Advertisement
  • نظم : پیغام
  • شاعر : علامہ اقبال

تعارفِ نظم :

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”پیغام“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام علامہ اقبال ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر :

شیخ محمد اقبال سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ بانگِ درا ، ضربِ کلیم ، بالِ جبریل اور ارمغان حجاز ان کے اردو کلام پر مشتمل کتابیں ہیں۔ پہلے وطن دوستی پھر ملت دوستی اور پھر انسان دوستی ان کی شاعری کے اہم موضوعات ہیں۔ آپ نے مسلمانوں کے سیاسی شعور کو صحیح سمت عطا کی۔

Advertisement
آشنا اپنی حقیقت سے ہو اے دہقاں ذرا
دانہ تو، کھیتی بھی تو، باراں بھی تو، حاصل بھی تُو

تشریح :

اس نظم "پیغام”میں شاعر علامہ محمد اقبالؒ مسلمانوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ مسلمانوں اپنے آپ کو پہچانو، اپنی صلاحیت کو دیکھو تم منفرد صلاحیت کے ساتھ پروان چڑھے ہو۔ اقبال اپنا فلسفہ خودی بھی اس میں شامل کرتے ہوئے مسلمانوں کو بیدار کرنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں مسلمان غلامی و ذلت کی زندگی گزارنے کو نہیں بنا مسلمانوں کو اپنی حریت پر سمجھوتہ نہیں کرنا چاہئے۔ مسلمان کو ان کا اصل مقام دیکھانے کو وہ یہ بات کہتے ہیں کہ اپنا مرتبہ پہچانوں یہ سارا جہاں تمہارے لیے سجایا گیا ہے تم اللہ تعالیٰ کے بندے ہو یہ دنیا تمہارے لیے ہے، تم اس کائنات کا مرکز ہو پس تم اپنی خودی کو پہچان لو۔

Advertisement
آہ، کس کی جُستجو آوارہ رکھتی ہے تجھے
راہ تُو، رہرو بھی تُو، رہبر بھی تُو، منزل بھی تُو

تشریح :

1857 کی جنگ آزادی کے بعد مسلمانوں پر زوال کے دروازے کھل گئے اور مسلمان تیزی سے اپنے اقدار کھوتے گئے۔ انگریز اور ہندوؤں کے گٹھ جوڑ سے مسلمانوں کی بقا کا سوال اٹھنے لگا۔ مسلمانوں میں مغرب تہذیب اور ہندووانہ رسوم کا حلول تیزی سے ہو رہا تھا اس سب کو دیکھتے ہوئے لوگوں نے کہنا شروع کر دیا مسلمانوں کی بقا مغربی طرز کو اپنانے میں ہے۔ اس پر اقبال نے مسلمانوں کو آئینہ دکھایا کہ تمہارا شاندار ماضی دیکھو تم فاتح ایران ، روم اور فارس کے جانشین ہو تمہیں اپنی بقا کے لیےکسی کی ثقافت ورسومات کا سہارا نہیں لینا۔ مسلمانوں آپﷺ کے اسلام پر چلو بھلے کتنی ہی مشکلات کیوں نہ ہوں بلآخر اس میں ہی کامیابی ہے۔ اس نظم میں اقبال نے مسلمانوں کو نبیﷺ اصحاب اور اسلاف کے راستے پر راسخ رہنے کی تاکید کی جس سے مسلمان دنیا میں پھر سے طاقت بن کر ابھریں گے۔

کانپتا ہے دل ترا اندیشۂ طوفاں سے کیا
ناخدا تو، بحر تو، کشتی بھی تو، ساحل بھی تُو

تشریح :

جس دور میں مسلمانوں کا زوال شروع ہو گیا تھا۔ہر جگہ سے بری خبریں آرہی تھیں۔ مسلمانوں کی سلطنتیں مٹتی جا رہی تھیں ، مسلمانوں کا اتحاد ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا۔ اس دور میں اقبال مسلمانوں سے مخاطب ہو کرکہتے ہیں کہ مسلمانوں اس طوفان سے کیوں گھبراتے ہو، مسلمانوں کی حالت ابتر ہے مگر مسلمانوں کا زوال دائمی نہیں۔ مسلمان آج بھی خودی کو پہچان لیں تو پھر سے دنیا پر حکمرانی کر سکتے ہیں۔ مسلمانوں کو نبیﷺ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہوگا۔ مسلمانوں کسی انگریزکی پیروی نہ کریں نہ ہندوؤں کے رحم و کرم پر رہیں بلکہ وہ جوش پھر سے اجاگر کریں جس نے بدر کے محاذ پر مسلمانوں کو فتح دی تھی۔ مسلمانوں ہی رہنمائی کر سکتا ہے مسلمانوں کو بس اپنا قبلہ درست کرنا ہے۔

Advertisement
دیکھ آ کر کوچۂ چاکِ گریباں میں کبھی
قیس تو، لیلیٰ بھی تو، صحرا بھی تو، محمل بھی تُو

تشریح :

نظم "پیغام” کے شاعر علامہ اقبال مسلمانوں کو بیدار کرنے کو کہتے ہیں کہ ہر شخص اپنی اجتماعی خودی کو بیدار کرے۔ اقبال اس شعر میں مسلمانوں کو خود نگر و خود بین بننے کا سبق دیتے ہیں کہتے ہیں کہ اپنے گریباں کو دیکھو اپنے آپ کی منزلت کو پہچانوں، جب ہر شخص اپنا جائزہ لے گا تو وہ اپنے مقصد حیات کو پہچان لے گا اور ہو ہے حق پرستی۔ مسلمانوں کو اپنی خوداری اور حریت پر نظر ثانی کرنی چاہئے ایک وقت تھا کہ مسلمان سر پر کفن باندھ کر نکلتےتھے اور اللہ کی بندگی اور ایمان کے جذبے سے وہ دنیا کے بڑی بڑی طاقتیں فتح کر لیتے تھے مگر آج مسلمان تدبر نہیں کرتا سوچ و بچار نہیں کرتا۔ مسلمان مشکلات سے ڈرتے نہیں بلکہ دہکتی آگ میں اللہ کے بھروسے گود جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو بتاتے ہیں کہ یہ تو ہمارا ایمان ہے کہ اندھے کنویں میں گرنے کے بعد ہم نکل بھی جاتے ہیں۔ اقبال مسلمانوں کو ایمانی کی معراج کرنے کا درس دیتے ہیں۔

وائے نادانی کہ تُو محتاجِ ساقی ہو گیا
مے بھی تو، مِینا بھی تو، ساقی بھی تو، محفل بھی تُو

تشریح :

نظم "پیغام” شاعر علامہ اقبال تباہ حال اور سہمے ہوئے مسلمانوں تک ان کے اسلاف کا پیغام پہنچاتے ہوئے کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو کسی کی محتاجی ذیب نہیں دیتی، مسلمان تو آزادی پسند ہوتا ہے۔ وہ کسی کی غلامی کو تسلیم نہیں کرتا۔مسلمانوں نے جب تہذیب و تمدن مغربی اپنا لیا تھا، مسلمان مکمل طور پر انگریزوں کے رحم و کرم پر ہو گئے تھے تب اقبال نے مسلمانوں کو جوش دلانے کو بتایا کہ افسوس تم نے اپنے مقام و مرتبے کو فراموش کر دیا۔ تو بھول گیا تو سارے زمانے کی رہنمائی کرنے والا ہے، اہل دنیا نے تیرے اعلیٰ تصورات و تخیلات سے مستفید ہونا ہے۔ تمہارے پاس وہ سوز ہے جو دنیا پر کئی راز منکشف کرے گا۔ تمہیں قائدانہ کردار ادا کرنا ہی ہوگا کیونکہ تو دنیا میں ایک اللہ کا ماننے والا ہے تو توہمات و جہالیت سے پاک ہے۔ تیری سوچ و فکر غیر جانبدار ہے جس سے دنیا کو مستفید ہونا ہے۔

Advertisement
شُعلہ بن کر پھُونک دے خاشاکِ غیر اللہ کو
خوفِ باطل کیا کہ ہے غارت گرِ باطل بھی تُو

تشریح :

نطم "پیغام” شاعر علامہ محمد اقبال مسلمانوں کو ان کی اہمیت اور اعلیٰ مرتبے سے آشنا کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے کبھی باطل قوتوں کو تسلیم نہیں کیا، مسلمان تو بت شکن ہیں مسلمانوں نے بت پرستوں کی غلامی کیوں قبول کر لی۔ اقبال نے مسلمانوں کو ہندؤں کے ظلم و ستم سہتے ہوئے کہا کہ تم بندہ مومن ہو تمہارا کام ہے غیر اللہ کا سفایا کرنا بتوں کو توڑنا تم نے بتوں کے سامنے سر کیوں جھکا دیئے۔ مسلمانوں کے پست ایمان کی وجہ سے وہ مسلمانوں کو توحید کا درس دیتے ہیں کہ کیا تمہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت و نصرت پر یقین نہیں رہا جو تم نے غیر اللہ کی غلامی قبول کر لی۔ اقبال کہتے ہیں کہ باطل سے خوف کھانا مسلمان کو جچتا نہیں بلکہ باطل کو حق کی ضربت سے مٹانا ہی مسلمان کی پہچان ہے۔ اٹھ اور اپنی توحید کی طاقت سے دنیا کو فتح کر طاقت اپنے ہاتھوں میں لے کر باطل کی قوتوں کا خاتمہ کر۔

بے خبر! تُو جوہرِ آئینۂ ایّام ہے
تُو زمانے میں خدا کا آخری پیغام ہے

تشریح :

نظم "پیغام” میں شاعر علامہ محمد اقبال مسلمانوں سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں کہ مسلمان اپنی اصلیت کو بھول کر مغربی تہذیب کے زیرِ اثر ہو گیا ہے۔ مسلمانوں کو بت شکنی اور باطل کے خلاف مقابلہ کرنا بھول گیا ہے۔ مسلمانوں نے اپنی تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا بلکہ وہ اپنا ماضی بھول چکا ہے اب وہ جدید دور میں جدید تقاضوں کے تحت غلامی کو قبول کر لیتا ہے۔ خدا نے تمہیں نائب بنا کر بھیجا ہے، خدا نے قیامت تک کے دین کی ذمہ داری تمہارے کندھوں پر ڈالی ہے۔ خدا نے تمہیں اپنے پیغام کا داعی بنایا ہے جو عملاً تمہیں دنیا کو بتانا ہوگا۔ تم سب سے بہتر ہو۔ سب سے عالی مرتبہ تمہارا ہے۔ اے مسلم اپنے مقام کو پہچان، دین کی تعلیمات پر چل کر دنیا میں پھر سے اپنی منفرد پہچان کو برقرار رکھ۔

Advertisement

سوال: نظم ”پیغام“ کا مرکزی خیال بیان کریں۔

اس نظم میں شاعر نے انسانوں کو ہمت مرداں کا پیغام دیا ہے۔ اس نظم کا مرکزی خیال یہ ہے کہ انسان کو اپنے کسی مقصد کو پورا کرنے کے لیے دوسروں کے سہارے اور محتاجی کی ہرگز ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ خود مختار ہے اور اپنا اچھا برا جان کر اپنے لیے فیصلہ کرنے کی قوت رکھتا ہے۔

سوال: نظم "پیغام” کا خلاصہ لکھیں۔

نظم پیغام کا خلاصہ :

اس نظم میں شاعر کہتے ہیں کہ اے بندہ خاکی اپنی حقیقت کو پہچان۔ تو ہی تو ہے جو زمین میں ڈال کر دانہ کھیتی کرتا ہے اور زمین میںپ پھل پھول کا لگنا تیری ہی محنت کا نتیجہ ہے۔ یعنی ایک تیار فصل کسان کی دن رات کی محنت کا ثمر ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اور کس کی تلاش میں تو ہر وقت مارا مارا پھرتا ہے۔ تو تو خود ہی ایک رہنما ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اے انسان تو اپنی ذات کا مسافر ہے اور خود ہی اپنی منزل بھی ہے۔ شاعر اس نظم میں لوگوں سے پوچھ رہے ہیں کہ تمہارے دل میں کہیں طوفان کا ڈر کیوں ہے جبکہ تم اپنا سمندر بھی خود ہو اور اپنی کشتی بھی خود ہو اور خود ہی اپنا کنارہ بھی ہو۔ شاعر کہتے ہیں کہ تمہارے دل میں باطل کا خوف کیوں ہے؟ تو باطل سے متاثر نہ ہو، باطل کا کوئی وجود نہیں اور یاد رکھ کے مومن کا اختتام تو بس توحید ہے۔

Advertisement

اس نظم میں دراصل علامہ اقبال نے انسانوں کو ہمت مرداں کا پیغام دیا ہے اور یہ بتایا ہے کہ انہیں اپنے کسی مقصد کے لیے دوسروں کے سہارے اور محتاجی کی ہرگز ضرورت نہیں ہے بلکہ وہ خود مختار ہیں اور اپنا اچھا برا جان کر اپنے لیے فیصلہ کرنے کی قوت رکھتے ہیں۔ شاعر نے اس نظم میں یہ بھی کہا ہے کہ باطل سے مرعوب نہ ہو وہ جتنے بھی منہ زور ہوجائیں آخرت میں ان کے لیے رسوائی ہے جبکہ جیت مومن کی ہی ہوگی۔

سوال 5 : مندرجہ ذیل الفاظ و تراکیب کی وضاحت کریں۔

تدبر :غور وفکر
تاج سردارا :ایران کے بادشاہ کے سر کا تاج۔
منعم :نعمت دینے والا۔
اندیشہ طوفان :طوفان آنے کا خوف
آئین مسلم :مسلمانوں کا قانون
سیپارہ :سپارہ / قرآن مجید میں موجود تیس سپارے۔
Advertisement

Advertisement

Advertisement