سوال نمبر 1: اس سبق کا خلاصہ اپنے الفاظ میں تحریر کیجیے۔

ایک میدان میں کچھ بچے کھیل رہے تھے اور کھیلتے کھیلتے بہت دور چلے جاتے ہیں تو سامنے ان کو ایک انڈا نما کوئی چیز دکھائی دیتی ہے اور وہ اس کو اٹھا لیتے ہیں اور اس کو غور سے دیکھتے ہیں۔ اس میں ان کو ایک لکیر دکھائی دیتی ہے تو بچے سمجھ جاتے ہیں کہ یہ انڈا نہیں بلکہ گیہوں کا دانہ ہے۔ اتنے میں سامنے سے ایک مسافر آتے ہیں وہ ان بچوں کو دیکھ کر ان کے قریب آتے ہیں۔ بچوں کے ہاتھ میں عجیب و غریب چیز دیکھ کر وہ اس کو خرید لیتے ہیں اور بازار میں جا کر اس کو بیچ دیتے ہیں۔ اس طرح وہ گیہوں کا دانہ بادشاہ کے پاس پہنچ جاتا ہے۔

بادشاہ اس گیہوں کے دانے کو دیکھ کر اپنے درباریوں سے پوچھتا ہے یہ انڈا ہے یا گیہوں کا دانہ ‌؟ سب لوگ اس کو بہت غور سے دیکھتے ہیں لیکن کسی کی سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ انڈا ہے یا گیہوں کا دانہ۔ آخر میں اس دانے کو کھڑکی کے پاس رکھا جاتا ہے اور ایک چیل آتی ہے اس دانے پر سوراخ کر دیتی ہے جس سے یہ اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ انڈا نہیں بلکہ گیہوں کا دانہ ہے۔

جب بادشاہ کو اس بات کا علم ہو جاتا ہے کہ وہ انڈا نہیں بلکہ گیہوں کا دانہ ہے تو وہ حکم دیتا ہے کہ اس بات کو معلوم کروایا جائے کہ یہ دانہ کہاں اگتا ہے یا کہاں پیدا ہوتا ہے۔ ان کے سپاہی پوچھتے پوچھتے بہت دور چلے جاتے ہیں تو راستے میں ان کی ملاقات ایک بوڑھے کسان سے ہوتی ہے جو دو لاٹھیوں کے سہارے چلتے ہیں اور ان کی آنکھوں میں بینائی نہیں ہے اور وہ ٹھیک سے سن بھی نہیں پاتے۔ جب وہ دربار میں پہنچتے ہیں تو بادشاہ ان سے پوچھتے ہیں کہ یہ گیہوں کا دانہ کہاں اگتا ہے اس پر وہ جواب دیتے ہیں ۔مجھے اس کے بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے البتہ آپ میرے والد محترم سے پوچھ لیجئے کیا پتہ ان کو کچھ معلوم ہو۔

اس کے بعد ان کے والد صاحب کو بلایا جاتا ہے۔ وہ ان سے صحت میں تھوڑے اچھے تھے۔ وہ ایک لاٹھی پر چلتے ہیں اور ان کی آنکھوں میں تھوڑی بینائی ہوتی ہے اور وہ اچھے طریقہ سے سن بھی پاتے ہیں۔ جب ان کو وہ گیہوں کا دانہ دکھایا جاتا ہے تو وہ بھی پہچاننے سے انکار کرتے ہیں اور وہ بتاتے ہیں شاید اس کے بارے میں میرے والد محترم کو کچھ معلوم ہو۔ یہ سن کر بادشاہ بہت حیران ہو جاتا ہے کہ ان کے والد صاحب ابھی بھی زندہ ہیں۔ پھر حکم دیتے ہیں کہ اس بزرگ دادا کو دربار میں پیش کیا جائے اور جب وہ دربار میں داخل ہوتے ہیں تو وہ کسی چیز کا سہارا نہیں لیے ہوئے تھے اور ان کی آنکھوں کی روشنی بھی ٹھیک تھی اور وہ مکمل طور پر سن پا رہے تھے۔

بادشاہ نے ان کو گیہوں کا دانہ دکھایا اور پوچھا آپ اس طرح کے دانے سے واقف ہیں؟ جیسے ہی انہوں نے گیہوں کے دانے کو دیکھا اور وہ خوشی سے اچھل پڑے اور انہوں نے کہا یہ ہمارے زمانے کا گیہوں کا دانہ ہے۔ تو بادشاہ نے ان سے پوچھا یہ اتنا بڑا گیہوں کا دانہ کہاں اگتا ہے اور اس کی کھیتی کہاں ہوتی ہے؟ اس پر دادا نے کہا ہماری کھیتی اتنی بڑی ہوتی تھی جتنی خدا کی زمین۔ جہاں تک میں ہل چلا سکتا تھا وہ میری زمین تھی اور انسان اپنے ہاتھوں سے محنت کرتا تھا۔

بادشاہ نے پوچھا بوڑھے دادا آج کے زمانے میں اتنا بڑا گہوں کا دانہ کیوں نہیں پیدا ہوتا اس کی کیا وجہ ہے؟ اس پر دادا نے جواب دیا آج کل انسان اپنی کمائی پر مطمئن نہیں ہے، وہ دوسروں کی دولت کو لالچی نظروں سے دیکھتا ہے اور اندر ہی اندر جلتا ہے۔ اللہ تعالی نے اس کی صلاحیت کو چھین لیا ہے اب اس کا ذہن کند ہوگیا ہے، اس لیے آج کا انسان اتنا بڑا گیہوں کا دانہ نہیں ‍ اُگا سکتا۔

الغرض اس پورے سبق کا خلاصہ اس طرح ہے کہ آج کل کے انسان پہلے کے انسانوں سے بہت زیادہ کاہل ،غافل اور بدگمان ہو گئے ہیں۔ اس لئے اللہ تعالی نے ان کی زمینوں سے برکت کو چھین لیا ہے۔ اس لیے ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم محنت کریں اور اپنے سماج کو بہتر سے بہتر بنائیں۔

اس کہانی کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

سوال نمبر 3: خالی جگہوں کو پُر کیجئے۔

  • غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ انڈا نہیں (گیہوں) کا دانہ ہے۔
  • ایسا گیہوں کا (دانہ) اس سے پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔
  • اپنے پڑوسی کے مال کی طرف للچائی ہوئی (نظروں) سے نہ دیکھنا چاہیے۔
  • اس وقت ہر انسان اپنی (محنت) پر بھروسا کرتا تھا۔
  • اسی لیے اس کا گیہوں اتنا بڑا ہوتا تھا کہ دیکھنے میں انڈے کی (طرح) لگتا تھا۔