نظم ہوا کی تشریح، سوالات و جوابات

0
  • کتاب” ابتدائی اردو” برائے چوتھی جماعت
  • سبق نمبر10: نظم
  • شاعر کا نام: شفیع الدین نیر
  • نظم کا نام: ہوا

نظم ہوا کی تشریح

عجب ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے
یہ گرمی میں پنکھے ہمیں جھل رہی ہے

یہ شعر شفیع الدین نیر کی نظم ہوا سے لیا گیا ہے۔ اس نظم میں شاعر نے ہوا کی صفات بیان کی ہیں۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ایک عجیب طرح کی پر لطف اور ٹھنڈی ہوا چل رہی ہے یہ ہوا اتنا اچھا احساس دلا رہی ہے کہ اس ہوا کی بدولت گرمی میں یوں محسوس ہو رہا ہے کہ جیسے ہمیں کوئی پنکھا جھک رہا ہو۔

ہے انسان حیوان کی جاں اسی سے
پھلوں اور پھولوں کی سب شان اسی سے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ہوا کی بدولت ہم کچھ بھی نہیں ہیں۔ زندہ رہنے کے لیے جیسے پانی اور خوراک ضروری ہیں ویسے ہی ہوا بھی نہایت اہم ہے اور یہ ہوا انسانوں اور جانوروں کے لیے یکساں ضروری ہے۔ اسی سے دیگر جاندار جیسے جی پھل اور پھول وغیرہ بھی بہتر طور سے بڑھتے ہیں۔ یعنی کہ ہوا تمام جاندار اشیاء کی نشوونما کے لیے بہت اہم ہے۔

ہوا ہی نہ ہوتی تو پھر کیا دھرا تھا
ادھر سانس رکتا ادھر دم فنا تھا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ہوا اتنی اہم ہے کہ اگر اس دنیا میں ہوا کا وجود نہ ہوتا تو اس دنیا میں بھلا کیا رکھا ہوتا۔ اگر ہوا کا وجود نہ رہے تو ہماری کیفیت ایسی ہوتی کہ فورا ہمارا سانس رک جاتا اور ہم فنا ہو جاتے۔

ہمارے لیے اور باغوں میں جاکر
یہ لائی ہے پھولوں کی خوشبو اڑا کر

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ہوا محض ہمارے اندر زندہ رہنے کا احساس نہیں جگاتی ہے کہ بلکہ یہ باغوں میں جا جا کر وہاں سے ہمارے لیے اپنے ساتھ پھولوں کی خوشبوؤں کو بھی اڑا کر لے آتی ہے۔ اسی لیے جب ہوا چلتی ہے تو ہم بہت تروتازہ محسوس کرتے ہیں۔

سمندر سے آئی تو سوغات لائی
مٹانے کو گرمی کے ، برسات لائی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اسی ہوا کا گزر جب سمندر سے ہوتا ہے تو یہ وہاں کی سوغات ہمارے لیے اپنے ساتھ لے کر آتی ہے۔ یعنی کہ اگر ہوا سمندر کی طرف سے آ رہی ہے تو یہ ہماری گرمی مٹانے کے لیے اپنے ساتھ برسات کی بارشوں کو لے کر آتی ہے۔

ذرا دیر میں تھا نگر سارا جل تھل
ہرے ہو گئے اب تو جنگل کے جنگل

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جب ہوا کا گزر سمندر سے ہوا تو وہ اپنے ساتھ برسات کو لے کر آئی اور تھوڑی ہی دیر میں بارش ایسی خوب برسی کہ سارا نگر اس بارش میں نہا گیا اور جل اور تھل دونوں ایک ہوگئے۔ اس برسات کی بدولت جب جنگل پھر سے ہرے بھرے ہو گئے۔ یہ سب بھی ہوا کی بدولت ہوا۔

ہوا ، دیکھیے گر بگڑنے پر آۓ
تو رہتے نہیں شہر ، بستی ، سراۓ

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ہوا ہم پر اپنی بہاروں کی برسات تو کرتی ہے مگر جب یہی ہوا اگر گڑ بڑ کرنے پر آئے تو یہ چند ہی پلوں میں شہر ، بستی ، سرائے وغیرہ سب کو اجاڑ سکتی ہے اور وہاں کسی شے کا نشان باقی نہ رہے۔

گرجتی ہوئی ، آتی ہے سنسناتی
ہر اک چیز کو توڑتی اور گراتی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جب ہوا گڑ بڑ کرنے پہ آتی ہے تو یہ غصے میں گرجتی ہوئی تیزی سے آتی ہے اور اس کی آواز میں عجب سنسناہٹ ہوتی ہے۔ اس وقت یہ ہوا ہر چیز کو توڑ اور گرا کر رکھ دیتی ہے۔ اس کی گرج سے سب کچھ تباہ ہو جاتا ہے۔ اسے ہم طوفانی ہوا بھی کہہ سکتے ہیں۔

کسی کی کہیں آنکھ میں خاک جھونکی
کسی کی کہیں لے گئی سر کی ٹوپی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جب ہوا غصے کی حالت میں نمودار ہوتی ہے تو اس وقت یہ کسی کی آنکھوں کو مٹی سے بھر کر رکھ دیتی ہے تو کبھی کسی کے سر کی ٹوپی اڑا کر اپنے ساتھ لے جاتی ہے۔

اکھاڑے کہیں پیڑ ایسا جھنجھوڑا
کہیں گھر پہ چھپر کا تنکا نہ چھوڑا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس ہوا نے غصے ہی حالت میں صرف انسان کے سر کی ٹوپی نہیں اڑائی بلکہ کہیں پہ تو اس نے بڑے بڑے پیڑوں کو بھی اس قدر ہلایا ہے کہ اپنی شدت سے انھیں جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا۔ جبکہ کہیں پہ اسی ہوا نے گھر کے چھتوں جو اڑا دیا اور ان پہ ایک بھی تنکا نہیں چھوڑا یعنی مکانوں کے پورے چھت کے چھت اڑ گئے۔

سمندر کی موجوں کو ایسا اچھالا
کہ پانی کا بس بن گیا اک ہمالا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ان ہواؤں نے سمندر کی موجوں کو بھی نہیں چھوڑا اور ان سے چھیڑ چھاڑ کرتے ہوئے ان موجوں میں ایسا زبردست اچھال پیدا کیا کہ وہاں پہ پانی کا ایک بہت بڑا پہاڑ جو کہ ہمالہ کے پہاڑ کی طرح بلند و بالا ہو بن گیا۔

جہازوں کے ایسے پر خچے اڑاۓ
کہ جاکر سمندر کی تہہ میں سمائے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اس ہوا نے محض انسانوں ، گھروں یا سمندروں کو تنگ نہیں کیا بلکہ اس ہوا نے تو جہازوں کے بھی ٹکڑے ٹکڑے کیے ہیں۔ ہوا نے جہازوں کا نام و نشاں اس طرح سے مٹایا ہے کہ وہ سمندر کی تہہ میں مل کر رہ گئے۔

عجب شے ہے نیر جہاں میں ہوا بھی
کہ نعمت بھی کہیے اسے ، اور بلا بھی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اے نیر یہ ہوا بھی ایک عجیب چیز ہے کہ جہاں ہم اس کو نعمت کہتے ہیں کہ ہماری زندگی کا دارومدار اسی ہوا پہ ہے وہاں ہی یہ ہوا کبھی کبھی ہمارے لیے زحمت بھی بن جاتی ہے۔

سوچیے بتائیے اور لکھیے۔

گرمی میں ٹھنڈی ہوا کے چلنے سے کیسامحسوس ہوتا ہے؟

گرمی میں ٹھنڈی ہوا چلنے سے یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ہمیں کوئی پنکھا جھل رہا ہو۔

ہوا کوانسان اور حیوان کی جان کیوں کہا گیا ہے؟

کیونکہ ہوا کے بغیر انسانوں اور جانوروں دونوں ہی کی زندگی کا وجود ناممکن ہے۔ ہوا ہمارے زندہ رہنے اور سانس لینے کے لیے نہایت ضروری ہے۔ اس لیے اسے انسانوں اور جانوروں کی سانس کہا گیا ہے۔

ہو اسمندر سے کیا سوغات لاتی ہے؟

ہوا سمندر سے برسات کی سوغات لاتی ہے۔

ہواجب غصے میں ہوتی ہے تو کیا ہوتا ہے؟

ہوا جب غصے میں ہو تو یہ انسان کے سر کی ٹوپی اور گھروں کے چھت اڑا دیتی ہے۔ یہ پیڑوں کو اکھاڑ دیتی ہے اور جہازوں کے پر خچے اڑا دیتی ہے۔

ان مصرعوں کو دیے گئے لفظوں سے پورا کیجیے:

تنکا ، نگر ، جاں ، سمںدر ، پر خچے ، پھولوں

  • ہے انسان حیوان کی جاں اسی سے
  • یہ لائی ہے پھولوں کی خوشبو اڑا کر
  • ذرا دیر میں تھا نگر سارا جل تھل
  • کہیں گھر پہ چھپر کا تنکا نہ چھوڑا
  • جہازوں کے ایسے پر خچے اڑاۓ
  • کہ جاکر سمندر کی تہہ میں سمائے

ان محاوروں کے مطلب بتائیے اور جملوں میں استعمال کیجیے :

سانس رکنا سانس پوری طرح نہ آنا ہوا کے تھمتے ہی یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے سانس رک گیا ہو۔
دم فنا ہونا جان نکل جانا اگر ہوا نہ چلے تو ذرا دیر میں ہمارا دم فنا ہو جائے۔
پر خچے اڑانا ٹکڑے ٹکڑے کرنا طوفانی ہوا نے ہماری گاڑی کے پرخچے اڑا دیے۔
خاک جھونکنا مٹی دھول ڈالنا ہوا نے ہم سب کی آنکھوں میں خاک جھونک دی۔

نظم سے ایسے الفاظ تلاش کر کے لکھیے جن میں پھ ، کھ، چھ چھ ، کچھ تھے ،ٹھ کا استعمال کیا گیا ہے:

پنکھے پن + کھ + ے
گھر = گھ + ر
چھپر = چھ + پ + ر
چھوڑا = چھ + و + ڑ + ا
اکھاڑے = ا+ کھ + ا+ ڑ + ے
اچھالا = ا+ چھ +ا +ل + ا
جھونکی = جھ+ و + ن +ک+ ی
پھلوں = پھ +ل + و +ں
پھولوں = پھ+و + ل+ و+ ں

نیچے دی گئی تصویروں کی مدد سے مصرعوں کو مکمل کیجیے اور خالی جگہ میں لکھیے :

  • یہ گرمی میں 💨 ہمیں جھل رہی ہے
  • یہ گرمی میں پنکھے ہمیں جھل رہی ہے
  • 💐 اور 🍎🍒🥭 کی سب شان اسی سے
  • پھلوں اور پھولوں کی سب شان اسی سے
  • کسی کی کہیں 👀 میں خاک جھونکی
  • کسی کی کہیں آنکھ میں خاک جھونکی
  • کسی کی کہیں لے گئی سر کی 🧢
  • کسی کی کہیں لے گئی سر کی ٹوپی
  • اکھاڑے کہیں 🌴 ایسا جھنجھوڑا
  • اکھاڑے کہیں پیڑ ایسا جھنجھوڑا
  • کہیں 🏠 پہ چھپر کا تنکا نہ چھوڑا
  • کہیں گھر پہ چھپر کا تنکا نہ چھوڑا
  • ✈️ کے ایسے پر خچے اڑاۓ
  • جہازوں کے ایسے پر خچے اڑاۓ

نظم میں جو الفاظ استعمال ہوۓ ہیں ان کے گرد دائرہ بنائے :

  • کہانی ⚫
  • نیکی
  • شان
  • جہاز⚫
  • زمین
  • کام
  • اچھالا⚫
  • جان⚫
  • گرمی⚫
  • غریب
  • پہاڑ
  • سانس⚫
  • سفر
  • برسات⚫
  • خاک⚫
  • مدد
  • جنگل⚫
  • سوغات⚫
  • نرم
  • سمندر⚫

ان لفظوں کے نیچے ان کے متضا دیکھیے :

انسان حیوان
گرمی سردی
دیر سویر
برا اچھا
صاف گندا
بہار خزاں
آسمان زمین
خوشی غمی

ان مصرعوں پر ✅ یا ❎ کا نشان لگائیے۔

  • ٹھنڈی ہوا ہوا بہہ رہی ہے عجب ٹھنڈی ؟❎
  • ہرے ہو گئے اب تو جنگل کے جنگل✅
  • کسی کی کہیں آنکھ میں خاک ڈالی ❎
  • کہ پانی کا بس بن گیا اک ہمالا ✅
  • گر جتی ہوئی ، جاتی ہے سنسناتی❎

ان تصویروں پر دودو جملےلکھیے :

پنکھا: پنکھا ہمیں ٹھنڈی ہوا دیتا ہے۔ پنکھا بجلی کے ذریعے چلتا ہے اور ایک پنکھا ہاتھ کے ذریعے بھی جھلا جا سکتا ہے۔
جہاز: جہاز سفر کی سواری ہے، جہاز ہوا میں اڑتا ہے۔
جنگل: جنگل میں طرح طرح کے پھول ، پودے درخت ہوتے ہیں۔ جنگل میں کئی طرح کے جانور بھی ہوتے ہیں۔

یہ الفاظ جن مصرعوں میں استعمال ہوۓ ہیں اُن مصرعوں کو لکھیے :

  • پانی ،سانس ،جل تھل ،گرجتی ،جہاز
  • جہازوں کے ایسے پر خچے اڑاۓ
  • کہ پانی کا بس بن گیا اک ہمالا
  • گرجتی ہوئی ، آتی ہے سنسناتی
  • ادھر سانس رکتا ادھر دم فنا تھا
  • ذرا دیر میں تھا نگر سارا جل تھل

اس نظم کو سامنے رکھ کر ہوا کی پانچ خصوصیات لکھیے۔

  • ہوا کے ذریعے ہم سانس لیتے ہیں۔
  • ہوا تمام جاندار اشیاء کے زندہ رہنے کے لیے ضروری ہے۔
  • ہوا بارش لاتی ہے۔
  • ہوا کے شدید دباؤ سے درخت اکھڑ جاتے ہیں۔
  • ہوا جہازوں کے پر خچے اڑانے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