Advertisement

⭕️ مندرجہ ذیل اقتباس کی تشریح کیجئے۔

اقتباس 1 :

آج کل کے عالم کہتے ہیں کہ ہماری دنیا پہلے آگ کا ایک گولہ تھا۔ اس آگ کا نہیں جو ہمارے گھروں میں جلتی ہے۔ یہ ایک اور ہی آگ تھی جو بھی جلاۓ جلی اور بن بجھائے بجھ گئی۔ یہ وہ چیز تھی جسے ہم بجلی کہتے ہیں۔ لیکن کبھی نہ کبھی دنیا آگ کا گولا تھی ضرور کیونکہ ہمیں ایسے ہی لاکھوں، کروڑوں آگ کے گولے آسمان میں چکر کھاتے دکھائی دیتے ہیں اور ہماری زمین پر اب بھی آتش فشاں پہاڑ جب چاہتے ہیں دہکتی آگ اُگل دیتے ہیں یا زمین کے اندر سے کھولتے پانی کے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں۔

Advertisement

حوالہ: یہ اقتباس ہماری کتاب جان پہچان میں شامل ہے اور سبق مضمون "آدمی کی کہانی” سے لیا گیا ہے اس کے مصنف کا نام پروفیسر محمد مجیب ہے۔

Advertisement

تشریح : ہماری دنیا کے موجودہ پڑھے لکھے لوگ کہتے ہیں کہ یہ دنیا بہت پہلے ایک آپگ کا گولا تھی، مگر یہ ہماری دنیا کی یا ہمارے گھروں کی آگ نہیں تھی بلکہ یہ ایک ایسی قدرتی آگ تھی جو بِنا جلاۓ جلی تھی اور بِنا بجھاۓ بجھی تھی۔ ایک اندازہ کے مطابق یہ آگ دراصل بجلی تھی۔ پھر بھی یہ ضرور ہے کہ یہ دنیا آگ کا ہی گولا تھی، اس کا ثبوت یہ ہے کہ ہم ایسے ہی آ گ کے گولے لاکھوں کروڑوں آسان میں چکر کھاتے ہوئے دیکھتے ہیں اور آج بھی ہماری زمین پر پہاڑ آگ برسا دیتے ہیں اور کبھی زمین کے اندر سے کھولتے پانی کا جھرنا ابل آتا ہے۔

Advertisement

⭕️ غور کیجئے:

اللہ نے دنیا بنانے میں بہت غور و فکر کیا ہے اور اس کو بنانے میں بہت وقت لگا ہے اور یہ ایک کے بعد ایک مرحلہ طے کرتے ہوئے تیار ہوئی ہے۔ یہ دنیا سبھی طرح کی مخلوقوں کے لیے ہیں۔ یہاں انسان بھی ہیں اور حیوان بھی ہیں اور سبھی کو یہاں پر رہنے اور جینے کا حق خدا کی طرف سے حاصل ہے۔

⭕️سوالات و جوابات

سوال 1 : زمین سے بڑے آگ کے گولے کون سے ہیں؟

جواب : زمین سے بڑے آگ کے گولے آسمان کے چکر لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

Advertisement

سوال 2 : زمین کی بناوٹ سے زمین کی عمر کا اندازہ کس طرح لگایا جاسکتا ہے؟

جواب : آج کے زمانے کے عالم (سائنسدان) زمین کی بناوٹ سے چٹانوں اور دھاتوں سے کچھ حساب لگا سکتے ہیں کہ زمین کی عمر کیا ہے۔ لیکن یہ سنکھ دس سنکھ برس کے بھی آگے نکل جاتا ہے۔ بےچارے آدمی کی کھوپڑی میں سائنس کا یہ حساب سما نہیں سکتا۔

سوال 3 : زمین پر مختلف جانوروں کی نشوونما کیسے ہوئی؟

جواب : زمین پر مختلف جانوروں کی نشونما کروڑوں برس میں طرح طرح کے بھیس بدلتے ہوئے ہو سکی۔

Advertisement

سوال 4 : دودھ پلانے والے جانور بڑے بڑے بے ڈول جانوروں سے زیادہ سخت جان کیوں نکلے؟

جواب : دودھ پلانے والے جانور بڑے بڑے بے ڈول جانوروں سے زیادہ سخت جان اس لیے نکلے کہ وہ شروع ہی سے دودھ پی کر پلے تھے، دودھ نے ان کو سخت جان بنا دیا تھا۔

سوال 5 : زمین کے برفستان بن جانے پر جانوروں کا کیا حال ہوا؟

جواب : زمین کے برفستان بن جانے پر برف کے کھسکتے اور پھسلتے پہاڑوں نے سب کچھ اپنے پیروں تلے روند ڈالا۔

Advertisement

سوال 6 : آگ جلانا سیکھنے کے بعد انسانی زندگی میں کیا تبدیلی ہوئی؟

جواب : آگ جلانا سیکھنے کے بعد انسانی زندگی میں یہ تبدیلی ہوئی کہ وہ اپنے رہنے کی جگہوں پر آگ جلا کر تواپنے لگے اور سردی سے بچنے لگے۔ جانوروں کا گوشت، کچھ پھل اور کچھ چیزیں بھون کر کھانے لگے۔ پتھروں کو گھس کر ان سے بھونکنے اور کاٹنے لگے اور اور اس نے ان کی زندگی کو کچھ آسان کر دیا۔

⭕️ نیچے لکھے ہوئے محاوروں اور کہاوتوں کو جملوں میں استعمال کیجئے۔

کھوپڑی میں نہ سماناارمش علی کی بات مجید کی کھوپڑی میں نہ سمائی۔
بھیس بدلناضرورت کے مطابق بھیس بدلتے رہنا چاہیۓ۔
ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہوناپارٹی کوئی بھی ہو مگر سارے نیتا ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے ہیں۔

⭕️ پروفیسر محمد مجیب کی حالات زندگی تحریر کیجئے۔

پروفیسر محمد مجیب 1902ء کو لکھنؤ میں پیدا ہوئے۔ سینئر کیمبرج کا امتحان پاس کر کے انگلینڈ میں وکالت کی تعلیم حاصل کی۔ لندن میں انھوں نے فرانسیسی اور لاطینی زبانوں کا علم حاصل کیا۔ اور جرمنی جاکر جرمنی زبان بھی سیکھی۔ وطن واپس آکر جامعہ ملیہ اسلامیہ میں استاد مقرر ہو گئے۔ اور 1948ء میں شیخ الجامعہ بن گئے اور اسی عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ ان کو باغبانی سے بہت دلچسپی تھی۔ تاریخ میں ان کو مہارت حاصل تھی۔ انہوں نے کئی اعلیٰ درجے کی کتابیں لکھی ہیں۔ شعر و ادب سے بھی گہرا لگاؤ تھا۔ انہوں نے کئی مشہور ڈرامے لکھے ہیں اور کئی افسانے بھی لکھے ہیں۔ ان کی علمی ادبی اور قومی خدمات کے پیشِ نظر ہندوستانی حکومت نے ان کو پدم بھوشن کا خطاب عطا کیا ہے۔ 1985ء میں ان کا انتقال ہوا۔

Advertisement
تحریر🔘 ارمش علی خان محمودی بنت طیب عزیز خان محمودی🔘
Advertisement

Advertisement

Advertisement