• سبق : خطوط اکبر
  • مصنف : اکبر آلہ آبادی

سوال ۱ : اکبر الہ آبادی نے حبیب الرحمٰن خاں شیروانی کو جو خط تحریر کیا ہے ان میں کن باتوں کا ذکر کیا ہے؟

جواب : اکبر الہ آبادی نے حبیب الرحمٰن خاں شیروانی کو ان کے ندوة العلماء (جماعت کا نام) سے وابستہ ہونے پر کہا ہے کہ اگر ندوة العلماء چمن ہے، تو وہ اس کا پھول بلکہ اس کی بلبل ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے حبیب الرحمٰن خاں شیروانی کی بھیجی گئی کتاب کو بھی سراہا ہے۔

سوال ۲ : اکبر الہ ابادی نے سید افتخآر حسین کے نام جو خط تحریر کیا ہے اس میں کس بات پر اپنی مسرت کا اظہار کیا ہے؟

جواب : اکبر الہ ابادی نے سید افتخآر حسین کے محنت مشقت سے آگے بڑھنے اور ترقی حاصل کرنے پر اپنی مسرت کا اظہار کیا ہے۔

سوال ۳ : اس خط میں اکبر نے اپنی صحت اور دلی کیفیت کے متعلق جو لکھا ہے اسے بیان کیجیے۔

جواب : اس خط میں اکبر نے اپنی صحت اور دلی کیفیت کے متعلق لکھا ہے کہ میری عمر ٧٦ سال ہوگئی ہے۔ مخلتف بیماروں نے جکڑ رکھا ہے اور اس حال میں اپنی بڑھتی زندگی پر ہنسی آجاتی ہے۔

سوال ۴ : مندرجہ ذیل جملوں کا مطلب ، اپنے الفاظ میں تحریر کیجیے :

(ا)ندوۃ العلما چمن ہے تو آپ اس کے پھول ہیں اور زیادہ بامعنی ہونا چاہوں ، تو آپ اس کے بلبل ہیں۔

تعارفِ سبق

یہ اقتباس ہماری گیارہویں جماعت کی کتاب کے سبق ”خطوط اکبر“ سے لیا گیا ہے۔ یہ خط اکبر آلہ آبادی نے لکھے ہیں۔

تعارفِ مصنف

اکبر آلہ ابادی ہندوستانی زبان اور ہندوستانی تہذیب کے بڑے مظبوط اور دلیر شاعر تھے۔ ان کے کلام میں شمالی ہندوسان میں رہنے بسنے والوں کی تمام ذہنی و اخلاقی قدروں ، تہذیبی کارناموں ، سیاسی تحریکوں ،اور حکومتی کار روائیوں کے بھر پور سراغ ملتے ہیں۔ اکبر کی شاعری زمانہ اور زندگی کا آئینہ ہے۔ خواص اور عوام دونوں ان کو اپنا شاعر سمجھتے تھے۔ ان کی شاعری دونوں کے ذوق کو سیراب کرتی ہے۔ ان کا کلام مکمل اردو کا کلام ہے۔

تشریح

دراصل اکبر صاحب سید افتخار صاحب کو خط لکھ رہے ہیں اور اس جملے میں اکبر الہ ابادی نے ندوۃ العلما کو باغ کہا ہے اور سید افتخار حسین جو ندوۃ العلما سے منسلک ہوچکے ہیں انھیں اس امر پر مبارک باد پیش کی ہے اور ان کے کام کو سراہتے ہوئے، ان کی اہمیت کو بیان کرنے کے لیے لکھا ہے کہ آپ اس باغ کا پھول بلکہ چہکتی ہوئی بلبل ہیں۔

(ب) کیا اچھی جماعت کے ذکر سے آپ نے اپنی طبیعت کو بسا لیا۔ اس کی خوشبو ان شاءاللہ آپ کی روح کو گود میں لیے رہے گی۔

تعارفِ سبق

یہ اقتباس ہماری گیارہویں جماعت کی کتاب کے سبق ”خطوط اکبر“ سے لیا گیا ہے۔ یہ خط اکبر آلہ آبادی نے لکھے ہیں۔

تعارفِ مصنف

اکبر آلہ ابادی ہندوستانی زبان اور ہندوستانی تہذیب کے بڑے مظبوط اور دلیر شاعر تھے۔ ان کے کلام میں شمالی ہندوسان میں رہنے بسنے والوں کی تمام ذہنی و اخلاقی قدروں ، تہذیبی کارناموں ، سیاسی تحریکوں ،اور حکومتی کار روائیوں کے بھر پور سراغ ملتے ہیں۔ اکبر کی شاعری زمانہ اور زندگی کا آئینہ ہے۔ خواص اور عوام دونوں ان کو اپنا شاعر سمجھتے تھے۔ ان کی شاعری دونوں کے ذوق کو سیراب کرتی ہے۔ ان کا کلام مکمل اردو کا کلام ہے۔

تشریح

دراصل اکبر صاحب سید افتخار صاحب کو خط لکھ رہے ہیں اور اس جملے میں اکبر الہ ابادی نے سید افتخار حسین کے اس اچھی جماعت کا حصہ بننے پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ اللہ اس کے اجر سے آپ کی روح کو روشن رکھیں گے، یعنی اس نیک کام کا ثواب آپ کو تادیر ملتا رہے گا۔

  • (ج) کبھی آپ کو تماشا گروں کے اسٹیج پر نہیں دیکھا۔ میرا اصول یہی تھا اور ہے۔

تعارفِ سبق

یہ اقتباس ہماری گیارہویں جماعت کی کتاب کے سبق ”خطوط اکبر“ سے لیا گیا ہے۔ یہ خط اکبر آلہ آبادی نے لکھے ہیں۔

تعارفِ مصنف

اکبر آلہ ابادی ہندوستانی زبان اور ہندوستانی تہذیب کے بڑے مظبوط اور دلیر شاعر تھے۔ ان کے کلام میں شمالی ہندوسان میں رہنے بسنے والوں کی تمام ذہنی و اخلاقی قدروں ، تہذیبی کارناموں ، سیاسی تحریکوں ،اور حکومتی کار روائیوں کے بھر پور سراغ ملتے ہیں۔ اکبر کی شاعری زمانہ اور زندگی کا آئینہ ہے۔ خواص اور عوام دونوں ان کو اپنا شاعر سمجھتے تھے۔ ان کی شاعری دونوں کے ذوق کو سیراب کرتی ہے۔ ان کا کلام مکمل اردو کا کلام ہے۔

تشریح

اس جملے میں دراصل اکبر صاحب افتخار صاح کو ان کی کامیابی ہر مبارک باد پیش کررہے ہیں اور لکھتے ہیں کہ آپ نے آج تک جو بھی کامیابی حاصل کی ہے وہ اپنی محنت سے حاصل کی ہے اور کبھی بھی تماشاگروں کی طرح آپ نے اوچھی حرکتوں سے لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول نہیں کروائی، بلکہ ہمیشہ محنت کرنے کو ترجیح دی۔ اکبر آلہ آبادی مزید لکھتے ہیں کہ یہی میرا بھی اصول تھا اور ہے۔

  • (د) ہنسی آتی ہے کہ رشتہ حیات بھی تانت ثابت ہوا کرتا ہے۔ لیکن دم بھر کو بھی اس کا اعتبار نہیں۔

تعارفِ سبق

یہ اقتباس ہماری گیارہویں جماعت کی کتاب کے سبق ”خطوط اکبر“ سے لیا گیا ہے۔ یہ خط اکبر آلہ آبادی نے لکھے ہیں۔

تعارفِ مصنف

اکبر آلہ ابادی ہندوستانی زبان اور ہندوستانی تہذیب کے بڑے مظبوط اور دلیر شاعر تھے۔ ان کے کلام میں شمالی ہندوسان میں رہنے بسنے والوں کی تمام ذہنی و اخلاقی قدروں ، تہذیبی کارناموں ، سیاسی تحریکوں ،اور حکومتی کار روائیوں کے بھر پور سراغ ملتے ہیں۔ اکبر کی شاعری زمانہ اور زندگی کا آئینہ ہے۔ خواص اور عوام دونوں ان کو اپنا شاعر سمجھتے تھے۔ ان کی شاعری دونوں کے ذوق کو سیراب کرتی ہے۔ ان کا کلام مکمل اردو کا کلام ہے۔

تشریح

اس جملے میں اکبر الہ آبادی کہتے ہیں کہ زندگی کی طوالت پر بھی ہنسی آتی ہے۔ یعنی زندگی یوں تو بہت لمبی ہے اور یوں اس کی طوالت کا پل بھر کا بھی اعتبار نہیں کہ ابھی ختم ہوجائے۔ انسان کیا کیا سوچتا ہے اور کیا کیا پلین بناتا ہے لیکن افسوس جیسے ہی زندگی کی طوالت اپنے اختتام کو پہنچتی ہے انسان کے تمام دعوی دھرے کے دھرے رہ جاتے ہیں اور وہ اپنی آخری منزل کی جانب چلا جاتا ہے۔

سوال ۵ : ذیل کے الفاظ کے واحد جمع لکھیے :

واحدجمع
عرض عوارض
ادبآداب
صاحب صاحبان
ثابت اثبات
فرض فرائض
فائدہ فوائد
محنت محنتوں
تصنیف تصانیف
طبیعت طبائع
اثر اثرات
قدر اقدار
معلوم معلومات
زائد زوائد

سوال ٦ : کسی روزنامے کے مدیر کو ایک مراسلہ لکھیے جس میں یہ بتائیے کہ ہمارے ملک کے صحافی قوم و ملک کی تعمیر میں کس طرح اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔

محترم مدیر صاحب،
السلام علیکم!
جناب اعلیٰ نہایت ادب سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے ملک میں افسوس کہ صحافی اپنا کردار ٹھیک طرح سے نہیں پہچانتے اور اگر پہچان لیں تو اسے ٹھیک طرح سے یا تو ادا نہیں کرتے یا انھیں ادا نہیں کرنے دیا جاتا۔ جنابِ اعلیٰ میں سمجھتا ہوں کہ صحافی اگر چاہیں تو لوگوں میں شعور پیدا کرسکتے ہیں، ان کی بہت سارے معملات میں رہنمائی کرسکتے ہیں اور لوگوں کے سامنے ہمارے ملک و قوم کی اچھی تصویر پیش کرسکتے ہیں۔
جنابِ اعلیٰ اگر آپ میرا پیغام اپنے اخبار کے ذریعے صحافیوں تک پہنچائیں گے تو میں آپ کو مشکور رہوں گا۔
اس شہر کا شہری
ا – ب – ج