Advertisement
  • نظم : قطعات
  • شاعر : مرزا محمود سرحدی

یہ قطعہ ہماری درسی کتاب کی نظم ”قطعات“ سے لیا گیا ہے۔ اس نظم کے شاعر کا نام مرزا محمود سرحدی ہے۔

Advertisement

شاعر

کل ایک مفکر مجھے کہتا تھا سرِ راہ
شاید تیری ملت کا ہے مٹنے کا ارادہ
میں نے یہ کہا اس سے کوئی وجہ بھی ہو گی
بولا کہ تیری قوم میں شاعر ہیں زیادہ

تشریح

اس قطعہ میں شاعر ایک دقیانوسی سوچ کی ترجمانی کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کل مجھے ایک شخص ملا جو وضع قطع سے کوئی مفکر معلوم ہوتا تھا۔ اس سے میری مختلف موضوعات پر طویل بحث ہوئی مگر بحث آخر یہاں آگئی کہ اس نے کہا تم لوگوں کی موجودہ حالت دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ قوم عنقریب نیست و نابود ہو جائے گی، کیونکہ ان کے چال چلن کچھ بھلے معلوم نہیں ہوتے۔ شاعر کہتے ہیں میں نے اس سے اس کی وجہ پوچھی تو اس نے کہا تمہاری قوم میں شاعر بہت ہیں۔ شاعر خیالات کی دنیا میں رہتے ہیں اور ان کا سائنس و ٹیکنالوجی اور جدید دور کے تقاضوں سے کچھ لینا دینا نہیں، اگر ترقی کرنی ہے تو دور حاضر کے تمام تر تقاضوں پر پورا اترا جائے۔ مگر ہماری قوم میں خیال بننے والے شاعر بہت ہو گئے ہیں جس وجہ سے ہم پیچھے رہ گئے اور مستقبل میں ترقی یافتہ لوگوں میں ہماری کوئی پہچان نہیں ہوگی۔

Advertisement

اخباری اشتہار

نوکری کے لیے اخبار کے اعلان نہ پڑھ
جان پہچان کی باتیں ہیں ،کہا مان ، نہ پڑھ
جن کو ملنی ہو، انہیں مل جاتی ہے
بس دکھا وے ہی کے ہوتے ہیں یہ فرمان، نہ پڑھ

تشریح :

اس قطع میں شاعر وطن کے نوجوانوں سے مخاطب ہوئے ہیں۔چونکہ آج کل بےروزگاری کا دور ہے تو نوجوان روزگار کےلیے اخباروں میں اشتہار پڑھتے رہتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ ملک کے بڑی اخباروں اور ٹیلیوژن پر دکھائے جانے والے نوکری کے اشتہار روایتی ہیں۔ ان کی صداقت بس اتنی ہے کہ اقبراء پروری ہوتی ہے، وہ ملازمتیں کسی نہ کسی کے رشتہ دار کو سفارش اور جان پہچان کی وجہ سے ملتی ہے۔ وہ طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ نوجوان جو نوکری کے لیے اخباروں کے اشتہار پڑھ کر وہاں نوکری کے لیے جاتے ہیں کیا انھیں نہیں معلوم یہ رسمی سا اشتہار وہ دنیا کے دکھاوے کے لیے لگاتے ہیں۔ اصل بات تو یہ ہے کہ وہاں یہ ملازمتیں پہلے سے ہی لوگوں نے اپنے عزیز اقارب میں بانٹ دی ہوتی ہیں۔ جو نوکری ملنی ہی نہیں اس پر وقت صرف کرنا حماقت ہے۔

Advertisement

غفلت

اے ساقی گلفام برا ہو تیرا تو نے
باتوں میں لبھا کر ہمیں وہ جام پلایا
یہ حال ہے سو سال غلامی میں بسر کی
اور ہوش ہمیں اب بھی مکمل نہیں آیا

تشریح :

اس قطع میں شاعر اپنی کوتاہیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم لوگ غفلت میں ڈوب گئے ہیں۔ ہم نے اپنا اصلی مقام کھو دیا ہے۔ جب ہندوستان میں مسلمانوں کی حکومت کو گرا کر سامراج نے قبضہ کر لیا تھا اس وقت مسلمانوں نے جو غلامی کا دور دیکھا ہم نے اس سے کچھ نہیں سیکھا۔انگریز کی غلامی سے ہمیں جو سبق ملا تھا وہ ہم نے بھلا دیا ہے۔ آزادی سے اب تک ہم نے اپنے آپ کو سدھارا نہیں بلکہ ہم اور سستی اور کاہلی کا شکار ہو گئے ہیں۔ ہمارے جسم تو مشقت کرکے آزاد ہو گئے ہیں مگر ہمارے ذہن اب بھی غلامی کی زندگی کاٹ رہے ہیں۔ غلامی کے دور سےگزر کر شاید ہم اپنی قوت اور طاقت کو بھول چکے ہیں۔
شاعر کہتے ہیں کہ ہماری ترقی آج بھی دنیا سے ایک سو برس پیچھے رہ گئی ہے۔ جہاں ہم انگریز کی غلامی میں تھے آج بھی وہیں کھڑے ہیں بلکہ پھر سے انھیں خطاؤں میں الجھ گئے ہیں جن کی وجہ سے ہم غلام بنے تھے۔

ریڈیو

جن کو انگریز کا قانون ہو ازبر ان سے
اور سب پوچھ مگر شرع کے احکام نہ پوچھ
ریڈیو میں بھی جو قرآں کی تلاوت نہ سنیں
ان مسلمانوں کی اولاد کا اسلام نہ پوچھ

تشریح :

اس قطع میں شاعر نوجوان جو شاید غفلت کا شکار ہیں ان پر طنز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ملک میں ایک ایسا طبقہ بھی رہتا ہے جن کی سوچ غلامی کی زنجیروں سے جھکڑی ہوئی ہے۔ وہ پڑھے لکھے تو ہیں مگر ان کی سوچیں اب بھی اندھیروں میں ڈوبی ہیں۔ انھیں انگریزوں کے قانون کی ایک ایک ایک سطر فر فر یاد ہے، انھوں نے مغربی تہذیب کو اپنے اوپر بلاوجہ مسلط کر لیا ہے۔ ان لوگوں نے مغریبت کا لبادہ اوڑھ کر اپنی تہذیب سے رابطہ منقطع کر دیا ہے۔ ایسے لوگوں کو انگریز کے بنائے قانون تو یاد ہیں مگر شریعت محمدیﷺ کا ایک حکم بھی نہیں یاد۔ وہ انگریز کے قانون کے تحت ان کے غلام بن گئے ہیں۔ ان کی طرح کھاتے پییتے پہنتے اوڑھتے ہیں۔ مگر ان سے اگر کوئی بنیادی دینی مسئلہ پوچھ لو تو ان کا علم کافور ہو جاتا ہے۔ وہ مغرب سے اس قدر متاثر ہو گئے ہیں کہ ان کو اب اسلام اور پاکستان سے کوئی سروکار نہیں۔ اگر کہیں ریڈیو یا ٹیلی وژن پر بھی قرآن و حدیث کی بات ہو رہی ہو وہ اسے نہیں سنتے۔ وہ ماڈرن بن گئے ہیں اور اسلام کی باتوں کو دقیانوسی سمجھتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ ان کی اولادوں کو اسلام کا کیا پتا ہوگا۔ جو خود اسلام سے اتنا دور بھاگتے ہیں ان کی اولاد اسلام میں دلچسپی نہ لے گی اور اس سے اگلی ساری نسلیں تباہ ہو جائیں گی۔

Advertisement

سوال 1 : محمود سرحدی کے قطعات مدِنظر رکھ کر مندرجہ ذیل سوالات کے مختصر جواب تحریر کریں :

۱ : شاعر نے ملت کے مٹنے کی کیا وجہ بیان کی ہے؟

جواب : شاعر نے ملت کے مٹنے کی وجہ "شاعروں کی کثرت” بتائی ہے۔

۲ : "ساقی گل فام” سے کیا مراد لی گئی ہے؟

جواب : ساقی گلفام سے مراد انگریز ہیں۔

Advertisement

۳ : قطعہ ‘غفلت’ میں ہماری کس خاص حالت کا ذکر کیا گیا ہے؟

جواب : قطعہ غفلت میں ہمیں ہمارا آئینہ دکھایا گیا ہے جس میں شاعر یہ بات بتاتے ہیں کہ ہم نے انگریزوں کی سو سال کی غلامی سے کچھ سبق نہیں سیکھا۔ آج بھی ہم اسلامی اقدار و تہذیب پر مغربی تہذیب و تمدن کو ترجیح دیتے ہیں۔

۴ : قطعہ ریڈیو اور اخباری اشتہار کا مرکزی خیال لکھیے۔

  • جواب :
  • ریڈیو : اس قطعہ میں شاعر مرزا محمود سرحدی آج کل کے پڑھے لگے لوگوں کے بارے لکھتے ہیں کہ ان کو انگریزی کے قانون تو زبانی یاد ہوتے ہیں مگر شریعت محمدیﷺ ان کو زرا بھی معلوم نہیں۔ یہ لوگ اگر ریڈیو پر تلاوت چل رہی ہو تو اسے نہیں سنتے ان کی اولادیں پھر اسلام سے بالکل ناآشنا ہوتی ہیں۔
  • اخباری اشتہار : اس قطعہ میں شاعر مرزا محمود سرحدی طنز و تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اخباری اشتہار پڑھنا بےسود ہے۔ یہ فقط دکھلاوا ہے، نوکری ان کو ملتی ہے جنھوں نے سفارش کی ہو یا رشوت دی ہو۔

۵ : آپ کو کون سا قطعہ پسند آیا اور کیوں؟

جواب : مجھے قطعہ اخباری اشتہار سب سے زیادہ پسند آیا جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ واقعی ہمارے معاشرے کا ناسور بن گیا ہے۔ نوجوان تعلیمی ڈگریاں لے کر بےروزگار پھر رہے ہیں مگر جب وہ اخباروں کے اشتہار دیکھتے ہیں تو انھیں نوکری ملنے کی امید نظر آتی ہے لیکن شاعر کہتے ہیں یہ امید بھی بےسود ہے کیونکہ وہ نوکری پہلے سے ہی کسی کو سفارش یا رشوت کی وجہ سے مل جاتی ہے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement

Advertisement