Advertisement

تعارفِ نظم

ترانہ وحدت یعنی خدا کا گیت۔ ترانۂ وحدت وہ نظم ہوتی ہے جس میں اللہ کی تعریف کی گئی ہو۔ یہ نظم تلوک چند محروم نے لکھی ہے۔اس پوری نظم میں شاعر خدا کی نعمتوں ، نشانیوں اور جلوؤں کی تعریف کرتے نظر آ رہے ہیں۔

Advertisement

تعارف ِ شاعر

تلوک چند محروم 1885 ء میں پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ان کا اصلی نام تلوک چند اور تخلص محروم تھا۔اردو کے علاوہ عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کی۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے معلمی کا پیشہ اختیار کیا۔ آزادی کے بعد وہ پاکستان سے دہلی آئے یہاں کچھ دنوں نامہ تیج سے وابستہ رہے۔ اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی کیمپ کالج میں اردو اور فارسی کے لکچرر کے عہدے پر فائز ہوئے۔ان کا انتقال 1966 ء میں ہوا۔

Advertisement

انسانی سیرت کی نقش گری میں ان کے قلم کو بڑی مہارت حاصل ہے۔احساس مسرت ہو کہ اندوہ غم کا بیان، ان کا قلم ہر میدان میں رواں دواں نظر آتا ہے۔ مناظرِ فطرت کی تصویر کشی میں بھی محروم کو کمال حاصل ہے۔

نظم ترانۂ وحدت کی تشریح

ہر ذرے میں ہے ظہور تیرا
ہے برق و شرر میں نور تیرا

شاعر خدا سے مخاطب ہو کر فرماتا ہے کہ ہر ایک ذرے میں خدا کا ظہور ہے یعنی اس کی قدرت ہر ایک شے میں ظاہر ہوتی ہے۔ شاعر فرماتے ہیں کہ بجلی اور چنگاری میں بھی خدا کا نور ہے۔

Advertisement
افسانہ تیرا جہاں تہاں ہے
چرچا ہے قریب و دور تیرا

شاعر فرماتے ہیں کہ خدا کا ذکر ہر جگہ اور ہر طرف ہے۔ پاس ہو یا دور ہر جگہ اللہ کا ہی چرچا ہے۔

گاتے ہیں شجر ہوا میں کیا کیا
دم بھرتے ہیں سب طیور تیرا

شاعر پیڑ پودوں اور پرندوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ سب بھی اصل میں خدا کی تعریف اور ذکر کرتے ہیں۔

Advertisement
تو جلوہ فگن کہاں نہیں ہے
وہ جا نہیں تو جہاں نہیں ہے

شاعر فرماتے ہیں کہ خدا کا جلوہ ہر جگہ موجود ہے اور فرماتے ہیں کہ ایسی کوئی بھی جگہ دنیا میں موجود نہیں جہاں اس کا ذکر نہ ہوتا ہو۔

تاروں میں چمک دھمک تری ہے
جو رعد میں ہے کڑک تری ہے

اس شعر میں شاعر فرماتے ہیں کہ تاروں میں جو چمک اور روشنی ہے وہ اللہ کی دی ہوئی ہے۔اور جو آسمانی بجلی میں کڑک ہے وہ بھی اللہ کی ہی قدرت ہے۔

Advertisement
ہر غنچے میں ہے تیرا تبسم
ہرگل میں بھری مہک تری ہے

شاعر اس شعر میں اللہ کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ جو کلیوں میں تبسم ہے وہ بھی اللہ کی مہربانی ہے اور جو پھولوں میں مہک ہے وہ بھی اسی کی ہے۔

کہتی ہے کلی کلی زباں سے
میری بہن یہ چٹک تیری ہے

نظم کے آخری شعر میں شاعر فرماتے ہیں کہ ہر کلی یہی پکارتی ہے کہ جو چمن میں پھولوں کا کھلنا ہے یہ سب خدا کا دیا ہوا ہے۔

Advertisement

1: سوالات اور جوابات

سوال: نظم میں تیرا اور تیری کس کے لئے استعمال ہوئے ہیں؟

ج: نظم میں تیرا اور تیری اللہ تعالی کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔

سوال: شجر شرر اور غنچے کے علاوہ شاعر نظم میں اور کن چیزوں میں خدا کے جلوے دکھاتا ہے؟

ج: شجر اور غنچے کے علاوہ شاعر نظم میں خدا کے کئی جلوے دکھاتا ہے جیسے کہ پرندوں کی چہچہاہٹ میں، درختوں کی سنسناہٹ میں ، تاروں کی چمک، بجلی کی کٹک ،کلیوں کی مسکراہٹ میں اور پھولوں کی خوشبو میں خدا کے جلوے دکھاتا ہے۔

Advertisement

سوال: نظم میں آسمان اور چمن سے متعلق کن کن چیزوں کا ذکر ہوا ہے؟

ج: نظم میں آسمان سے متعلق برق، نور، تارے اور رعد کا ذکر ہوا ہے۔ وہیں چمن سے متعلق غنچہ ، شجر ، کلی ، گل اور طیور کا ذکر ہوا ہے۔

سوال: جو نظم خدا کی تعریف میں کہی جائے اسے کیا کہتے ہیں؟

ج: جو نظم خدا کی تعریف میں کہی جائے اسے حمد کہتے ہیں۔

Advertisement

سوال: جس نظم میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کی جائے اسے کیا کہتے ہیں؟

ج: جس نظم میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی تعریف کی جائے اسے نعت کہتے ہیں۔

سوال: ایک جیسی آواز والے الفاظ کو کیا کہتے ہیں؟

ایک جیسی آواز والے الفاظ کو قافیہ کہتے ہیں جیسے نور دور مہک چہک وغیرہ۔

Advertisement

2: خالی جگہوں کو پُر کیجیے۔

  • ہے برق و شرر میں نور تیرا۔
  • دم بھرتے ہیں سب طیور تیرا۔
  • جو رعد میں ہے کڑک تری ہے۔
  • ہرگل میں بھری مہک تری ہے۔