Advertisement
  • کتاب”جان پہچان”برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر22: مضمون
  • مصنف کا نام: ڈپٹی نذیر احمد
  • سبق کا نام : وقت

تعارف مصنف:-

ڈپٹی نذیر احمد اتر پردیش کے ضلع بجنور،تحصیل نگینہ کے ایک چھوٹے گاؤں ریہڑ میں پیدا ہوئے۔والد کا نام مولوی سعادت علی تھا۔نذیر احمد کی ابتدائی تعلیم بجنور، مظفر نگر اور دہلی میں ہوئی۔اعلی تعلیم دلی کالج جو اب ذاکر کالج کے نام سے مشہور ہے میں ہوئی۔

1854ء میں تعلیم سے فراغت پانے کے بعد انھوں نے پنجاب کے ایک مدرسے میں مدرسی کا پیشہ اختیار کیا۔انگریز حکومت نے انھیں ان کی خدمات کے اعتراف میں "شمس العلماء” کا خطاب دیا۔ 1902ء میں ایڈنبرا یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری تفویض کی۔

Advertisement

ڈپٹی نذیر احمد ترجمہ نگار، ادیب ،ناول نگار اور مقرر بھی تھے۔اردو ادب میں ان کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ وہ اردو کے پہلے ناول نگار ہیں۔ مراۃ العروس،توبتہ النصوح، ابن الوقت اور بنات النعش ان کے اہم ناول ہیں۔ان کے ناول حقیقت پسندی ، اخلاقی تربیت اور دلچسپ کرداروں سے بھرپور ہیں۔لہجہ پر جوش اور اثر انگیز ہے۔

خلاصہ سبق:-

ڈپٹی نذیر احمد نے اس سبق میں وقت کی قدر و قیمت اور اہمیت کا احساس دلایا ہے۔ اس حوالے سے وہ لکھتے ہیں کہ دنیا میں وقت ایک واحد ایسی شے ہے جس کی تلافی ممکن نہیں ہے۔کیوں کہ جو گھڑی گزر گئی وہ کسی طرح ہمارے قابو میں نہیں آسکتی۔ کیوں کہ وقت ہوا سے بڑھ کر اڑنے والا،بجلی سے سوا بھاگنے والا اور دبے پاؤں نکل جاتا ہے کہ انسان کو اس کی خبر تک نہیں ہوتی۔

Advertisement

ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اپنے چھوٹے موٹے معمولات میں ہی الجھے ہوتے ہیں کہ نجانے وقت کے کتنے قیمتی لمحے بیت جاتے ہیں۔ اسی طرح ہم روزانہ کی بنیاد پر چوبیس گھنٹے بسر کر دیتے ہیں اور دیکھتے دیکھتے یہ چو بیس گھنٹے کئی برسوں میں منتقل ہو جاتے ہیں۔

اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے قیمتی وقت کو ضائع نہ ہونے دیں کیونکہ وقت ضائع کرنے سے انسان سست ، غبی ، رسوا ، خوار اور محتاج ہونے کے ساتھ ساتھ بد اخلاقیوں میں بھی گرفتار ہو سکتا ہے اور یہی نہیں وقت کے ضیاع کے بعد اگر آدمی سر پر ہاتھ رکھ کر روئے بھی تو اس رونے کا فائدہ نہیں اور اگر پچھتائے تو پچھتاوے کا بھی فائدہ نہیں ہے۔

یہی وقت اگر انسان اچھے شغل، اچھے وقت اور اچھے کام میں لگا ئے تو وقت کا یہ صیح استعمال اس انسان کو عالم،فاضل،لائق ، ہنر مند ، نامور،محترم ،نیک اور ہر دل عزیز ہونے جیسی کئی خوبیوں اور اچھائیوں سے نوازتا ہے۔مصنف نوجوان کو نصیحت کرتے ہیں کہ یہ فراغت کا وقت جو اسے میسر ہے اسے یوں ہی ضائع نہ کرے بلکہ اس کو غنیمت جان کر اس کا صیح استعمال کیا جائے۔

Advertisement

اگر ابھی محض کھانے پینے اور پہننے اوڑھنے کی فکر کی تو آئندہ زندگی میں اس سب کی بجائے ہنر کام آئے گا جو پاس نہ ہونے کی صورت میں پچھتاوا ہو گا۔اس لیے لڑکپن اور جوانی بونے کا جب کہ پیری کاٹنے کا وقت ہے۔اب جیسا چاہو کرو کہ جوانی و پیری کو آبا د کرنا ہے تو لڑکپن کو قربان کرنا پڑے گا۔کبھی دل میں یہ خیال نہ آنے دو کہ ابھی کرنے اور سیکھنے کو بہت وقت پڑا ہے۔

اگلا حال کسی کو کچھ معلوم نہیں کون جانے کل یہ تندرستی رہے نہ رہے۔اس واسطے لازم ہے کہ ابھی اپنی طبیعت میں اعتدال لاؤ۔روزانہ اس بات کو سوچنا معمول بناؤ کہ تم نے آج کیا نیا سیکھا ہے۔اگر تمھاری حاکت میں کل کی نسبت کوئی ترقی نہ آئے تو تم خسارے میں ہو۔

Advertisement

سوچیے اور بتایئے:-

دنیا میں وقت کی تلافی کیوں ممکن نہی ہے؟

دنیا میں وقت کی تلافی ممکن نہیں کیوں کہ جو گھڑی گزر گئی وہ کسی طرح ہمارے قابو میں نہیں آسکتی۔ کیوں کہ وقت ہوا سے بڑھ کر اڑنے والا،بجلی سے سوا بھاگنے والا اور دبے پاؤں نکل جاتا ہے کہ انسان کو اس کی خبر تک نہیں ہوتی۔

وقت ضائع کرنے سے انسان کس قسم کے حالات سے دوچارہو سکتا ہے؟

وقت ضائع کرنے سے انسان سست ، غبی ، رسوا ، خوار اور محتاج ہونے کے ساتھ ساتھ بد اخلاقیوں میں بھی گرفتار ہو سکتا ہے اور یہی نہیں وقت کے ضیاع کے بعد اگر آدمی سر پر ہاتھ رکھ کر روئے بھی تو اس رونے کا فائدہ نہیں اور اگر پچھتائے تو پچھتاوے کا بھی فائدہ نہیں ہے۔

Advertisement

وقت کے صیح استعمال سے انسان میں کیا خوبیاں پیدا ہوتی ہیں؟

وقت کا صیح استعمال انسان کو عالم،فاضل،لائق ، ہنر مند ، نامور،محترم ،نیک اور ہر دل عزیز ہونے جیسی کئی خوبیوں اور اچھائیوں سے نوازتا ہے۔

خالی جگہوں کو بھریے:

صبح ہوتی ہے شام ہوتی ہے
عمر یوں ہی تمام ہوتی ہے

Advertisement

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کے متضاد لکھیے:

پیریجوانی
جاہلعقل مند
لائقنا لائق
سستچست
بھلائیبد خواہی
خسارہفائدہ

عملی کام:-

اس سبق کو پڑھنے کے بعد آپ صبح سے شام تک اپنا وقت کیسے گزاریں گے؟ لکھیے۔

اس سبق کو پڑھنے کے بعد میں نے طے کیا ہے کہ میں اپنے وقت کو ضائع کیے بنا اس کو مؤثر بنانا پسند کروں گا۔اپنے وقت کا زیادہ تر حصہ پڑھائی اور دیگر تعمیری سرگرمیوں میں صرف کروں گا تاکہ زندگی میں کامیاب ہو سکوں اور کل کو گزرے وقت پر پچھتانا نہ پڑے۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement