Advertisement
  • نظم : تسلیم و رضا
  • شاعر : نظیر اکبر آبادی

تعارفِ نظم

یہ بند ہماری درسی کتاب کی نظم ”تسلیم و رضا“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام نظیر اکبر آبادی ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر

نظیر اکبر آبادی کا نام ولی محمد اور تخلص نظیر تھا۔ اردو، فارسی زبان پر انھیں دست رس حاصل تھی۔ نظیر اردو کے پہلے شاعر ہیں جنھوں نے نظمیہ شاعری کو فروغ دیا۔ وہ ایک خالص عوامی شاعر تھے۔ ”برسات کی بہاریں، آدمی نامہ، ہنس نامہ، اور بنجارہ نامہ“ وغیرہ آپ کی معروف نظمیں ہیں۔

Advertisement

جو فقر میں پورے ہیں وہ ہر حال میں خوش ہیں
ہر کام میں ہر دام میں ہر حال میں خوش ہیں
گر مال دیا یار نے تو مال میں خوش ہیں
بے زر جو کیا تو اسی احوال میں خوش ہیں
افلاس میں ادبار میں اقبال میں خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں

تشریح

اس نظم میں شاعر نے ایسے انسانوں کی خوبیاں بیان کی ہیں جو اللہ کی رضا میں راضی رہتے ہیں۔ اس بند میں شاعر کہتے ہیں کہ دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو فقر میں ہونے کے باوجود بھی خوش ہیں اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں ایسے لوگ ہر حال میں خوش ہوتے ہیں اور وہ کسی بھی قسم کا کام کر کے یا مشقت اٹھا کر اللہ سے شکوہ نہیں کرتے بلکہ اس کا شکر ہی ادا کرتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو مال عطا کرتا ہے تو بھی وہ خوش ہوجاتے ہیں اور اگر اللہ انھیں بےزر کردیتا ہے وہ تب بھی صبر و شکر کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ ایسے لوگ افلاس و ادبار میں بھی خوش رہتے ہیں اور شاعر کہتے ہیں کہ ایسے لوگ جو اللہ کی رضا میں راضی رہیں درحقیقت وہی لوگ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتے ہیں۔

Advertisement
گر یار کی مرضی ہوئی سر جوڑ کے بیٹھے
گھر بار چھڑایا تو وہیں چھوڑ کے بیٹھے
موڑا انھیں جیدھر، وہیں منہ موڑ کے بیٹھے
گدڑی جو سلائی تو وہی اوڑھ کے بیٹھے
اور شال اڑھائی تو اسی شال میں خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں

تشریح

اس نظم میں شاعر نے ایسے انسانوں کی خوبیاں بیان کی ہیں جو اللہ کی رضا میں راضی رہتے ہیں۔ اس بند میں شاعر کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے انھیں رشتے نبھانے پڑیں تو ایسے لوگ خوشی خوشی تمام رشتے نبھاتے ہیں اور اگر اللہ تعالیٰ ایسے حالات پیدا کردیں کہ انھیں اپنا گھر بار چھوڑنا پڑے وہ تب بھی اللہ کا حکم ماننے سے نہیں کتراتے ہیں۔ شاعر مزید کہتے ہیں کہ ایسے لوگ وہی کام کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہوتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ ایسے لوگ اگر غربت کا شکار ہوں تب بھی صبر کے ساتھ پھٹے پرانے کپڑے پہن لیتے ہیں اور اگر اللہ انھیں شال سے نواز دے وہ تب بھی اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ ایسے لوگ جو اللہ کی رضا میں راضی رہیں درحقیقت وہی لوگ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتے ہیں۔

گر اس نے دیا غم تو اسی غم میں رہے خوش
اور اس نے جو ماتم دیا، ماتم میں رہے خوش
کھانے کو ملا کم تو اسی کم میں رہے خوش
جس طور کہا اس نے اس عالم میں رہے خوش
دکھ درد میں، آفات میں، جنجال میں خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں

تشریح

اس نظم میں شاعر نے ایسے انسانوں کی خوبیاں بیان کی ہیں جو اللہ کی رضا میں راضی رہتے ہیں۔ اس بند میں شاعر کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو غم سے نوازتا ہے وہ تب بھی اللہ سے شکوہ نہیں کرتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو چاہے فاقے بھی کرنے پڑیں وہ اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول رہتے ہیں اور جس حال میں اللہ تعالیٰ انھیں رکھتے ہیں وہ اسی حال میں بخوشی اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ ایسے لوگ دکھ ، درد ، تکلیف ، آفت اور جنجال کے موقعے پر بھی صبر کرتے نظر آتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ ایسے لوگ جو اللہ کی رضا میں راضی رہیں درحقیقت وہی لوگ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتے ہیں۔

