Advertisement

خلاصہ:

فوٹوگرافر افسانے میں کہانی پہاڑی علاقے میں موجود ایک بے حد خوبصورت اور دلفریب گیسٹ ہاؤس کے گرد گھومتی ہے۔ یہ گیسٹ ہاؤس بل کھاتی سڑک سے ہوتے ہوئے جھیل کنارے واقع ہے۔گیسٹ ہاؤس چونکہ ٹورسٹ علاقے میں موجود نہیں اس لیے یہاں بہت کم سیاح آتے ہیں۔آنے والوں میں اکثر نوبیاہتا جوڑے یا کوئی اکا دکا مسافر ہوتے ہیں۔گیسٹ ہاؤس کے ساتھ ہی افسانے کا ایک اہم کردار اس گیسٹ ہاؤس کے دروازے پر بیٹھا فوٹوگرافر ہے۔جو گیسٹ ہاؤس کے دروازے پر بچھی ٹین کی کرسی پر بیٹھا مہمانوں کا انتظار کرتا ہے۔

Advertisement

فوٹوگرافر اسی قصبے کا باشندہ ہے،جہاں یہ گیسٹ ہاؤس واقع ہے۔فوٹوگرافر کا کردار کوئی عام کردار نہیں بلکہ گیسٹ ہاؤس کے دروازے پر بیٹھے بیٹھے اس نے بدلتی دنیا کے کئی رنگ اور تماشے دیکھے ہیں۔وہ اس گیسٹ ہاؤس کے دروازے پر تب سے موجود ہے جب برطانوی راج میں یہاں بڑے بڑے عہدہ داران،افسر اور امیر لوگ آتے تھے اور رات رات بھر محافل سجتی تھیں۔

Advertisement

فوٹوگرافر کی آنکھوں نے اسی دروازے پر بیٹھے ایک نئی دنیا کا رنگ دیکھا جب دوسری جنگ عظیم کے دنوں میں یہاں امریکی لوگوں کا آنا جانا ہونے لگا۔پھر ملک کو آزادی ملی اور گیسٹ ہاؤس پر اکا دکا سیاح ،سرکاری افسران،چند نو بیاہتا جوڑے اور وہ لوگ آنے لگے جو تنہائی چاہتے تھے۔گیسٹ ہاؤس میں فوٹوگرافر کے کیمرے کی آنکھ تھی جو یہ سب دیکھتی تھی مگر خاموش تھی۔ گیسٹ ہاؤس میں ایک نوجوان لڑکی اور لڑکا آئے لڑکی ایک رقاصہ جبکہ نوجوان مشہور موسیقار تھا۔ دونوں سے یہاں کوئی واقف نہ تھا۔دونوں ماہ عسل کی بجائے یہاں آرام کی غرض سے آئے تھے۔

نوجوان لڑکے لڑکی کی طرح ہی ایک یورپین سیاح بھی موجود تھا۔جو پکچر پوسٹ کارڈ کے ذریعے گھر والوں کو اپنا حال لکھنے میں مصروف تھا۔گیسٹ ہاؤس کا ایک اور کرادر مالی بھی تھا جو مسافروں کو تازہ پھولوں کے گلدستے دیتا۔ لڑکا لڑکی گیسٹ ہاؤس سے باہر سیر کو جانے لگے تو فوٹوگرافر ان سے تصویر اتارنے کی فرمائش کرتا ہے تو لڑکی اسے جواب دیتی ہے کہ انہیں دیر ہورہی ہے۔مگر فوٹوگرافر نے کہا کہ وہ بس ان کے چند لمحے چرانا چاہتا ہے۔ باہر تو ویسے بھی راز حیات کی جنگ جاری ہے یہ کہہ کر فوٹوگرافر ان کی ایک خوبصورت تصویر اتارتا ہے۔اگلے دن مالی نے لڑکی کو وہ فوٹو لا کر دی جسے اس نے بنا دیکھے ہی دراز میں ڈال دیا اور جانے سے قبل اسے اٹھانا بھول گئی۔

Advertisement

وقت بیت گیافوٹو گرافر بوڑھا ہوگیا مگر اب بھی وہ گیسٹ ہاؤس کے دروازے پر ٹین کی کرسی بچھائے بیٹھا رہتا اور آنے والے سیاحوں کی تصاویر اتارتا تھا۔اب یہاں فضائی سروس شروع ہوجانے کی وجہ سے مسافروں کی تعداد بڑھ گئی تھی۔ایک روز ایک خاتون اپنا اٹیچی کیس لیے گیسٹ ہاؤس کے دروازے سے داخل ہوئی۔اس نے فوٹوگرافر کو چونگ کر دیکھا۔فوٹوگرافر نے بھی دیکھا کہ وہ ایک حسین لڑکی نہیں بلکہ ایک ادھیڑ عمر خاتون تھی۔ خاتون کمرے میں چلی گئی۔صبح جب اس نے اپنے کمرے کے سنگھار میز کی دراز کھولی تو اس میں بچھے کاغذ تلے لفافہ نظر آیا۔مگر ساتھ ہی ایک کاکروچ اس کے ہاتھ پر چڑھ دوڑا۔ہاتھ جھٹکے پر لفافہ نیچے گرا جس میں ایک نوجوان لڑکی اور لڑکا امر سندری پاروتی کے مجسمے کے قریب کھڑے مسکرا رہے تھے۔

Advertisement

خاتون بڑبڑائی کمال ہے پندرہ سال بعد بھی یہ تصویر کاغذ تلے موجود ہے۔یہاں صفائی کا نظام کتنا ناقص ہو گیا ہے۔ان برسوں میں اس خاتون میں کئی تبدیلیاں آگئی تھیں۔چہرے پر جھریاں ،انداز میں چڑ چڑاپن اور بے زاری۔اس کا ساتھی بھی راز حیات کے گھمسان میں کہیں کھو گیا تھا۔سب کچھ جوں کا توں موجود تھا مگر زندگی انسانوں جو کھا رہی تھی اور کاکروچ باقی تھے۔

سوالات

سوال نمبر 1:گمنام پہاڑی کے گیسٹ ہاؤس میں سیاح کیوں آتےتھے؟

گمنام پہاڑی کے گیسٹ ہاؤس میں اکثر نوجوان جوڑے ماہ عسل منانے آتے تھے۔کوئی مسافر دوران مسافت یہاں ٹھہرتا تھا۔اکثر کوئی مصور یا کلاکار لوگ جو تنہائی کے متلاشی ہوتے تھے وہ یہاں آتے تھے۔

Advertisement

سوال نمبر2:افسانے میں فوٹوگرافر کے کردار پر روشنی ڈالیے۔

افسانے میں موجود فوٹوگرافر کہانی کا بنیادی اور اہم کردار ہے جو بظاہر تو گیسٹ ہاؤس کے دروازے پر کرسی ڈالے سیاحوں کے انتظار میں ہے کہ کوئی سیاح آئے اور وہ اس کی تصویر نکالے مگر مصور نے اس فوٹوگرافر کے کیمرے کی آنکھ سے آتے جاتے وقت کے تسلسل اور روانی کو دکھایا ہے۔ اس کے کیمرے کی آنکھ دیکھتی سب ہے مگر خاموش رہتی ہے۔یہ صرف کیمرے کی آنکھ نہیں ہے بلکہ فوٹوگرافر کی آنکھ بھی ہے کہ وہ ایسا شخص ہے جس نے اس گیسٹ ہاؤس کے دروازے پر بیٹھے کئی رتوں کو بدلتے دیکھا ہے۔

سوال نمبر 3:افسانے میں زندگی کی کس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے؟

افسانے میں زندگی کی جس حقیقت کو بیان کیا گیا ہے وہ "تصور وقت” اور”فنا” ہیں کہ کس طرح اجتماعی زوال اور انسانی زندگی میں وقت کا عمل دخل موجود ہے۔وقت رفتہ رفتہ انسان کو فنا کے قریب لے جاتا ہے اور انسان اٹل فنا کے سائے میں زندگی کے رنگارنگ تماشے جاری رکھے ہوئے ہے۔

Advertisement

سوال نمبر 4:قرۃ العین حیدر کی افسانہ نگاری کی خصوصیات تحریر کیجئے۔

قرۃ العین حیدر کے افسانوں میں ہندوستان کی تاریخ اور تہذیب و ثقافت کی نمایاں جھلک موجود ہے۔اسلوب میں روانی جبکہ موضوعات میں رنگا رنگی کا پہلو ہے۔ ان کے زیادہ تر افسانے طویل ہیں۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement