Advertisement
  • کتاب” ابتدائی اردو” برائے چوتھی جماعت
  • سبق نمبر05: مکالمہ
  • سبق کا نام: حضرت علی رضہ کا انصاف

خلاصہ سبق: حضرت علی رضہ کا انصاف

اس سبق میں حضرت علی رضہ کی خلافت میں ان کے انصاف کا واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ ایک دفعہ دو مسافر کہیں جا رہے تھے۔ راستے میں کھانے کا وقت ہوا۔ انھیں بھوک لگی ان میں سے ایک کے پاس پانچ جبکہ دوسرے مسافر کے پاس تین روٹیاں تھیں۔ابھی انھوں نے کھا نانہیں شروع کیا تھا کہ ایک اور مسافر ادھر سے گزرا۔اس نے ان دونوں کے ساتھ مل کر کھانا کھایا۔

تیسرا مسافر کھانے کے بعد جانے لگا تو اس نے ان دونوں کو آٹھ درہم دیے۔ اس کے جانے کے بعد دونوں مسافر اس بات پہ لڑنے لگے کہ آٹھ درہم کیسے بانٹے جائیں۔ جس مسافر کے پانچ درہم تھے اس نے کہا کہ میں پانچ درہم لے لوں اور تمھاری تین تھی تم تین درہم لے لو۔لیکن دوسرے مسافر کا کہنا تھا کہ اس نے ہم دونوں کے حصّے سے کھانا کھایا ہے اس لیے برابر درہم بانٹ لیے جائیں۔

Advertisement

دونوں مسافروں نے سوچا کہ اس جھگڑے کا فیصلہ حضرت علی سے کروائیں۔ جب انھوں نے حضرت علی کو تمام بات بتائی تو وہ مسافر جس کی تین روٹیاں تھیں آپ نے اسے کہا کہاگر تم تین درہم لے لو تو فائدے میں رہو گے۔کیونکہ حضرت علی رضہ نے اسے بتایا کہ اس کے حصّے میں صرف ایک درہم آتا ہے۔

Advertisement

حضرت علی رضہ نے اس مسئلے کو یوں حل کیا کہ اگر ہر روٹی کے تین ٹکڑے کیے جائے تو اس مسافر جس کی تین روٹیاں ہیں کل نو جبکہ دوسرے کے کل پندرہ ٹکڑے بنتے ہیں۔جبکی اس تیسرے مسافر نے جس مسافر کی پانچ روٹیاں تھیں اس کے حصّے میں سے سات ٹکڑے جبکہ جس مسافر کی تین روٹیاں تھیں اس کے حصّے میں سے ایک ٹکڑا کھایا۔ اس حساب سے تین روٹیوں والےمسافر کے حصے میں ایک درہم آتا ہے۔دونوں مسافروں کی سمجھ میں تمام بات آگئی اور انھوں نے حضرت علی رضہ کی بات مان لی۔ اور یہ بھی ثابت ہو گیا کہ انھوں نے اپنی عقل مندی اور انصاف سے کتنا صحیح فیصلہ کیا۔

Advertisement

سوچیے بتائیے اور لکھیے۔

حضرت علی کون تھے؟

حضرت علی رضہ مسلمانوں کے خلیفہ ہیں۔

تیسرے مسافر نے کھانے کے بعد کیا کیا ؟

تیسرے مسافر نے کھانے کے بعد ان دونوں کو آٹھ درہم دیے۔

Advertisement

دونوں مسافر آپس میں کیوں لڑ رہے تھے؟

دونوں مسافر اس بات پہ لڑنے لگے کہ آٹھ درہم کیسے بانٹے جائیں۔ جس مسافر کے پانچ درہم تھے اس نے کہا کہ میں پانچ درہم لے لوں اور تمھاری تین تھی تم تین درہم لے لو۔لیکن دوسرے مسافر کا کہنا تھا کہ اس نے ہم دونوں کے حصّے سے کھانا کھایا ہے اس لیے برابر درہم بانٹ لیے جائیں۔

دوسرا مسافر حضرت علی کی بات سن کر حیران کیوں رہ گیا ؟

دوسرا مسافر یہ سن کر حیران ہوا کہ حضرت علی رضہ نے اسے کہا کہ اس کے حصّے میں صرف ایک درہم آتا ہے۔

Advertisement

تیسرے مسافر نے دونوں کے حصّے میں سے کتنے کتنے ٹکڑے کھاۓ؟

تیسرے مسافر نے جس مسافر کی پانچ روٹیاں تھیں اس کے حصّے میں سے سات ٹکڑے جبکہ جس مسافر کی تین روٹیاں تھیں اس کے حصّے میں سے ایک ٹکڑا کھایا۔

ان جملوں کو صحیح لفظوں سے پورا کیجیے:

  • ایک مسافر کے پاس پانچ روٹیاں تھیں۔
  • تیسرے مسافر نے ان دونوں کو آٹھ درہم دیے ۔
  • یہ اس زمانے کی بات ہے جب حضرت علی مسلمانوں کے خلیفہ تھے
  • تمھارے حصے میں صرف ایک درہم آ تا ہے۔
  • دونوں مسافروں کی سمجھ میں بات آ گئی ۔

ان لفظوں سے جملے بنائیے۔

انصاف حاکم کا کام انصاف کرنا ہوتا ہے۔
مسافرمسافر سفر کرنے والے کو کہتے ہیں۔
درہممسافر نے روٹی کی قیمت آٹھ درہم ادا کی۔
روٹیروٹی ایک مکمل اور بہترین غذا ہے۔
خلیفہحضرت علی رضہ مسلمانوں کے خلیفہ ہیں۔

مندرجہ ذیل سوالوں میں سے ہر ایک کے چار جواب دیے گئے ہیں، صحیح جواب کو نیچے لکھیے :

دونوں مسافروں میں اس بات پر جھگڑا ہوا کہ:

Advertisement
  • ہر ایک کو چار درہم مل رہے تھے ۔
  • ایک کوسات اور دوسرے کو ایک درہم مل رہا تھا۔
  • آٹھ درہم کافی نہ تھے۔
  • کس کو کتنے درہم ملنے چاہئیں ۔ ✅
  • کس کو کتںے درہم ملنے چاہیے۔

دونوں حضرت علی کے پاس کس لیےگئے؟

  • ان کو پیسے دینے۔
  • ان سے اور پیسہ مانگنے ۔
  • ✅ ان سے فیصلہ کروانے
  • ان کواپنا فیصلہ سنانے۔
  • ان سے فیصلہ کروانے۔

حضرت علی کے فیصلے کے مطابق دوسرے مسافر کے حصے میں کتنے درہم آرہے تھے؟

Advertisement
  • چار درہم ، تین درہم ، پانچ درہم ، ایک درہم ✅
  • ایک درہم

تیسرا مسافر کب آیا؟

  • جب دونوں مسافر روٹیاں کھا چکے۔
  • جب دونوں راستے میں چل رہے تھے۔
  • کھانا شروع کرنے سے پہلے ۔ ✅
  • ان میں سے کوئی نہیں ۔
  • کھانا شروع کر نے سے پہلے۔

پہلے مسافر نے پانچ درہم کیوں لینے چاہے؟

Advertisement
  • کیوں کہ اس کے ساتھی نے تین درہم لے لیے
  • کیوں کہ اس کی پانچ روٹیاں تھیں ۔✅
  • کیوں کہ وہ زیادہ بڑا تھا۔
  • کیوں کہ وہ بہت لالچی تھا۔
  • کیوں کہ اس کی پانچ روٹیاں تھیں۔

ان جملوں کو واقعات کی ترتیب کے مطابق لکھیے۔

یہ اس زمانے کی بات ہے جب حضرت علی مسلمانوں کے خلیفہ تھے ۔
تیسرا مسافر کھانے کے بعد جانے لگا تو اس نے ان دونوں کو آٹھ درہم دیے۔
دونوں مسافروں نے سوچا کہ اس جھگڑے کا فیصلہ حضرت علی سے کروائیں ۔
ابھی انھوں نے کھا نانہیں شروع کیا تھا کہ ایک اور مسافر ادھر سے گزرا۔
اگر تم تین درہم لے لو تو فائدے میں رہو گے۔
ایک مسافر کے پاس پانچ روٹیاں تھیں۔
انھوں نے حضرت علی کی بات مان لی۔

صحیح ترتیب:

  • ایک مسافر کے پاس پانچ روٹیاں تھیں ۔
  • ابھی انھوں نے کھا نانہیں شروع کیا تھا کہ ایک اور مسافر ادھر سے گزرا۔
  • تیسرا مسافر کھانے کے بعد جانے لگا تو اس نے ان دونوں کو آٹھ درہم دیے۔
  • یہ اس زمانے کی بات ہے جب حضرت علی مسلمانوں کے خلیفہ تھے ۔
  • دونوں مسافروں نے سوچا کہ اس جھگڑے کا فیصلہ حضرت علی سے کروائیں ۔
  • اگر تم تین درہم لے لو تو فائدے میں رہو گے۔
  • انھوں نے حضرت علی کی بات مان لی ۔

نیچے لکھے ہوۓ جملوں میں رنگین لفظوں کے متضا دلکھ کر جملہ مکمل کیجیے:

  • ابھی انھوں کھانا شروع نہیں کیا تھا کہ باقی لوگوں نے ختم کر دیا۔
  • اس بات پر دونوں میں بہت جھگڑا ہوا اور بعد میں صلح ہوگئی ۔
  • اگر تم تین درہم لے لوتو فائدے میں رہو گے ورنہ نقصان ہوگا۔

درست املا والے لفظوں پر صحیح (✅) کا نشان لگائے :

  • مسافر✅ مصافر مثافر
  • انصاف ✅ انساف انشاف
  • ہیران حیران✅ ہےران
  • حساب✅ ہساب حصاب

اس سبق سے واحد اور جمع چن کر لکھیے۔

مسافرمسافروں
روٹیروٹیوں
تینتینوں
ٹکڑاٹکڑے

اس سبق میں لفظ ” عقلمند‘ آیا ہے جو دولفظوں سے مل کر بنا ہے ۔اس کا مطلب ہے سمجھدار اسی طرح نیچے لکھے ہوۓ لفظوں میں مند لگا کر لفظ بنائیے :

صحتصحت مند
سلیقہسلیقہ مند
ہنرہنر مند
ضرورتضرورت مند
احساناحسان مند
دولتدولت مند
Advertisement

Advertisement