Advertisement
جینے کا نہ اندوہ نہ مرنے کا زرا غم
یکساں ہے انھیں زندگی اور موت کا عالم
واقف نہ برس سے، نہ مہینے سے وہ اک دم
نہ شب کی مصیبت نہ کبھی روز کا ماتم
دن رات گھڑی پہر مہ و سال میں خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں

تشریح

اس نظم میں شاعر نے ایسے انسانوں کی خوبیاں بیان کی ہیں جو اللہ کی رضا میں راضی رہتے ہیں۔ اس بند میں شاعر کہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو نہ جینے کا غم ہوتا ہے اور نہ ہی مرنے کا بلکہ ایسے لوگ ہر حال میں خوش رہنے کا طریقہ جانتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو ماہ و سال سے بھی کوئی فرق نہیں پڑتا ہے، نہ وہ شب و روز کے گزرنے کا ماتم کرتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ ایسے لوگ جو اللہ کی رضا میں راضی رہیں درحقیقت وہی لوگ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتے ہیں۔

ان کے تو جہاں میں عجب عالم ہیں نظیر، آہ
سب ایسے تو دنیا میں ولی، کم ہیں نظیر آہ
کیا جانے فرشتے ہیں کہ آدم ہیں نظیر آہ
ہر وقت میں ہر آن میں خرم ہیں نظیر آہ
جس ڈھال میں رکھا وہ اسی ڈھال میں خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں

تشریح

اس نظم میں شاعر نے ایسے انسانوں کی خوبیاں بیان کی ہیں جو اللہ کی رضا میں راضی رہتے ہیں۔ اس بند میں شاعر کہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے اس دنیا میں رہنے کے عجب ہی طریقے ہوتے ہیں۔ شاعر مزید کہتے ہیں کہ ایسے لوگ اس دنیا میں بہت کم نظر آتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں مجھے تو ایسا لگتا ہے جیسے یہ لوگ ابنِ آدم نہیں بلکہ فرشتے ہیں جو ہر وقت آن سے زندگی بسر کرتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں ایسے لوگوں کو رب جیسے رکھتا ہے وہ لوگ اسی حال میں خوش رہتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ ایسے لوگ جو اللہ کی رضا میں راضی رہیں درحقیقت وہی لوگ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتے ہیں۔

Advertisement

سوال 1 : نظم ”تسلیم و رضا“ کے متن کو پیشِ نظر رکھتے ہوئے درج ذیل سوالات کے درست جواب کے شروع میں (درست) کا نشان لگائیں۔

۱ : اس نظم میں ”مرد“ سے کیا مراد لی گئی ہے؟

  • ٭ بچے
  • ٭ بوڑھے
  • ٭ خواتین
  • ٭ تمام انسان (✓)

۲ : ”پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں“ مصرع نظم تسلیم و رضا کے

Advertisement
  • ٭ ہر بند کا آخری مصرع ہے (✓)
  • ٭ دوسرے اور تیسرے بند کا آخری مصرع
  • ٭ آخری بند کا آخری مصرع ہے
  • ٭ صرف پہلے بند کا آخری مصرع ہے

۳ : ”جو فقر میں پورے ہیں وہ ہر حال میں خوش ہیں“ کا دوسرا مصرع کیا ہے؟

  • ٭ اخلاص میں ، ادبار میں ، اقبال میں خوشی میں۔
  • ٭ بے زر جو کیا تو اسی احوال میں خوش ہیں۔
  • ٭ دکھ درد میں ، آفات میں، جنجال میں، خوش ہیں۔
  • ٭ ہر کام میں ، ہر دم میں، ہر دام میں ہر حال میں خؤش ہیں۔ (✓)

سوال 2 : نظم ”تسلیم و رضا“ کا مرکزی خیال تحریر کریں جو تین سطور سے زیادہ نہ ہو۔

جواب : اس نظم میں نظیر اکبر آبادی کہتے ہیں کہ جو لوگ اللہ کی رضا میں راضی رہتے ہیں وہ ہمیشہ خوش ہی رہتے ہیں۔ ایسے لوگ خوشی میں، غم میں، دولت کی فراوانی میں، تنگ دستی میں، ہر حال میں خوش رہتے ہیں۔ اسے لوگ راضی بارضا رہتے ہیں اور اللہ کے احکامات پر تسلیم خم کرتے ہیں اور اللہ ان کو جس حال میں رکھے وہ اسی حال میں جینا جانتے ہیں۔

Advertisement

سوال 3 : نظم ”تسلیم و رضا“ کے تیسرے بند کی تشریح کریں۔

بند نمبر ۳ :

گر اس نے دیا غم تو اسی غم میں رہے خوش
اور اس نے جو ماتم دیا، ماتم میں رہے خوش
کھانے کو ملا کم تو اسی کم میں رہے خوش
جس طور کہا اس نے اس عالم میں رہے خوش
دکھ درد میں، آفات میں، جنجال میں خوش ہیں
پورے ہیں وہی مرد جو ہر حال میں خوش ہیں

