Advertisement
  • نظم : حمد
  • شاعر : نظیر اکبر آبادی
الہی تو فیاض ہے اور کریم ہے۔
الہی تو غفار ہے اور رحیم ہے۔
مقدس ، معلی ، منزہ ، عظیم
نہ تیرا شریک اور نہ تیرا سہیم
تری ذات والا ہے یکتا قدیم

تعارفِ نظم

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”حمد“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام نظیر اکبر آبادی ہے۔

تعارفِ شاعر

نظیر اکبر آبادی کا نام ولی محمد اور تخلص نظیر تھا۔ اردو، فارسی زبان پر انھیں دست رس حاصل تھی۔ نظیر اردو کے پہلے شاعر ہیں جنھوں نے نظمیہ شاعری کو فروغ دیا۔ وہ ایک خالص عوامی شاعر تھے۔ ”برسات کی بہاریں، آدمی نامہ، ہنس نامہ، اور بنجارہ نامہ“ وغیرہ آپ کی معروف نظمیں ہیں۔

Advertisement
حمد نظیر اکبر آبادی 1

تشریح

اس بند میں شاعر نے اللہ ﷻ کی صفات بیان کی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اللہ تبارک تعالی کی ذات اپنے بندے کے لیے بڑی کریم اور سخی ہے۔ وہ ربﷻ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے اور اللہ سب پاک ، بلند اور بے عیب ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔ اللہ ﷻ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔

تیرے حسن قدرت نے یاکردگار !
کئے ہیں جہاں میں وہ نقش ونگار
پہنچتی نہیں عقل انہیں ذرہ وار
تخیر میں ہے دیکھ کر بار بار
ہیں جتنے جہاں میں ذہین و فہیم

تعارفِ نظم

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”حمد“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام نظیر اکبر آبادی ہے۔

تعارفِ شاعر

نظیر اکبر آبادی کا نام ولی محمد اور تخلص نظیر تھا۔ اردو، فارسی زبان پر انھیں دست رس حاصل تھی۔ نظیر اردو کے پہلے شاعر ہیں جنھوں نے نظمیہ شاعری کو فروغ دیا۔ وہ ایک خالص عوامی شاعر تھے۔ ”برسات کی بہاریں، آدمی نامہ، ہنس نامہ، اور بنجارہ نامہ“ وغیرہ آپ کی معروف نظمیں ہیں۔

تشریح

اس بند میں شاعر نے اللہ ﷻ کی تخلیقات کی تعریف کی ہے کہ اس خوبصورت دنیا میں اللہ ﷻ نے ایسے حسین اور روح پرور مناظر تخلیق کئے ہیں جن کو دیکھ کر نظر ساکت اور آنکھ حیران رہ جاتی ہے۔ اس کی تخلیقات کے آگے بڑے بڑے دانا اور عقل والے بھی کنگ رہ جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ کسی عام انسان کی سوچ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی جہاں سے اللہ کی قدرت کا آغاز ہوتا ہے۔

زمین پہ سموات گرداں کئے
نجوم ان میں کیا کیا درخشاں کئے
نباتات بے حد نمایاں کیے
عیاں بحر سے درومرجاں کئے
حجر سے جواہر بھی ، اور زر و سیم

تعارفِ نظم

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”حمد“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام نظیر اکبر آبادی ہے۔

تعارفِ شاعر
نظیر اکبر آبادی کا نام ولی محمد اور تخلص نظیر تھا۔ اردو، فارسی زبان پر انھیں دست رس حاصل تھی۔ نظیر اردو کے پہلے شاعر ہیں جنھوں نے نظمیہ شاعری کو فروغ دیا۔ وہ ایک خالص عوامی شاعر تھے۔ ”برسات کی بہاریں، آدمی نامہ، ہنس نامہ، اور بنجارہ نامہ“ وغیرہ آپ کی معروف نظمیں ہیں۔

