Advertisement
  • کتاب”جان پہچان”برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر06: مضمون
  • سبق کا نام: چڑیا گھر کی سیر

خلاصہ سبق:

سکول کی چھٹی کے روز حامد اور اس کی بہن اپنے دادا کے ساتھ چڑیا گھر کی سیر کے لیے گئے۔ وہاں انھوں نے مختلف طرح کے جانور نہ صرف دیکھے بلکہ دادا ابا کے ذریعے بہت سی معلومات بھی حاصل کیں۔

Advertisement

حامد نے جب یہ پوچھا کہ یہ سب جانور کہاں سے لائے جاتے ہیں تو اس کے دادا ابا نے بتا یا کہ ان میں سے بہت سے جانور ٹھنڈے ممالک کے ہیں جو یہاں نہیں پائے جاتے۔ اس لیے ان کو وہاں سے لا کر یہاں رکھا جاتا ہے۔انھوں نے پانڈا کو دیکھا ان کو دادا ابا نے بتایا کہ یہ ٹھنڈے علاقے کا جانور ہےاور اس کے جسم کے گھنے بال اس کو سردی سے محفوظ رکھتے ہیں۔

Advertisement

یہاں پر پانڈا کو گرمی سے بچانے کے لیے اس کے پنجرے کو ٹھنڈا رکھنے کا مناسب انتظام موجود ہے۔ پانڈا پھل ،گھانس اور ہر ی پتیاں وغیرہ بہت شوق سے کھاتا ہے۔اسی طرح آگے چل کر انھوں نے بلی سے مشابہت رکھتا جانور یعنی کنگارو دیکھا۔ یہ جانور بھی اگرچہ غیر ملکی تھا مگر اس کو ٹھنڈ درکار نہیں ہوتی۔

کنگارو کے پیٹ پر بڑی تھیلی بنی ہوتی ہے جو اس کو بچے رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس تھیلی میں وہ بچوں کو بیٹھا کر خوب تیز بھاگ سکتا ہے۔ کنگارو بھی پھل، سبزیوں اور نرم گھاس کے ساتھ گہیوں کو بہت پسند کرتا ہے۔انھوں نے سفید شیر بھی دیکھا جو کہ مدھیا پردیش کے علاقے میں پایا جاتا ہے۔

Advertisement

گرمی کی صورت میں اس کے پنجرے میں اس کے لیے تالاب کا انتظام موجود تھا جبکہ یہ پیٹ بھر کھانے کے بعد درخت تلے جا کر سو جاتا ہے۔ بچوں نے بندر سے ملتا جلتا جانور چمپنزی بھی دیکھا۔ یہ بھی ٹھنڈے علاقے میں پایا جانے والا جانور ہے اور گوشت کی بجائے سبزیاں اور دیگر اشیاء کھاتا ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے چڑیا گھر میں بندر ، بارہ سنگھا ، چیتل ، ریچھ اور زراف، ہرن ، ہاتھی ،چڑیاں طوطے وغیرہ کو دیکھا۔ بچوں نے دادا ابا سے پوچھا کہ اگر یہ جانور بیمار پڑ جائیں تو ان کی حفاظت کس طرح سے کی جاتی ہے۔

Advertisement

اس پر دادا ابا نے ان کو بتایا کہ ان کے پنجروں کو روزانہ کی بنیاد پر صاف کیا جاتا ہے۔ان کو سردی گرمی سے بچانے کا مناسب انتظام موجود ہے۔مناسب غذا اور دوا کی فراہمی کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ کوئی جانور بیمار نہ پڑے۔ اس کے باوجود اگر کوئی جانور بیمار پڑ جائے تو اسے جانوروں کے ہسپتا ل لے جایا جاتا ہے۔ یوں حامد اور اس کی بہن ایک پر لطف دن گزار کر گھر واپس لوٹے۔

سوچیے اور بتایئے:

پانڈے کو گھنے بالوں سے کیا فائدہ ہوتا ہے؟

پانڈے کے جسم کے گھنے بال اس کو سردی سے محفوظ رکھتے ہیں۔

Advertisement

کنگارو اپنے پیٹ پر بنی تھیلی سے کیا کام لیتا ہے؟

کنگارو کے پیٹ پر بنی بڑی تھیلی اس کو بچے رکھنے میں مدد دیتی ہے۔ اس تھیلی میں وہ بچوں کو بیٹھا کر خوب تیز بھاگ سکتا ہے۔

کنگارو کی غذا کیا ہے؟

کنگارو پھل ، پتیاں ، سبزیاں اور نرم نرم گھاس کھاتا ہے۔ اس کو گہیوں بہت پسند ہے۔

Advertisement

پیٹ بھرنے کے بعد شیر کیا کرتا ہے؟

پیٹ بھرنے کے بعد شیر کسی پیڑ کے نیچے آرام سے سو جاتا ہے۔

چمپینزی کو گرمی کیوں ستاتی ہے؟

چمپنزی ٹھنڈے ملک سے لایا گیا جا نور ہے جس کی وجہ سے اسے گرمی ستاتی ہے۔ اسی لیے اس کے پنجرے کو ٹھنڈا رکھا جاتا ہے۔

Advertisement

حامد اور اس کی بہن نے چڑیا گھر میں کون کون سے جانور دیکھے؟

حامد اور اس کی بہن نے چڑیا گھر میں شیر ، کنگارو ، سفید شیر، چمپنزی ، بندر ، بارہ سنگھا ، چیتل ، ریچھ اور زراف، چڑیاں ،طوطے وغیرہ کو دیکھا۔

جانوروں کو گرمی سے بچانے کے لیے کیا کیا جا تا ہے؟

جانوروں کو گرمی سے بچانے کے لیے ان کے پنچروں میں پانی کی فراہمی کی جاتی ہے اور ان کو ٹھنڈا کرنے کا مناسب انتظام کیا جاتا ہے۔

Advertisement

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کے متضاد لکھیے:-

سردیگرمی
پسندناپسند
سفیدسیاہ
خوشناخوش
مناسبنامناسب
بیمارتندرست

عملی کام:-

اس سبق سے پانچ مذکر اور مؤنث الفاظ چھانٹ کر لکھیے:-

مذکر الفاظ: ابا ،بندر ،شیر، ہاتھی ، ریچھ

مذکرمؤنث
ابااماں
بندربندریا
شیرشیرنی
ہاتھیہتھنی
ریچھریچھنی

مؤنث الفاظ: بلی، چڑیا، بہن، تھیلی،لمبی

Advertisement
مؤنثمذکر
بلیبلا
چڑیاچڑا
بہنبھائی
تھیلیتھیلا
لمبیلمبا

Advertisement

Advertisement