Advertisement

رتن سنگھ

رتن سنگھ ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ ان کی پہلی کہانی "ممی تم ایک دیوار ہو” کے نام سے شائع ہوئی۔ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ "پہلی آواز” 1969 میں منظر عام پر آیا۔اس کے بعد ان کے کئی افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔جن میں پنجرے کا آدمی،مانک موتی ،وغیرہ شامل ہیں۔

Advertisement

خلاصہ

"من کا طوطا” رتن سنگھ کا افسانہ ہے۔ انہوں نے اس ا افسانے میں یہ بتایا ہے کہ انسان کی خواہشات لا محدود ہوتی ہیں لیکن وہ ان کو پورا نہیں کر پاتا۔ کہیں سماج کی وجہ سے کبھی کسی اور پریشانی کی وجہ سے ،کہیں عقل سامنے آ جاتی ہے۔ چنانچہ مصنف نے اپنی تمام خواہشات کو طوطے کا روپ دے کر بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔اور ایک مختلف سا خوبصورت انداز بیان اختیار کیا ہے۔ اور یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ انسان جن خواہشات کو پورا نہیں کر پاتا وہ اپنے من کے طوطے یعنی خیالوں میں ہی سیر کرتا رہتا ہے۔ یہ بھی بتایا ہے کہ انسان کا دل کتنی خواہشات سے لبریز ہوتا ہے۔ یہ افسانہ ایک دلچسپ انداز بیان لیے ہوئے ہے۔ قاری کو پڑھتے ہوئے پورے طریقے سے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔

Advertisement

ایک دن من کا طوطا پھدک کر جسم سے باہر آگیا اور سامنے تپائی پر بیٹھ گیا۔اور پھر اڑ کر میز پر رکھی کتابوں کے اوپر جا کر بیٹھ گیا اور ایک کتاب کو چونچ سے مار کر اس نے کھول دیا تو مصنف نے کہا ، ”یہ کیا کر رہے ہو ؟کتاب پھٹ جائے گی“ طوطے نے جواب دیا پھٹ جائے تو اچھا۔انہیں پڑھ پڑھ کر ہی تم مجھے اپنی مرضی سے کچھ نہیں کرنے دیتے۔ یہ برا ہے یہ ٹھیک ہے، اسی طرح کرتے رہتے ہو۔ اس کے بعد طوطا اڑ کر کھڑکی پر جا بیٹھا۔ طوطے نے مصنف سے کہا کہ آج میرا من دنیا کی خوبصورتی دیکھنے کے لئے مچل رہا ہے۔ اس لئے میں شام تک واپس لوٹ آؤں گا اور یہ کہہ کر طوطا چلا گیا۔

Advertisement

بہرحال شام ہوئی اور من کا طوطا دھیرے دھیرے اڑتا ہوا واپس آیا۔ اور کھڑکی کے راستے سے کمرے میں داخل ہو کر تپائی پر بیٹھ گیا۔ مصنف نے من کے طوطے سے پوچھا بتاؤ کیسی بیتی؟ پھر من کے طوطے نے کہانی سنانا شروع کی کہ جب میں یہاں سے اڑ کر گیا تو ایک پیڑوں کے جھنڈ میں پہنچا وہاں پر کوے، مینا، چڑیا سبھی تھے۔تبھی میں نے ایک ٹہنی پر خوبصورت سی طوطی کودیکھا میں اس کے پاس جانے کا سوچ ہی رہا تھا لیکن تبھی ایک دوسرے طوطے کی نظر مجھ پر پڑ گئی اور وہ ٹیں ٹیں کرنے لگا۔

اس طرح سے اس نے سارے طوطوں کو بلا لیا اور وہ میری طرف جھپٹے۔میں وہاں سے دم دبا کراڑا۔ اب وہاں سے بھاگ کر میں ایک دریا کے کنارے پہنچا وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ ایک خوبصورت سی عورت دریا کے کنارے بیٹھی ہوئی نظر آئی۔ تو میں نے اپنے طوطے کا جامہ اتارا انسانی شکل میں آیا اور جیسے ہی میں نے اس کے قریب جانا چاہا تو اس کی لونڈی نے مجھے روک دیا اور کہا کہ اگر میری مالکن کے پاس جانا چاہتے ہو تو پہلے بستی میں جانا ہوگا جہاں ہاٹ لگی ہوئی ہے، ہیرے موتی بک رہے ہیں، چمکتے دمکتے زیور بک رہے ہیں۔خوبصورت مکان بھی بک رہے ہیں۔ یہ سب خرید کر آؤ تو چند قدم دریا کے کنارے چلتے ہوئے مالکن سے بات کرنے کا موقع ملے۔

Advertisement

تو میں اپنی قسمت آزمانے کے لیے بستی پہنچا۔ جہاں دولت تھی پھر من کے طوطے نے زیور اور مکان ،ہیرے موتی کے لیے کئی کئی بار سانپ اور جو سے کٹوایا۔ اور آخر میں مکان حاصل کرنے کے لئے پرندوں کی گنتی پانچ بار کی۔ آخر چھٹی بار مکان کے مالک کو مجھ پر ترس آگیا اس لیے اس نے کہا تیرا عشق سچا ہے تیری ضرورت بھی بڑی ہے اس لئے میں پکشی گنے بغیر مکان تمہیں دیتا ہوں۔ یہ سب سامان لے کر جب میں دریا کے کنارے آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ نہ پھولوں سے لدا پیڑ ہے ہے اور نہ ہی وہ پھول سی خوبصورت عورت دریا کے کنارے موجود ہے۔ اب وہاں نہ کوئی بستی تھی۔صرف ایک چٹیل میدان تھا۔ اب میرے من کے طوطے کی کہانی ختم ہو گئی۔ اور اس نے اپنی گردن گویا یوں ڈال دی جیسے وہ بہت تھک گیا ہو۔ اس کے بعد من کا طوطا جسم کے اندر داخل ہو گیا۔

بہرحال جب اگلے دن صبح ہوئی تو پھر میرے من کا طوطا میرے جسم سے نکل کر نو بہ نو ، تازہ بہ تازہ سامنے تپائی پر بیٹھ گیا اور پھر اسی طرح بھدکتا ہوا پہاڑ کی تصویر کے پاس گیا اور پھر وہاں سے مجھے کچھ کہے بغیر کھڑکی کے راستے سے باہر نکل گیا۔ تب سے میرے من کے طوطے کا یہی حال ہے۔پتا نہیں زندگی کی کون کون سی خواہشیں ہیں جو میرے من کے طوطے کو اپنی طرف بلاتی ہیں ہر شام کو وہ تھک ہار کر مایوس اور اداس واپس لوٹ آتا ہے۔

Advertisement

اس کہانی کے سوالوں کے جوابات کے لیے یہاں کلک کریں۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement