• سبق : خطِ اقبال
  • مصنف : علامہ محمد اقبال

سوال ۱ : علامہ اقبالؒ نے دہلی کو "اسلامی شان و شوکت کا قبرستان” کیوں کہا ہے؟

جواب : علامہ اقبالؒ نے دہلی کو "اسلامی شان و شوکت کا قبرستان” کہا ہے کیونکہ کے انگریزی نے دہلی پر قبضہ کرتے ہی مغلیہ سلطنت کی اسلامی شان و شوکت والی عمارتوں کو تباہ و برباد کردیا تھا۔ اور اب وہ ایک ویران اور اجڑا قبرستان نظر آتی ہیں۔

سوال ۲ : علامہ اقبال ؒ دہلی کس مقصد سے گئے تھے؟

جواب : علامہ اقبال نے حج کرنے کا ارادہ کیا اور اپنے سفر کا آغاز حضرت نظام الدین اولیاء کے مزار جو کے دہلی میں ہے کی زیارت سے کیا۔

سوال ۳ : حضرت محبوب الہٰی کے مزار مبارک کے متعلق علامہ اقبالؒ کے کیا تاثرات تھے؟

جواب : علامہ اقبال کہتے ہیں کہ حضرت محبوب الہٰی کی مزار بھی عجیب جگہ ہے، بس یہ سمجھ لیجئے دہلی کی پرانی سوسائٹی حضرت کے قدموں میں مدفون ہے۔

سوال ۴ : علامہ اقبال نے خواجہ حسن نظامی کو خوش قسمت کیوں کہا ہے؟

جواب : علامہ اقبال نے خواجہ حسن نظامی کو خوش قسمت اس لیے کہا ہے کہ ان کا مزار دلی کے خاموش اور عبرت انگیز مقام پہ قائم ہے۔

سوال ۵ : علامہ اقبال نے کس کے متعلق کہا ہے کہ "وہ کنج معانی مدفون ہے جس پر دلی کی خاک ہمشہ ناز کرے گی”۔

جواب : علامہ اقبال نے مرزا غالب کے متعلق کہا ہے کہ "وہ کنج معانی مدفون ہے جس پر دلی کی خاک ہمشہ ناز کرے گی۔”

سوال ٦ : علامہ اقبال کی آنکھیں کس بات پر پرنم ہوگئی تھیں؟

جواب : مرزا غالب کے مزار پر ایک لڑکے نے جس کا نام ولایت تھا جب اپنی خوش الحانی آواز میں یہ شعر پڑھا :
وہ بادہ شبانہ کی سرمستیاں کہاں!
اٹھیے ، بس اب کہ لذت خواب سحر ہوگئی۔
تو علامہ اقبال کی آنکھیں نم ہوگئیں۔

سوال ۷ : دہلی میں علامہ اقبال نے اور کن کن مزاروں پر حاضری دی؟

جواب : دہلی میں علامہ اقبال نے محبوب الہی رحمتہ اللہ علیہ، حضرت نظام الدین اولیاء ، مرزا غالب ، شہنشاہ ہمایوں اور دار بشکوہ کے مزاروں پر حاضری دی۔

سوال ۸ : بمبئی شہر کے متعلق علامہ اقبال نے اپنے کن تاثرات کا اظہار کیا ہے؟

جواب : بمبئی شہر کے متعلق علامہ اقبال نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا کہ بمبئی ایسا ترقی یاقتہ شہر ہے۔ کشادہ بازار ، بلند عمارتیں ، بازاروں میں گاڑیوں کی آمدورفت نے پیدل چلنے والوں کو مشکل کا شکار کر دیا ہے۔ یہاں ملکی، غیر ملکی ہر چیز مل جاتی ہے، جو نہیں ملتی وہ صرف فرصت ہے۔

سوال ۹ : فرانسیسی جہاز کی کن خصوصیات سے علامہ اقبال متاثر ہوئے؟

جواب : علامہ اقبال فرانسیسی جہاز کی صفائی اور بہترین انتظامات دیکھ کر متاثر ہوئے۔

سوال ۱۰ : جب جہاز سرزمین عرب کے قریب پہنچا تو علامہ اقبال کی دلی کیفیات کیا تھیں؟

جواب : جب جہاز سرزمین عرب کے قریب پہنچا تو علامہ اقبال کی دلی کیفیات کچھ اس شعر جیسی تھی۔
اللہ رے خاک پاک مدینے کی آبرو
خورشید بھی گیا تو ادھر سر کے بل گیا۔

سوال ۱۱ : علامہ اقبال کے خط کی جن خوبیوں نے آپ کو متاثر کیا ہو ان پر روشنی ڈالیے؟

جواب : علامہ اقبال کے خط کی جن خوبیوں نے مجھے متاثر کیا وہ یہ ہیں کہ ان کا خط سادہ الفاظ پر مشتعمل تھا۔ انہوں نے اپنے خط میں اپنی کیفیات کا بخوبی اظہار کیا ہے اور ساتھ ہی اپنے سفر کے دوران جہاں بھی زیارت کے لیے گئے وہاں کا احوال اپنے خط میں درج کردیا۔ مسلمانوں کی شان و شوکت سے زوال تک کے سفر کا بھی تذکرہ ان کے خط میں موجود تھا۔

سوال ۱۲ : ذیل کے جملوں کے مفہوم کی وضاحت کیجیے :

(ا) تو ایک پتھر تھی جس کو دنیا کے معماروں نے رد کر دیا تھا۔

تعارفِ سبق

یہ اقتباس ہماری گیارہویں جماعت کی کتاب کے سبق ”خط اقبال“ سے لیا گیا ہے۔ یہ خط علامہ اقبال نے لکھا ہے۔

تعارفِ مصنف

شیخ محمد اقبال سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا ، ضربِ کلیم ، بالِ جبریل اور ارمغان حجاز ان کے اردو کلام پر مشتمل کتابیں ہیں۔ پہلے وطن دوستی پھر ملت دوستی اور پھر انسان دوستی ان کی شاعری کے اہم موضوعات ہیں۔ آپ نے مسلمانوں کے سیاسی شعور کو صحیح سمت عطا کی۔

تشریح

مندرجہ بالا اقتباس میں علامہ اقبال عرب کی سر زمین سے مخاطب ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ عرب کی مقدس زمین ایک پتھر کی مانند تھی جیسے اس وقت کے ناسمجھ لوگوں نے رد کردیا تھا۔

(ب) ایک یتیم بچے نے خدا جانے تجھ پر کیا افسوں پڑھ دیا کہ موجودہ تہذیب و تمدن کی بنیاد تجھ پر رکھی گئی۔

تعارفِ سبق

یہ اقتباس ہماری گیارہویں جماعت کی کتاب کے سبق ”خط اقبال“ سے لیا گیا ہے۔ یہ خط علامہ اقبال نے لکھا ہے۔

تعارفِ مصنف

شیخ محمد اقبال سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا ، ضربِ کلیم ، بالِ جبریل اور ارمغان حجاز ان کے اردو کلام پر مشتمل کتابیں ہیں۔ پہلے وطن دوستی پھر ملت دوستی اور پھر انسان دوستی ان کی شاعری کے اہم موضوعات ہیں۔ آپ نے مسلمانوں کے سیاسی شعور کو صحیح سمت عطا کی۔

تشریح

اس اقتباس میں علامہ اقبال کہتے ہیں کہ پہلے عرب میں جہالت عروج پر تھی لیکن پھر ایک بچے یعنی حضرت محمد ﷺ نے جانے کیا جادو کیا اس زمین پر کہ موجودہ تہذیب کی بنیاد اس زمین پر رکھی گئی اور اسلام کی اشاعت یہیں سے ہوئی۔

سوال ۱۳ : اپنے کسی غیر ملکی قلمی دوست کو ایک خط لکھیے جس میں پاکستان کے قابل دید مقامات کے بارے میں معلومات بہم پہنچائیے۔

پیارے دوست،
خوش رہو!
تم کیسے ہو اور باقی سب گھر والے کیسے ہیں؟ کافی دنوں سے تمھارا کوئی خط نہیں ملا تو سوچا آج تمھیں میں ہی خط لکھ دوں۔ پیارے دوست میں سوچ رہا تھا کہ ہم لوگ الگ الگ ملکوں میں رہتے ہیں، ہمارا رہن سہن ، ہماری تہذیب بہت مختلف ہے۔ پیارے دوست یہاں پاکستان میں گھومنے پھرنے کے لیے بہت ساری جگہیں ہیں جنہیں دیکھ کر انسان کی عقل دنگ رہ جاتی ہے۔ یہاں کراچی میں تمھیں ساحلِ سمندر نظر آئے گا اور کئی الگ الگ جگہوں پر سمندر کے کنارے ملیں گے۔ پھر سندھ میں کینجھر کے نام سے ایک مشہور اور خوبصورت جھیل بھی موجود ہے۔ ایسی ہی ایک جھیل بلوچستان میں بھی ہے اور ناران کی جانب موجود سیف الملوک اور آنسو جھیل بھی اپنی مثال آپ ہیں۔ پنجاب کی طرف تمھیں مختلف کھیت نظر آئیں گے، اسلام آباد میں فیصل مسجد، لاہور میں مینارِ پاکستان اور بادشاہی مسجد ، لاہور ہی میں ایک بہت بڑا چڑیا گھر بھی موجود ہے۔ کراچی میں تمھیں قائد کی مزار بھی دیکھنے کو ملے گی۔ اور پھر پاکستان میں کے ٹو پہاڑ بھی موجود ہے اور اس کے علاوہ بھی بہت سی جگہیں موجود ہیں۔ میں تمہارے ملک کے متعلق بھی جاننا چاہتا ہوں۔ اس خط کا جواب ضرور لکھنا، تمھارے خط کا مجھے انتظار رہے گا۔
فقط تمھارا دوست
ا – ب – ج