تشریح

اس بند میں شاعر نے اللہ کی بنائی اشیاء کا تذکرہ کیا ہے کہ اللہ نے زمین و آسماں بنائے اور آسمان پہ کئیں روشن ستارے سجائے۔ جانور اور پرندے پیدا کئے اور پودے اگائے۔ سمندر ، دریا بہائے اور ایسے ایسے قمیتی خوبصورت پتھر بنائے کہ دیکھنے والی آنکھ عش عش کر اٹھے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اللہ نے مٹی سے بے شمار خزانے یعنی معادنیات کو بھی پیدا کیا۔

شگفتہ کئے گل بہ فصل بہار
عنادک بھی اور قمری وکہک وسار
بروبروگ ونخل وشجر شاخسار
طراوات سے خوشبو سے ہنگام کار
رواں کی صبا ہر طرف اور نسیم ۔

تعارفِ نظم

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”حمد“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام نظیر اکبر آبادی ہے۔

تعارفِ شاعر

نظیر اکبر آبادی کا نام ولی محمد اور تخلص نظیر تھا۔ اردو، فارسی زبان پر انھیں دست رس حاصل تھی۔ نظیر اردو کے پہلے شاعر ہیں جنھوں نے نظمیہ شاعری کو فروغ دیا۔ وہ ایک خالص عوامی شاعر تھے۔ ”برسات کی بہاریں، آدمی نامہ، ہنس نامہ، اور بنجارہ نامہ“ وغیرہ آپ کی معروف نظمیں ہیں۔

تشریح

اس بند میں شاعر کہتے ہیں اللہ ﷻ نے خوبصورت موسم تخلیق کئے ہیں۔ ہر موسم کی اپنی ایک خاصیت ہے۔ پرندوں کو چہچہانے کے لیے اللہ نے میٹھی مدھر آواز دی ہے اور پھولوں کو خوشبو عطا کی ہے، جو مہکار کا سبب ہے اور صبح کی تازہ ہوا جو انسان کو تازگی کا احساس بخشتی ہے،وہ بھی اللہ ہی کی قدرت ہے۔

عطا کی انہیں دولت معرفت
عبادت اطاعت نکو منزلت
حیا ، حسن، الفت، ادب، مصلحت
تمیز سخن، خلق خوش، مکرمت
فراواں دیئے اور ناز و نعیم

تعارفِ نظم

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”حمد“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام نظیر اکبر آبادی ہے۔

تعارفِ شاعر

نظیر اکبر آبادی کا نام ولی محمد اور تخلص نظیر تھا۔ اردو، فارسی زبان پر انھیں دست رس حاصل تھی۔ نظیر اردو کے پہلے شاعر ہیں جنھوں نے نظمیہ شاعری کو فروغ دیا۔ وہ ایک خالص عوامی شاعر تھے۔ ”برسات کی بہاریں، آدمی نامہ، ہنس نامہ، اور بنجارہ نامہ“ وغیرہ آپ کی معروف نظمیں ہیں۔

تشریح

اس بند میں ان خوبیوں کا ذکر کیا ہے جو اللہ نے انسان کو عطا کی ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ اللہ نے انسان کو عقل و شعور کی دولت عطا کی ہے۔ عبادت اور بندگی کے طریقے بتائے ہیں۔ شرم وحیا اور محبت کو سمجھنے کی صلاحیت دی ہے۔ اچھے برے کی تمیز سیکھائی ہے تاکہ انسان صحیح راہ پر چل کر اللہ ﷻ کی دی نعمتوں سے فائدہ حاصل کر سکے۔

تیرا شکر احساں ہو کسی سے ادا
ہمیں مہر سے تونے پیدا کیا
کئے اور الطاف بے انتہا
نظیر اس کے سواکیا کہے سر جھکا
یہ سب تیرے اکرام ہیں یا کریم

تعارفِ نظم

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”حمد“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام نظیر اکبر آبادی ہے۔

تعارفِ شاعر

نظیر اکبر آبادی کا نام ولی محمد اور تخلص نظیر تھا۔ اردو، فارسی زبان پر انھیں دست رس حاصل تھی۔ نظیر اردو کے پہلے شاعر ہیں جنھوں نے نظمیہ شاعری کو فروغ دیا۔ وہ ایک خالص عوامی شاعر تھے۔ ”برسات کی بہاریں، آدمی نامہ، ہنس نامہ، اور بنجارہ نامہ“ وغیرہ آپ کی معروف نظمیں ہیں۔

تشریح

اس بند میں شاعر نے اللہ کی شکر گزاری کی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ اللہ کی بے شمار نعمتوں کا شکر کس طرح سے ادا کیا جاسکتا ہے، اللہ ﷻ نے ہمیں پیدا کیا اور بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے، جن کا استعمال ہم دن رات کرتے ہیں۔ اور اب یہی طریقہ ہے اللہ کا شکر ادا کرنے کا کہ ہم سر جھکا کر اللہ ﷻ کی حمدو ثنا کریں کہ وہ کریم ہے۔

سوال ۱ : اس حمد کے پہلے ، دوسرے اور پانچویں بند کی تشریح کیجیے :

الہی تو فیاض ہے اور کریم ہے۔
الہی تو غفار ہے اور رحیم ہے۔
مقدس ، معلی ، منزہ ، عظیم
نہ تیرا شریک اور نہ تیرا سہیم
تری ذات والا ہے یکتا قدیم

تعارفِ نظم

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”حمد“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام نظیر اکبر آبادی ہے۔

تعارفِ شاعر

نظیر اکبر آبادی کا نام ولی محمد اور تخلص نظیر تھا۔ اردو، فارسی زبان پر انھیں دست رس حاصل تھی۔ نظیر اردو کے پہلے شاعر ہیں جنھوں نے نظمیہ شاعری کو فروغ دیا۔ وہ ایک خالص عوامی شاعر تھے۔ ”برسات کی بہاریں، آدمی نامہ، ہنس نامہ، اور بنجارہ نامہ“ وغیرہ آپ کی معروف نظمیں ہیں۔

تشریح

اس بند میں شاعر نے اللہ ﷻ کی صفات بیان کی ہیں، وہ کہتے ہیں کہ اللہ تبارک تعالی کی ذات اپنے بندے کے لیے بڑی کریم اور سخی ہے۔ وہ ربﷻ معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے اور اللہ سب پاک ، بلند اور بے عیب ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ کوئی اس کا شریک نہیں ہے۔ اللہ ﷻ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔

تیرے حسن قدرت نے یاکردگار !
کئے ہیں جہاں میں وہ نقش ونگار
پہنچتی نہیں عقل انہیں ذرہ وار
تخیر میں ہے دیکھ کر بار بار
ہیں جتنے جہاں میں ذہین و فہیم

تعارفِ نظم

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”حمد“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام نظیر اکبر آبادی ہے۔

تعارفِ شاعر

نظیر اکبر آبادی کا نام ولی محمد اور تخلص نظیر تھا۔ اردو، فارسی زبان پر انھیں دست رس حاصل تھی۔ نظیر اردو کے پہلے شاعر ہیں جنھوں نے نظمیہ شاعری کو فروغ دیا۔ وہ ایک خالص عوامی شاعر تھے۔ ”برسات کی بہاریں، آدمی نامہ، ہنس نامہ، اور بنجارہ نامہ“ وغیرہ آپ کی معروف نظمیں ہیں۔

تشریح

اس بند میں شاعر نے اللہ ﷻ کی تخلیقات کی تعریف کی ہے کہ اس خوبصورت دنیا میں اللہ ﷻ نے ایسے حسین اور روح پرور مناظر تخلیق کئے ہیں جن کو دیکھ کر نظر ساکت اور آنکھ حیران رہ جاتی ہے۔ اس کی تخلیقات کے آگے بڑے بڑے دانا اور عقل والے بھی کنگ رہ جاتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ کسی عام انسان کی سوچ بھی وہاں تک نہیں پہنچ سکتی جہاں سے اللہ کی قدرت کا آغاز ہوتا ہے۔

عطا کی انہیں دولت معرفت
عبادت اطاعت نکو منزلت
حیا ، حسن، الفت، ادب، مصلحت
تمیز سخن، خلق خوش، مکرمت
فراواں دیئے اور ناز و نعیم

تعارفِ نظم

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی نظم ”حمد“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام نظیر اکبر آبادی ہے۔

تعارفِ شاعر

نظیر اکبر آبادی کا نام ولی محمد اور تخلص نظیر تھا۔ اردو، فارسی زبان پر انھیں دست رس حاصل تھی۔ نظیر اردو کے پہلے شاعر ہیں جنھوں نے نظمیہ شاعری کو فروغ دیا۔ وہ ایک خالص عوامی شاعر تھے۔ ”برسات کی بہاریں، آدمی نامہ، ہنس نامہ، اور بنجارہ نامہ“ وغیرہ آپ کی معروف نظمیں ہیں۔

تشریح

اس بند میں ان خوبیوں کا ذکر کیا ہے جو اللہ نے انسان کو عطا کی ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ اللہ نے انسان کو عقل و شعور کی دولت عطا کی ہے۔ عبادت اور بندگی کے طریقے بتائے ہیں۔ شرم وحیا اور محبت کو سمجھنے کی صلاحیت دی ہے۔ اچھے برے کی تمیز سیکھائی ہے تاکہ انسان صحیح راہ پر چل کر اللہ ﷻ کی دی نعمتوں سے فائدہ حاصل کر سکے۔

سوال ۲ : جزو (الف) اور جزو (ب) میں سے جو ہم معنی الفاظ ہیں انھیں چن کر لکھیے :

الفب
درخشاںچمک دار۔
مقدسپاک
منزہبے عیب
سہیمشریک
فاحتہقمری
طراوتتازگی
تحیراچنبھا

سوال ۳ : آپ کوئی غزل نقل کریں اور اس میں قافیہ اور ردیف کی نشاندہی کریں۔

  • غزل

ہونٹوں پہ کبھی اُن کے مرا نام ہی آئے
آئے تو سہی ،برسرِ الزام ہی آئے
حیران ہیں، لب بستہ ہیں، دل گیر ہیں غُنچے
خوش بو کی زبانی تِرا پیغام ہی آئے

کیا راہ بدلنے کا گِلہ ہم سفروں سے
جس رَہ سے چلے تیرے دروبام ہی آئے

تھک ہار کے بیٹھے ہیں سرِ کُوئے تمنّا
کام آئے تو پھر جذبۂ ناکام ہی آئے

باقی نہ رہے ساکھ ادا دشت جنوں کی
دل میں اگر اندیشہ ٔ انجام ہی آئے
(ادا جعفری)

  • ردیف : ہی آئے
  • قافیہ : انجام ، ناکام ، در و بام ، پیغام ، الزام ، نام۔

سوال ۴ : آپ تلاش کر کے حمد ، مناجات ، نعت اور منقبت کا ایک ایک شعر لکھیے۔

حمد

کامل ہے جو ازل سے وہ ہے کمال تیرا
باقی ہے جو ابد تک وہ ہے جلال تیرا

نعت

دیکھی نہیں کسی نے اگر شانِ مصطفی ﷺ
دیکھئے کہ جبرائیل ہیں دربانِ مصطفی ﷺ

مناجات

لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا میری
زندگی شمع کی صورت ہو خدایا میری

منقبت

دنیا میں روشنی کی درا بچھ گئی تما
کہنے لگا جو صبح کا تارا علی علی

سوال ۵ : نظیر اکبر آبادی کی یہ حمد پڑھنے کے بعد ان کی شاعری کی جو خصوصیات آپ کی نظر میں آئی ہوں وہ بیان کیجیے :

جواب : نظیر اکبر آبادی کی یہ حمد پڑھنے کے بعد ان کی شاعری کی جو خصوصیات میری نظر میں آئی ہیں وہ یہ ہیں کہ اردو، فارسی زبان پر دسترس حاصل تھی۔ آپ کے پاس ذخیرہ الفاظ موجود تھا۔ آپ قدرتی مناظر کی عکاسی عمدہ لفظوں کا استعمال کرتے ہوئے باآسانی کردیتے تھے۔ آپ کی شاعری میں عوامی زبان استعمال کی گئی ہے تاکہ ہر عام و خاص اس شاعری سے لطف اندوز ہوسکے۔ نظیر اکبر نے فارسی زبان پر دسترس حاصل ہونے کے باوجود اپنی شاعری میں فارسی تراکیب کو استعمال نہیں کیا تاکہ لوگ ان کی شاعری کو آسانی سے سمجھ سکیں۔