ ہمیں نظریہ پاکستان کے تحفظ کے لیے کیا کرنا چاہیے؟

کمرہ امتحان،
گلشنِ اقبال،
کراچی،
تاریخ : ۱۵-۱۲-۲۰۲۰
میرا پیارا دوست علی،
السلام علیکم!!

Advertisement

تمہارا خط ملا جسے پڑھ کر بہت خوشی ہوئی کہ تمہیں بھی میری طرح وطنِ عزیز سے محبت ہے اور تم اس کی ترقی و خوشحالی کے لئے اہم کردار ادا کرنا چاہتے ہو۔ عزیز دوست اس موجودہ دور میں تعلیم کی اہمیت کے پیشِ نظر ہماری سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہے کہ ہم دلچسپی سے تعلیم حاصل کریں تاکہ ہمارا ملک ترقی کر سکے۔
حالات کا تقاضا یہ ہے کہ ہم ہر قسم کی تفریق سے بالاتر ہو کر اپنی صفوں میں اتحاد قائم کریں۔ ہمیں چاہیے کہ حکومت کے منصوبوں میں حکومت کا ہاتھ بٹائیں۔ اپنے فرائض کو بہتر طور پر انجام دیں تاکہ ہمارا ملک ترقی کرسکے۔ امید ہے کہ تم میرے خیال سے متفق ہوگی۔
تمام افراد کو میرا سلام کہنا۔
قفط،
تمہارا دوست،
ا، ب، ج۔

سوال نمبر 4: درج ذیل درست جواب پر (درست) کا نشان لگائیے۔

(الف) اسلام کی سر بلندی کے لیے کھڑے ہوئے :

Advertisement
  • (۱)ڈاکٹر غلام مصطفیٰ خان
  • (۲)حضرت مجدد الف ثانی ✔
  • (۳)مولانا شوکت علی جوہر
  • (۴)مولانا محمد علی جوہر

(ب) ہندوؤں نے اردو زبان کے مقابلے میں قائم کی :

  • (۱)انگریزی زبان
  • (۲)فارسی زبان
  • (۳)سنسکرت زبان
  • (۴)ہندی زبان✔

(ج) پہلی جنگ عظیم چھڑ گئی :

Advertisement
  • (۱)۱۹۱۰ء
  • (۲)۱۹۱۱ء✔
  • (۳)۱۹۱۲ء
  • (۴)۱۹۱۳ء

(د) نظریہ پاکستان کا مقصد ہے :

  • (۱)اسلامی اصولوں کی ترویج کرنا
  • (۲)سیاست کرنا
  • (۳)اسلامی فلاحی مملکت بنانا✔
  • (۴)اسلامی اصولوں کا یاد کرنا

(ہ) ہمارا جینا مرنا ہونا چاہیے :

Advertisement
  • (۱)اپنے لیے
  • (۲)دوستوں کے لیے
  • (۳)پڑوسیوں کے لیے
  • (۴)پاکستان کے لیے✔

سوال نمبر 5 : فقروں کو روز مرہ کے مطابق درست کیجئے :

غلطصحیح
لگتا ہے اس شہر سے ہمارا پانی دانہ اٹھ گیا ہے۔ لگتا ہے اس شہر سے ہمارا ”دانہ پانی“ اٹھ گیا ہے۔
ارے بھائی! بہت دنوں بعد نظر آئے ،کیا چال حال ہے۔ارے بھائی! بہت دنوں بعد نظر آئے ، کیا ”حال چال“ ہے۔
بڑی دوستی تھی دونوں میں،لیکن آج کل کچھ بن آن ہے۔بڑی دوستی تھی دونوں میں، لیکن آج کل کچھ ”آن بن“ ہے۔
Advertisement

Advertisement

Advertisement