Advertisement

شاعر : مومن خان مومن

Advertisement

تعارفِ غزل :

یہ شعر ہماری درسی کتاب کی غزل سے لیا گیا ہے۔ اس غزل کے شاعر کا نام مومن خان مومن ہے۔

Advertisement

تعارفِ شاعر :

مومن اردو کے ان چند باکمال شاعروں میں سے ایک ہیں جن کی بدولت اردو غزل کی شہرت اور مقبولیت کو چار چاند لگے۔ مومن نے اس صفن کو ایسا عروج بخشا اور ایسے استادانہ جوہر دکھائے کہ غالب جیسا خود نگر شاعر ان کے ایک شعر پر اپنا دیوان قربان کرنے کو تیار ہو گیا۔ مومن صنف غزل کے صف اوّل کے شاعر ہیں۔ انہوں نے اردو شاعری کی دوسری اصناف،قصیدے اور مثنوی میں بھی طبع آزمائی کی لیکن ان کا اصل میدان غزل ہے جس میں وہ اپنی طرز کے واحد غزل گو ہیں۔

Advertisement
اثر اس کو ذرا نہیں ہوتا
رنج راحت فزا نہیں ہوتا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ عاشق محبوب کی محبت میں مبتلا ہو کر دنیا کی ہر فکر سے بری ہو جاتا ہے۔ وہ ہر وقت محبوب کو سوچتا ہے اس کی باتوں کو دھراتا رہتا ہے۔ عاشق ہر دم بےقرار و بےچین رہتا ہے۔مگر اس کے حال سے اس کا محبوب بالکل ناواقف ہے۔ عاشق اس کی یادوں میں تڑپتا ہے مگر محبوب کو اس کی زرا فکر نہیں نہ وہ اس کی خبر گیری کرتا ہے۔ وہ کہتے ہیں اس حالت میں اگر محبوب مہربان ہو جائے تو لوگ مجھے جو طعن و تشنیع کرتے ہیں اس کا مجھے پر کوئی اثر نہ ہو میرے لئے ہر موسم بہار کا موسم ہو۔ مگر اگر میرا محبوب مجھ سے بے رخی برتے گا تو میرے لئے یہ کسی طور راحت کا سبب نہیں بنےگا بلکے میرےیہ سخت رویہ رنج و ملال کا سبب بنے گا۔

ذکر اغیار سے ہوا معلوم
حرف ناصح برا نہیں ہوتا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ میں نے اپنے محبوب سے بہت محبت کی۔ میں اس کی یادوں میں دیوانہ ہو گیا ہوں۔ میں نے اس کی محبت میں خود کو زمانے میں بے آبرو کر دیا ہے۔میں محبوب کے حسن و جمال اور اس کی ناز و ادا کا قائل ہو کر دنیا سے بیگانہ ہو گیا ہوں۔ میں نے ہر جانب اسی کو پایا جس کا صلہ وہ مجھے بے وفائیوں سے دیتا ہے۔اسے میرے حال کی خبر نہیں وہ دوسروں سے جس ادا سے ہنس کر بات کرتا ہے وہ مجھ پر گراں گزارتا ہے۔ وہ مجھ سے بات نہیں کرتا بلکہ میرے رقیبوں سے وہ قریب ہوتاہے تو یہ بات پر رنج کا باعث بنتی ہے۔ وہ غیروں سے روابط رکھتا ہے مجھ سے ملاقات نہیں کرتا مجھے لوگوں نے بہت سمجھایا کہ عشق گھاٹے کا سودا ہے مگر یہ میری ضد تھی کہ میں خود کو تمہارے محبت میں برباد کر دوں مگر اب معلوم ہوتا ہے کہ مجھے مشورہ دینے والے لوگ درست کہتے تھے۔

Advertisement
تم ہمارے کسی طرح نہ ہوئے
ورنہ دنیا میں کیا نہیں ہوتا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ دنیا میں کوئی کام مشکل نہیں، دنیا میں ہر چیز ممکن ہے۔ اسی دنیا میں معجزات رونما ہوتے ہیں۔ اور اسی دنیا میں ایسے ایسوں کے دن پھر گئے جن کی مفلسی کے چرچے عام تھے۔ اسی دنیا میں کینسر اور دیگر ناقابل علاج بیماریوں سے لوگ صحت یاب ہوئے ہیں۔ اسی دنیا میں ہارتے کو جیتتے اور جیتتے کو ہارتا دیکھا ہے۔ جب اس دنیا میں یہ سب ممکن ہے تو پھرشاعر اور اس کے محبوب کا ملنا کیوں نہیں۔ شاعر کہتے ہیں میں نے محبوب کو پانے کے لئے ہر کوشش کی، اس کے لئے دنیا کے خلاف کھڑاہو گیا اس کی خاطر ہر دکھ جھیلا ہر مصیبت سے دوچارہوا مگر وہ پھر بھی مجھے نہیں مل سکتا۔شاعر کہتا ہے اس دنیا میں ہر چیز ممکن ہے تو پھر میرا میرے محبوب سے نہ ملنا کیوں کر ناممکن ہے۔