تشریح

اس نظم میں شاعر نے ایسے انسانوں کی خوبیاں بیان کی ہیں جو اللہ کی رضا میں راضی رہتے ہیں۔ اس بند میں شاعر کہتے ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو غم سے نوازتا ہے وہ تب بھی اللہ سے شکوہ نہیں کرتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو چاہے فاقے بھی کرنے پڑیں وہ اللہ کی حمد و ثنا میں مشغول رہتے ہیں اور جس حال میں اللہ تعالیٰ انھیں رکھتے ہیں وہ اسی حال میں بخوشی اپنی زندگی گزارتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ ایسے لوگ دکھ ، درد ، تکلیف ، آفت اور جنجال کے موقعے پر بھی صبر کرتے نظر آتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ ایسے لوگ جو اللہ کی رضا میں راضی رہیں درحقیقت وہی لوگ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوتے ہیں۔

سوال 4 : نظم ”تسلیم و رضا“ کے ہم آواز الفاظ کے پانچ پانچ جوڑے لکھیں جیسے : حال، مال۔

  • 1) جوڑ ، موڑ۔
  • 2) عالم ، آدم۔
  • 3) چھوڑ ، اوڑھ۔
  • 4) عالم ، ماتم۔
  • 5) غم ، کم۔

سوال 5 : نظم ”تسلیم و رضا“ کا خلاصہ لکھیں جو دس جملوں سے زیادہ نہ ہو۔

جواب : اس نظم میں شاعر نے ایسے انسانوں کی خوبیاں بیان کی ہیں جو اللہ کی رضا میں راضی رہتے ہیں۔ فقر کو ہر حال میں خوش رہنا آتا ہے۔ اللہ انہیں خوشی دے یا غم، دولت دے یا بے زر کرے ( تنگ دستگی دے ) کامیابیاں و کامرانیاں دے یا پستی ، وہ اللہ کی رضا جان کر ہر حال میں خوش رہتے ہیں۔ ایسے لوگ اللہ کی رضا میں گھر بار بھی چھوڑ دیتے ہیں اور غم نہیں کرتے۔ ان کو لباس میں پیوند بھی قبول ہوتا ہے۔ زیادہ عطا ہو تو بھی شکر کرتے ہیں اور کم ملے تو بھی خوش رہتے ہیں۔شاعر کہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو اللہ پر پورا بھروسہ ہوتا ہے اس لیے انھیں نہ کسی مصیبت کا ڈر ہوتا ہے نہ موت کا کوئی خوف ہوتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ ایسے ولی دنیا میں کم ہی ہوتے ہیں کہ جن کو اللہ کی رضا میں راضی اور خوش رہنا آتا ہو۔ شاعر کے مطابق ایسے ہی لوگ اصلی انسان کہلانے کے حقدار ہیں۔

Advertisement

سوال 6 : نظیر اکبر آبادی کی کوئی اخلاقی نظم پڑھیں اور اس کے پسندیدہ اشعار اپنی ڈائری میں لکھیں۔

چلتا ہے آدمی ہی مسافر ہو ، لے کے مال
او ر آدمی ہے مارے ہے پھانسی گلے میں ڈال
یاں آدمی ہی صید ہے اور آدم ہی جال
سچا بھی آدمی ہی نکلتا ہے میرے لال
اور جھوٹ کا بھرا ہے سو ہے وہ بھی آدمی
پچھلے پہر اٹھ کے نہانے کی دھوم ہے
شیر و شکر سوئیا ں پکانے کی دھوم ہے
پیرو جواں کو نعمتیں کھانے کی دھوم ہے
لڑکوں کو عیدگاہ میں جانے کی دھوم ہے
پیر و مرید و شاہ و گدا۱میر اور وزیر
سب آن کر اجل کے ہوئے دام میں اسیر
مفلس غریب صاحب تاج و علم شریر
کوئی ترس ترس کے موا،غم میں اے نظیر
کوئی ہزار عیش کی ٹہرا کے مرگیا
جیتا رہا نہ کوئی ہر اک آکے مرگیا

سوال 7 : اپنے تعلیمی ادارے کے میگزین کے لیے نظر اکبر آبادی کے چند اشعار منتخب کریں۔

کہا ”لڑاتے ہو کیوں ہم سے غیر کو ہمدم“
کہا کہ ”تم بھی تو ہم سے نگہ لڑاتے ہو“
درخت بھیگے ہیں کل کے مینہ سے چمن چمن میں بھرا ہے پانی
جو سیر کیجے تو آج صاحب عجب طرح کا ہے باغ ٹھنڈا
نہ میں دل کو اب ہر مکاں بیچتا ہوں
کوئی خوب رو لے تو ہاں بیچتا ہوں
Advertisement

Advertisement

Advertisement