Advertisement

خلاصہ سبق:

یہ سبق کندن لال سہگل کی فلمی دنیا میں ان کی خدمات کے عوض لکھا گیا ہے۔ کے این سہگل نے فلمی دنیا میں کیسے قدم رکھا۔شرت چند چڑ جی کے ںاول پر مبنی فلم کا نام ‘ دنیا پاونا’ تھا جو کہ بنگالی زبان میں تھی۔بی ۔این سرکار کی دوسری فلم ہندوستانی زبان میں بنانے کا فیصلہ کیا اور محبت کے آنسو کے عنوان سے فلم لکھی۔

آر پی بورال نے فلم کی موسیقی کی ذمی داری سنبھالی۔ اس فلم کے مرکزی کردار کے لیے کوئی ہیرو نہ تھا۔یہاں نتن بوس نے ان کا تعارف سہگل سے کروایا۔کے ایل سہگل نے اپنے فن گائیکی سےسرکار صاحب اور بورال دا کومتاثر کیا۔ آترتھی صاحب سے جب کے۔ایک سہگل کا تعارف ہوا تو ان کی پیشانی شکن آلود ہوگئی۔

Advertisement

کے ۔ایل سہگل کو دیکھ کر آترتھی صاحب کہنے لگے کہ یہ اس لمبے سوکھے بدن کے ساتھ کیا خاک ایکٹنگ کریں گے۔ دیکھنے سے یوں معلوم ہونے جیسے بانس پر کپڑا لٹکا دیا ہو۔ نہ شکل نہ صحت۔آترتھی کا ایک ایک لفظ ان کے دماغ پر ہتھوڑے بن کر برسا۔ جس سے سے سہگل کی حالت خراب ہوگئی تھی۔

Advertisement

پہلے وہ یہ سوچ کر خوش تھے کہ انہیں اپنی منزل مل گئی لیکن اب لگا کہ جسے وہ اپنی منزل سمجھ رہے تھے وہ محض ایک چھلاوہ تھا۔لیکن جب سہگل کی خود اعتمادی ان کا ساتھ چھوڑ چکی تھی تب انہوں نے یہ آواز محسوس کی۔جموں کے پیر بابا کی یہ آواز کہ موسیقی تو ایک مسلسل ہنر ہے بیٹے اور اس میں منزل نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ اگر کچھ ہوتا ہے تو بس ریاض اور ذکر جس کا کوئی خاتمہ نہیں۔

Advertisement

آخر دم تک اسے نبھانا پڑتا ہے۔ اگر تم یہ کر سکے تو تمہاری روح کو سکون ملے گا۔ سلمان پیر کی یہ بات یاد آتے ہی سہگل کو سچ مچ بہت سکون ملا اور ان کی خود اعتمادی جو ذرا دیر پہلے ان کا ساتھ چھوڑ چکی تھی پھر سے لوٹ آئی۔ انھوں نے آر تھری سے کہا کہ آپ اتنے بڑے فلم کار پتھر کو بھی چھو لیں تو پارس بن جائے مجھ پر بھی اپنا کرم کر دیجیے گا۔

سہگل کی خود اعتمادی اور آرتھر صاحب کے دیے لئے ان کے اس جواب کو سن کر آتر تھی صاحب مطمئن ہو گئے۔فلم کی ریہرسل کا کام شروع ہو گیا۔جب فلم کی شوٹنگ کا آغاز ہوا توکیمرے کا سامنا ہوا تو سہگل گھبرا گئے اور ان سے بار بار غلطی ہو تی گئی۔ آٹھ نو بار ری ٹیک ہو چکا تھا اور آتر تھی صاحب بھی باربار کے ری ٹیک سے غصے میں اسٹوڈیو سے باہر نکل گئے۔

Advertisement

یہ دیکھ کر سہگل رونے لگے۔ مگر سہگل نے پھر سے ہمت مجتمع کی اور دوبارہ کوشش میں لگ گئے۔ آخر انھوں نے ایک کامیاب شاٹ دیا اور آترتھی بھی ان کے کام سے مطمئن ہوئے ۔آترتھی ایک منجھے ہوئے ہدایت کار اور فلم ساز کے ساتھ ساتھ ایک بہترین ماہر نفسیات بھی تھے۔ یوں وہ سمجھ گئے کہ سہگل احساس کمتری کا شکار ہو گیا تھا۔ سہگل کی یہ فلم تو کامیاب نہ ٹھہری مگر کے ۔ایل سہگل کو ان کی آواز اور اداکاری کے دم پرفلمی دنیا میں زبردست شہرت ملی تھی۔

سوچیے اور بتایئے:

شرت چند چڑ جی کے ناول پر بنی پہلی فلم کا کیا نام تھا اور وہ کس زبان میں تھی؟

شرت چند چڑ جی کے ںاول پر مبنی فلم کا نام ‘ دنیا پاونا’ تھا جو کہ بنگالی زبان میں تھی۔

Advertisement

بی ۔این۔سرکار نے اپنی دوسری فلم کس زبان میں بنائی؟

بی ۔این سرکار کی دوسری فلم ہندوستانی زبان میں تھی

کے ۔ایل۔سہگل نے اپنی کس خوبی سے سرکار صاحب اور بورال دا کو متاثر کیا؟

کے ایل سہگل نے اپنے فن گائیکی سےسرکار صاحب اور بورال دا کومتاثر کیا۔

Advertisement

ماتھے کی شکنیں گہری ہونے سے کیا مراد ہے؟

ماتھے کی شکنیں گہری ہونے سے مراد سوچ و بچار میں مبتلا ہو جانا ہے۔یا کوئی بات پریشانی کے انداز میں سوچنے پر مجبور ہو جانا۔

کے۔ایل۔سہگل صاحب کو دیکھ کر آتر تھی صاحب نے کیا کہا؟

کے ۔ایل سہگل کو دیکھ کر آترتھی صاحب کہنے لگے کہ یہ اس لمبے سوکھے بدن کے ساتھ کیا خاک ایکٹنگ کریں گے۔ دیکھنے سے یوں معلوم ہونے جیسے بانس پر کپڑا لٹکا دیا ہو۔ نہ شکل نہ صحت۔

Advertisement

آترتھی کی باتوں کا سہگل پر کیا اثر ہوا؟

آترتھی کا ایک ایک لفظ ان کے دماغ پر ہتھوڑے بن کر برسا۔ جس سے سے سہگل کی حالت خراب ہوگئی تھی۔ پہلے وہ یہ سوچ کر خوش تھے کہ انہیں اپنی منزل مل گئی لیکن اب لگا کہ جسے وہ اپنی منزل سمجھ رہے تھے وہ محض ایک چھلاوہ تھا۔

” موسیقی تو ایک مسلسل سفر ہے بیٹے یہ آواز سہگل نے کب محسوس کی؟

جب سہگل کی خود اعتمادی ان کا ساتھ چھوڑ چکی تھی تب انہوں نے یہ آواز محسوس کی۔

Advertisement

سہگل میں خود اعتمادی کیسے لوٹی؟

جموں کے پیر بابا کی یہ آواز کہ موسیقی تو ایک مسلسل ہنر ہے بیٹے اور اس میں منزل نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی ۔ اگر کچھ ہوتا ہے تو بس ریاض اور ذکر جس کا کوئی خاتمہ نہیں۔ آخر دم تک اسے نبھانا پڑتا ہے۔ اگر تم یہ کر سکے تو تمہاری روح کو سکون ملے گا۔ سلمان پیر کی یہ بات یاد آتے ہی سہگل کو سچ مچ بہت سکون ملا اور ان کی خود اعتمادی جو ذرا دیر پہلے ان کا ساتھ چھوڑ چکی تھی پھر سے لوٹ آئی۔

آترتھی صاحب سہگل سے کیوں مطمئن ہو گئے؟

سہگل کی خود اعتمادی اور آرتھر صاحب کے دیے لئے ان کے اس جواب کو سن کر آتر تھی صاحب مطمئن ہو گئے۔

Advertisement

سہگل کے رونے کی کیا وجہ تھی؟

جب کیمرے کا سامنا ہوا تو سہگل گھبرا گئے اور ان سے بار بار غلطی ہو تی گئی۔ آٹھ نو بار ری ٹیک ہو چکا تھا اور آتر تھی صاحب بھی باربار کے ری ٹیک سے غصے میں اسٹوڈیو سے باہر نکل گئے۔ یہ دیکھ کر سہگل رونے لگے۔

آترتھی کن خوبیوں کے مالک تھے؟

آترتھی ایک منجھے ہوئے ہدایت کار اور فلم ساز کے ساتھ ساتھ ایک بہترین ماہر نفسیات بھی تھے۔

Advertisement

کے۔ایل۔سہگل کو کس وجہ سے شہرت حاصل ہوئی؟

کے ۔ایل سہگل کو ان کی آواز اور اداکاری کے دم پر زبردست شہرت ملی تھی۔

صحیح جملوں کے سامنے صحیح اور غلط کےسامنے غلط کا نشان لگائے۔

  • کے۔ایل۔سہگل کی پہلی فلم کا نام ماں کے آنسو تھا۔❎
  • ہیرو کے رول کے لیے مناسب کردار موجود تھا۔✅
  • کے۔ایل سہگل بہت اچھا گاتے تھے۔✅
  • کے ۔ایل۔سہگل ایک تندرست جسم کے مالک تھے۔❎
  • سلمان پیر کی بات سے سہگل کو سچ مچ بہت دکھ ہوا۔❎

نیچے لکھے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے۔

دقیانوسیدقیانوسی خیالات کے لوگوں سے بچنا چاہیے۔
انتخاباستاد نے بچوں کو کتاب سے بہترین غزلوں کا انتخاب کرنے کو کہا۔
مکالمہاستاد نے بچوں کے درمیان مہنگائی پر مکاملہ کروایا۔
پارسعلی کی خوش قسمتی ہے کہ وہ پتھر کو بھی چھو لے تو پارس بن جاتا ہے۔
توازنہمیں زندگی کے ہر معمالے میں توازن اور اعتدال کے رویے کو اپنانا چاہیے۔
حوصلہ افزائی جماعت میں بہترین کارکردگی دکھانے والے طالب علموں کی حوصلہ افزائی کی گئی
تناؤبھارت اور پاکستان کے آپسی تعلقات میں تناؤ کی کیفیت ہمیشہ برقرار رہتی ہے۔

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کے متضاد لکھیے۔

توازنعدم توازن
سکونبے سکونی
مطمئنبے چین
اعتمادبے اعتمادی
مناسبغیر مناسب
احساس کمتری احساس تخافر

عملی کام: کے۔ ایل۔ سہگل کی پرانی فلموں کے نام اپنے استاد کی مدد سے لکھیے ۔

شاہجہان ، زندہ لاش ، صبح کا تارہ،چندی داس، پورن بھگت وغیرہ۔

Advertisement
Advertisement