تم مرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ میں جب سے تمہارے عشق میں مبتلا ہوا ہوں۔ مجھے زرا سکون نہیں ہے لوگوں نے مجھے دیوانہ کہا اور سب نے مجھے تنہا چھوڑ دیا ہے۔ میری محفل میں اب کوئی نہیں آتا لوگ مجھے پاگل کہتے ہیں۔ میں نے تمہاری محبت کے لئے دنیا ترک کر دی تھی۔ اپنوں کی کسی نصحیت پر عمل نہیں کیا۔ تمہارے معاملہ میں کسی کی بات نہیں مانی اور اپنی ضد پر اڑا رہا تو اب دیکھو میرے پاس کوئی نہیں۔ مگر جب میرے پاس کوئی نہیں ہوتا تو تمہاری یادیں تمہاری ادائیں ہوتی ہیں۔ میری محفل بھلے لوگوں سے خالی ہے مگر میری تنہائیاں تمہارے خیالات سے پر ہیں۔

Advertisement
حال دل یار کو لکھوں کیوں کر
ہاتھ دل سے جدا نہیں ہوتا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ جب میں بےاختیار محبوب کی یادوں میں کھویا ہوا ہوتا ہوں۔ جب مجھے ہر پل اس کی یادوں نے گھیرا ہوا ہوتا ہے تو میرا دل بےاختیار دھڑکنے لگتا ہے۔ بےقراری کے عالم میں میرا دل مضطرب و بےچین ہو جاتا ہے تو میں اپنا ہاتھ دل پر رکھ لیتا ہوں۔میں یہ کیفیت اپنے محبوب کو بھی نہیں لکھ سکتا میرا ہاتھ زیادہ تر میرے دل پر ہوتا ہے اور میرا دل بےچین رہتاہے۔ میرا بہت من چاہتا ہے کہ میں تمہیں یہ حالت زار کا احوال لکھوں مگر میرا دل ہی مجھ سے سنبھالتا نہیں۔

چارۂ دل سوائے صبر نہیں
سو تمہارے سوا نہیں ہوتا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ راہ عشق میں بہت تکالیف ہیں۔ اس راہ پر چلنے سے دکھوں اور رنجشوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ لوگوں سے بیگانگی اپنانا پڑتی ہے۔دن کو سکون ہوتا نہ رات کو چین ہوتا ہے آنکھوں سے آنسو ہر پل جاری رہتے ہیں۔اس سے مصائب کے بعد محبوب کی ایک جھلک دید بھی میسر نہیں ہوتی۔ محبوب جب اپنے عاشق کو صبر و حوصلہ دیتا ہے تو وہ سوال کرتا ہے کہ صبر کہاں میسر ہو کیسے میسر ہو۔ وہ بےقراری کا علاج کیسے صبر سے کرے۔ صبر بہت مشکل کام ہے عاشق چاہتا ہے کہ محبوب اسے اپنا دیدار کروا دیا کرے شاید پھر اس بے قراری کا سامان ہو سکے۔

Advertisement
کیوں سنے عرض مضطرب مومنؔ
صنم آخر خدا نہیں ہوتا

تشریح :

اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ میری ابتر حالت پر اسے بالکل بھی رحم نہیں آتا۔ وہ میری محبت کو بے نیازی سے رد کردیتا ہے۔ محبوب کو میری حالت پر بھی رحم نہیں آتا تو اس کے پہلو میں دل نہیں بلکہ سنگ ہوگا۔ وہ عاشق کی کسی بھی بات کو خاطر میں نہیں لاتا۔ شاعر چاہتا ہے اسے وصال یار میسر ہو جائے مگر یہ ممکن نہیں محبوب اس سے اجتناب برتتا ہے۔ وہ اپنے محبوب کو کہتے ہیں کہ تم خدا تو نہیں ہو میری التجائیں سنو، تم انسان ہو اسی لئے اتنے سنگ دل ہو۔ اگر اتنی چاہت و الفت خدا تعالیٰ کی ذات کے لئے ہوتی تو وہ بھی میری بات مان لیتا مجھے یوں رد نہ کرتا۔

Advertisement

Advertisement

Advertisement