ڈرامہ کی مختصر تعریف

ڈرامہ ادب کی اہم ترین اصناف میں شمار ہوتا ہے۔ ڈرامہ کی اولین تاریخ یونان کے مشہور و معروف فلاسفر ارسطو کی بوطیقا سے حاصل ہوتی ہے۔ ارسطو نے ڈرامے کو کسی نقالی سے تعبیر کیا ہے۔ ڈرامہ بذات خود زندگی نہیں مگر انسانی زندگی کو پیش کرنے کا ذریعہ ہے۔

ارسطو کے مطابق ڈرامہ زندگی کی ایسی نقل ہے جو اداکاروں کے ذریعے دیکھنے والے کے سامنے پیش کی جاتی ہے۔ ڈرامہ میں پلاٹ، کردار، مرکزی خیال، آغاز و نقطہ عروج ہوتا ہے۔

اردو میں سلطان واجد علی شاہ پہلے ڈرامہ نگار ہیں۔ ان کے بعد امانت لکھنوی ،آغا حشر کاشمیری اور امتیاز علی تاج نے لاتعداد ڈرامے لکھے ہیں۔ جدید دور میں ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر بھی ڈرامے نشر کیے جاتے ہیں اس کے علاوہ مشہور ڈرامہ نگار کرشن چندر ،عصمت چغتائی ،شوکت تھانوی نے بہت سارے ڈرامے لکھے ہیں۔

سوال نمبر 1: شوکت تھانوی کی مختصر حالات زندگی بیان کریں۔

شوکت تھانوی کا اصل نام محمد عمر تھا۔ وہ اردو کے مشہور مزاح نگار تھے۔ مزاحیہ تحریروں اور ناولوں کے علاوہ انہوں نے ریڈیو کے لیے ڈرامے بھی لکھے ہیں۔ ان کی قلم میں بلا کی روانی تھی روزمرہ کی باتوں اورآئے دن پیش آنے والے واقعات کوانہوں نے اس مزے کے ساتھ بیان کیا ہے کہ پڑھنے والے بے اختیار ہنس پڑتے ہیں۔

سودیشی ریل، موج تبسم ،طوفان تبسم ،جوڑتوڑ، قاضی جی اور کارٹون وغیرہ ان کی مشہور کتابیں ہیں۔ ڈرامہ لاٹری کا ٹکٹ ان کی کتاب سنی سنائی سے لیا گیا ہے۔ شوکت تھانوی نے شاعری بھی کی ہے لیکن وہ مزاحیہ شاعر نہیں بلکہ سنجیدہ غزل گو ہیں۔

سوال: منشی جی کو کس چیز کا انتظار تھا؟

جواب: منشی جی کو لاٹری کے انعام کا انتظار تھا۔

سوال: منشی جی کیا منصوبے باندھ رہے تھے؟

جواب: منشی جی نے لاٹری کا ٹکٹ ملنے پر ایک کوٹھی اور ایک موٹر کار خریدنے کا منصوبہ بنایا تھا اور اس کے علاوہ اپنی بیٹے کو انگریزی اسکول میں پڑھانے اور گھر میں ایک ملازم رکھنے کا منصوبے بھی انہوں نے نے بنایا تھا۔

سوال: ڈرامہ لاٹری کا ٹکٹ کی پوری کہانی اپنے الفاظ میں لکھیے؟

جواب: ڈرامہ لاٹری کا ٹکٹ کا مختصر خلاصہ اس طرح ہے کہ ایک چھوٹے سے گھر میں منشی جی اور ان کی بیوی اور ان کا بھائی نسیم رہتے تھے۔ ان کی آمدنی بہت کم تھی اس لئے گھر کی ساری ضروریات پوری نہیں ہوتی تھیں۔ وہ ہر وقت شیخ چلی کے منسوب بناتے رہتے تھے جو کبھی پورے نہیں ہوتے تھے۔

اس ڈرامہ میں منشی جی کی بیوی چولا پونھک رہی تھی اور منشی جی اس سے لاٹری کا ٹکٹ مانگ رہے تھے۔ منشی جی کو اس بات کا یقین تھا کہ آج ڈاکیہ لاٹری کے ٹکٹ کا تار لایا ہوگا اس لئے وہ ٹکٹ اپنے ہاتھ میں رکھنا چاہتے تھے۔ ان کی اپنی بیوی سے بہت زیادہ نوک جھوک رہتی تھی۔ جب ان کا بھائی گھر میں داخل ہوتا ہے تو وہ منشی جی سے خوشی کی وجہ دریافت کرتے ہیں۔ اس پر منشی جی نے جواب دیا مجھے آج لاٹری کا انعام ملنے والا ہے۔ اتنے میں ڈاکیہ تار لے کر آتا ہے اور سلیم اس کو پڑھ کر سناتا ہے۔ اس میں لکھا تھا کہ بھابھی جی مر چکی ہیں۔ یہ خبر سن کر منشی جی کے سارے منصوبے ختم ہو جاتے ہیں اور خوشیاں ماتم میں بدل جاتی ہیں۔

سوال: ان کرداروں پر مختصر نوٹ لکھیے؟
﴿ منشی جی ،سلیم، ڈاکیہ﴾

  • منشی جی: منشی جی اس ڈرامے کا مرکزی کردار ہے۔ وہ بڑے اعتماد کے ساتھ لاٹری کے انعام کا انتظار کرتے ہیں لیکن ڈاکیہ اس کی بیوی کی بھابھی کے مرنے کی خبر لاتا ہے۔ اس سے نہ صرف منشی جی بلکہ سارے گھر کی خوشی ماتم میں بدل جاتی ہے۔ یہ اصل میں ایک مزاحیہ کردار ہے اس کی بے وقوفی پڑھنے والے کو ہنساتی ہے۔
  • سلیم : ڈرامے میں سلیم منشی جی کا بھائی ہے اور منشی جی کی باتوں پر شک کرنے پر جب منشی جی اس کو ڈانٹتے ہیں تو ڈرامے میں ایک قسم کا لطف پیدا ہو جاتا ہے۔ سلیم کی باتوں میں طنز اور مزاح کی لہریں موجود ہیں۔
  • ڈاکیہ : ڈاکیہ ایک چھوٹا سا ذیلی کردار ہے اور ڈرامے میں کسی جگہ نظر نہیں آتے لیکن جب وہ دروازے پر تار لے کر آتے ہیں تو ساری خوشی ماتم میں تبدیل ہو جاتی ہے اور یہی ڈرامے کا نقطہ عروج ہے۔

گرامر

وہ صفت جو کسی چیز کی ذاتی حالت یا فضیلت کو ظاہر کرتی ہے، صفت کہلاتی ہے مثلا سرخ، لمبا، کام چور، توانا وغیرہ۔

صفت ذاتی کے تین درجے ہیں:
تفضیل
نفسی: وہ درجہ صفت ہے جس میں کسی چیز کی ذاتی فضیلت بلا مقابلہ ظاہر ہوتی ہو۔
مثلا :زاہد احمد سے نیک ہے۔

تفضیل بعض: وہ درجہ صفت ہے جس میں ایک چیز کو دوسری چیز پر ترجیح دی جائے مثلاً: میری قمیض تمہاری قمیض سے اچھی ہے۔

تفضیل کل: وہ درجہ صفت ہے ،جس میں کسی چیز کو اسی جیسی تمام چیزوں پر ترجیح دی جائے مثلاً: ہمالیہ سب پہاڑوں سے اونچا ہے۔

  • درجہ ذیل جملوں میں سے صفت ذاتی کےتین درجے تلاش کیجے۔
  • محمد اکرم ذہین طالب علم ہے۔ محمد اسلم محمد اکرم سے بھی زیادہ ذہین ہے لیکن محمد اشرف سارے طالب علموں سے زیادہ ذہین ہے۔ وہ کلاس کا مانیٹر بھی ہے۔ کوکرناگ اچھی جگہ ہے پہلگام اس سے بھی بہتر ہے گلمرگ بہترین جگہ ہے۔
  • تفضیل نفسی: ذہین
  • تفضیل بعض: طالب علم
  • تفضیل کل: گلمرگ بہتری

مندرجہ ذیل الفاظ کو اس طرح جملوں میں استعمال کیجئے کہ تزکیر وتانیث واضح ہو جائے۔

الفاظجملے
باتاحمد ہر ایک سے اچھے سے بات کرتا ہے۔
تارمجھے اپنے دوست کے تار کا ہمیشہ انتظار رہتا ہے۔
دوڑگھوڑا بہت تیز دوڑتا ہے۔
چاندمیرا بھائی چاند جیسا ہے۔
انعاممیری بہن کو آج انعام ملا۔