Advertisement

کتاب” ابتدائی اردو” برائے پانچویں جماعت۔
سبق نمبر13: نظم
نظم کا نام: کتابیں
شاعر کا نام: ظفر کمالی

نظم کتابیں کی تشریح

سمجھتا ہے اسے سارا زمانہ
کتابیں علم و حکمت کا خزانہ

یہ شعر ظفر کمالی کی نظم ” کتابیں” سے لیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ کتابوں کی اہمیت سے سارا زمانہ بخوبی واقف ہے کہ کتابیں ہمیشہ ہمارے علم میں اضافہ کرتی ہیں اور اس میں علم و حکمت کے موتی چھپے ہوئے ہیں۔ کتابیں اپنے اندر خزانہ رکھتی ہیں اور یہ خزانہ علم کا خزانہ ہے۔

ہماری مونس و غم خوار ہیں یہ
جہاد علم کی للکار ہیں یہ

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہ کتابیں ہماری بہترین دوست ہیں کہ جب ہم دکھی یا پریشان ہوتے ہیں تو ان کے سبب ہمارا دکھ دور ہو جاتا ہے۔ یوں یہ ہماری ایک دوست کی طرح غم خواری کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ یہ کتابیں اپنے اندر ایک جذبہ جہاد پوشیدہ کیے ہوئے ہیں جو ہمیں علم کی تلاش کے لیے للکارتا ہے۔

Advertisement
کتابیں کیا ہیں روحانی غذا ہیں
سکوں دل کا دواؤں کی دوا ہیں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جیسے پیٹ کی غذا کھانا ہوتا ہے جس کے بنا ہم سیراب نہیں ہوتے ہیں ایسے ہی روح کی بھی غذا ہوتی ہے اور یہ کچھ اور نہیں بلکہ کتابیں ہیں۔ روح کتابوں کے مطالعے سے سیراب ہوتی ہے۔ ان کتابوں کے مطالعے سے دل کو بھی سکون میسر ہوتا ہے اور یہ کتابیں مختلف بیماریوں اور دواؤں کی بھی دوا ہیں۔

کتابوں سے ہے جس کی آشنائی
بڑی دولت جہاں میں اس نے پائی

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ وہ انسان جو کتابوں سے اپنی جان پہچان بنا لیتا ہے اس نے اس دنیا میں اس سے بڑھ کر اور کوئی بڑی دولت یا خزانہ نہیں پایا ماسوا اس کے کہ اس کے پاس علم کا خزانہ ہے اور وہ کتاب دوست انسان ہے۔

کتابوں کی رفاقت بھی عجب ہے
تعلق توڑنا ان سے غضب ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ کتابوں سے دوست ایک عجیب طرح کی دوستی ہے۔ کتابوں کو اپنا ساتھی بنانا ایک بہترین ساتھی کا چننا ہے کہ باقی ساتھیوں یا لوگوں سے ہم کبھی نہ کبھی تعلق ختم کر بھی لیتے ہیں مگر کتابوں سے تعلق توڑنا اول تو مشکل ہے اور اگر ایسا کرتے بھی ہیں تو یہ کسی غضب سے کم نہیں ہے۔

سکھاتی ہیں یہ جینے کا طریقہ
بتاتی ہیں ہمیں کیا ہے سلیقہ

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ یہ کتابیں انسان کو زندگی جینے کا سلیقہ سکھاتی ہیں اور یہی نہیں بلکہ کتابیں ہمیں آداب ، تہذیب اور سلیقے سے آشنا کرتی ہیں۔

کسی نے منہ کتابوں سے جو پھیرا
یقیناً اس کو ذلت نے ہے گھیرا

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اگر کوئی کتابوں سے لاتعلقی کرتا ہے یا منھ پھیر لیتا ہے تو یہ بات یقینی ہے کہ اس نے زندگی میں ذلت کے سوا کبھی کچھ نہیں پایا ہے۔

کتابوں سے اگر خالی مکاں ہے
وہ ہے بھوتوں کا مسکن گھر کہاں ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اگر تو آپ کا مکان کتابوں سے خالی ہے تو اس کی مثال ایسی ہے کہ ہم اسے گھر ہر گز نہیں کہیں گے بلکہ وہ گھر کی بجائے خالی خولی بھوتوں کا ٹھکانہ ہی ہو گا۔

کتابوں سے حلاوت گفتگو میں
شرافت کا اثر باقی لہو میں

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ کتابوں سے آپ کی گفتگو میں مٹھاس پیدا ہوتی ہے اور یہی نہیں بلکہ کتابیں انسان میں شرافت کا عنصر بھی پیدا کرتی ہیں۔

کتابوں سے سدا رشتہ بڑھاؤ
اسی میں زندگی اپنی لگاؤ

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ تمھیں چاہیے کہ ہمیشہ اپنا رشتہ کتابوں سے مضبوط کرو اور اپنی تمام زندگی بھی انہی سے دوستی محبت اور ان کے مطالعے میں صرف کر دو۔

سوچیے بتائیے اور لکھیے:

کتا ہیں کس چیز کا خزانہ ہیں؟

کتابیں علم کا خزانہ ہیں۔

” جہادعلم کی للکار ہیں یہ کا کیا مطلب ہے؟

جہاد کی للکار سے مراد ہے کہ یہ قاری کو اپنی جانب للکار کر بلاتی ہیں کہ مجھے پڑھو اور سیکھو۔

نظم میں کتاب کو روحانی غذا کیوں کہا گیا ہے؟

کیوں کہ کتاب کا مطالعہ انسان کی روح کو سیراب کرتا ہے اس لیے اسے روحانی غذا کہا گیا ہے۔

شاعر نے یہ کیوں کہا ہے کہ کتابیں بڑی دولت ہیں؟

شاعر نے کتابوں کو بڑی دولت اس لیے کہا ہے کہ کتابیں انسان کو علم کا خزانہ میسر کرتی ہیں جو کسی حقیقی دولت سے کم نہیں ہے۔

کتابوں سے منہ پھیر لینے کے کیا معنی ہیں؟

کتابوں سے منھ پھیر لینے کا مطلب کتابوں سے قطع تعلق کر لینا۔

خالی جگہ کو پر کیجئے.

  • ہماری مونس و غم خوار ہیں یہ
  • سکوں دل کا دواؤں کی دوا ہیں
  • تعلق توڑنا ان سے غضب ہے
  • کتابوں سے حلاوت گفتگو میں
  • اسی میں زندگی اپنی لگاؤ

مختلف فعلوں کی مدد سے جملے بنا کر لکھیے۔

بچہ:

  • مثال: بچہ کتاب پڑھ رہا ہے۔
  • بچہ کھیل رہا ہے۔
  • بچہ کھانا کھا رہا ہے۔
  • بچہ ٹی وی دیکھ رہا ہے۔
  • بچہ سو رہا ہے۔

استانی:

  • استانی بچوں جو پڑھا رہی ہے۔
  • استانی ںے سب بچوں کی حاضری لگائی۔
  • استانی جی نے سب بچوں کو شاباش دی۔
  • استانی صاحبہ آج جلدی تشریف لے آئیں۔

لڑکی:

  • لڑکی اپنی ہم جولیوں کے ساتھ کھیل رہی تھی۔
  • لڑکی نے آج سکول سے چھٹی کی۔
  • لڑکی کو بخار ہو گیا۔
  • لڑکی بہت ہوشیار تھی۔

نیچے دیے ہوئے مصرعوں کی نثر بنائیے۔

  • مثال: سمجھتا ہے اسے سارا زمانہ
  • نثر: اسے سارا زمانہ سمجھتا ہے۔
  • کتابوں سے ہے جس کی آشنائی
  • نثر: جس کی کتابوں سے آشنائی ہے۔
  • سکھاتی ہیں یہ جینے کا طریقہ
  • نثر: یہ جینے کا طریقہ سکھاتی ہیں۔
  • وہ ہے بھوتوں کا مسکن، گھر کہاں ہے
  • نثر: وہ گھر کہاں ہے بھوتوں کا مسکن ہے۔
  • يقيناً اس کو ذلت نے ہے گھیرا
  • نثر: یقیناً اس کو ذلت نے گھیرا ہے۔

کتابوں کی اہمیت پر پانچ جملے لکھیے:

  • کتابیں علم کا خزانہ ہوتی ہیں۔
  • کتابوں کے مطالعے سے ہماری معلومات میں اضافہ ہوتا ہے۔
  • کتاب کی مدد سے انسان دوستی کو پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔
  • کتاب کبھی انسان کو تنہائی کا شکار نہیں ہونے دیتی ہے۔
  • کتابیں انسان کو بہترین زندگی گزارنے اور جینے کا سلیقہ سکھاتی ہیں۔

نیچے دی ہوئی تصویروں پر دو دو جملے لکھیے:

کتاب:کتاب ہمیں علم سکھاتی ہے۔ کتاب انسان کی تنہائی میں ایک بہترین ساتھی ثابت ہوتی ہے۔
کرسی:کرسی لکڑی ، پلاسٹک وغیرہ سے بنتی ہے۔ کرسی کو ہم بیٹھنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
میز:میز لکڑی ، لوہے یا پلاسٹک سے بنتا ہے۔ میز پر ہم اپنی کتابیں رکھ کر پڑھتے اور کھانا کھاتے ہیں۔
کتب خانہ:کتاب خانہ اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں ڈھیر ساری کتابیں موجود ہوتی ہیں۔ کتب خانے میں کم علم کی تلاش میں آتے ہیں۔
لیمپ لیمپ کو ہم اندھیرے میں جلا کر روشنی حاصل کرتے ہیں۔ لیمپ گھر کی خوبصورتی میں اضافہ کرنے میں مدد دیتا ہے۔

عملی کام: اپنی پسندیدہ پانچ کتابوں کے نام لکھیے۔

قرآن مجید ، شہاب نامہ (آپ بیتی)، خواب رو(ناول) ، خدا کی بستی (ناول) ، دست تہہ سنگ ( شعری مجموعہ)

بلند آواز سے پڑھیے اور خوش خط لکھیے۔

حلاوت ، رشتہ ، غضب ، رفاقت ، آشنائی۔