Advertisement

سوال ۳ : اس سبق کا خلاصہ لکھیں۔

تعارفِ سبق : سبق ”نصوح اور سلیم کی گفتگو“ کے مصنف کا نام ”ڈپٹی نذیر احمد“ ہے۔ آپ اردو ادب کے پہلے ناول نگار ہیں۔ یہ سبق اردو ادب کے ناول ”توبۃالنصوح“ سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

Advertisement

تعارفِ مصنف :

شمس العلماء، خان بہادر مولانا نذیر احمد ضلع بجنور ہندوستان میں ۱۸۳۱ء میں پیدا ہوئے۔ آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے گاؤں سے حاصل کی، پھر تعلیم کا شوق آپ کو دلی لے آیا۔ یہاں آپ مولوی عبدالخالق کے حلقہ درس میں داخل ہوئے۔ دلی کالج سے آپ نے ادب، عربی، فلسفہ اور ریاضی کی تعلیم حاصل کی اور آپ نے اپنی ذاتی محنت اور کوشش سے انگریزی کی تعلیم بھی حاصل کی۔ آپ نے ملازمت کا آغاز ضلع گجرات پنجاب سے مدرس کی حیثیت سے کیا۔ بعد میں ترقی کرکے انسپیکٹر مدارس ہوگئے، پھر تحصیلدار اور بعد ازاں افسر بندوبست ہوئے۔ اس کے بعد ریاست حیدرآباد چلے گئے۔ ریٹائر ہونے کے بعد آپ نے دلی میں آکر باقی زندگی تصنیف و تالیف میں بسر کی۔ نذیر احمد کو اردو کا پہلا ناول نگار کہا جاتا ہے۔ ڈپٹی نذیر احمد نے ساتھ ناول لکھے جن ”مراۃالعروس، بنات النعش، توبۃالنصوح، ابن الوقت“ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ آپ کا انتقال ۱۹۱۲ء میں ہوا۔

Advertisement

خلاصہ :

اس سبق میں مصنف باپ بیٹے سلیم اور نصوح کے درمیان ہونے والے گفتگو ہمیں بتا رہے ہیں۔ سبق کا آغاز کچھ یوں ہوتا ہے کہ بیدارا جاکر نصوح صاحب کو اٹھاتی ہے اور کہتی ہے کہ آپ کو آپ کے والد صاحب بلا رہے ہیں۔ وہ پریشان ہو جاتا ہے اور نیچے آکر اپنی والدہ سے دریافت کرتا ہے کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ والد صاحب مجھے کیوں بلا رہے ہیں۔ والدہ کہتے ہیں کہ مجھے نہیں معلوم تو وہ بیدارا سے پوچھتا ہے کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ والد صاحب مجھے کیوں بلا رہے ہیں۔

Advertisement

بیدارا کہتی ہے کہ مجھے بھی نہیں معلوم تو والدہ فرماتی ہیں کہ آپ جا کر اوپر دیکھ لیں گے آپ کو آپ کے والد صاحب کیوں بلا رہے ہیں۔ وہ اپنی ماں سے کہتا ہے کہ آپ بھی میرے ساتھ چلیں لیکن وہ کہتی ہیں کہ میری گود میں بچی سو رہی ہے۔ آپ ڈرو مت اور جا کر اپنے والد صاحب کی بات سنو۔ وہ اوپر جاتا ہے اور اپنے والد صاحب کے پاس جا کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ والد صاحب اسے اپنے پاس بٹھاتے ہیں اور دریافت کرتے ہیں کہ تم ابھی تک مدرسہ کیوں نہیں گئے۔ وہ بتاتا ہے کہ ابھی میں مدرسے کے وقت میں ایک گھنٹہ باقی ہے تو والد صاحب سے پوچھتے ہیں کہ کیا تم اکیلے مدرسے جاتے ہو یا اپنے بھائی کے ساتھ۔

وہ بتاتا ہے کہ میں اکیلا جاتا ہوں کیونکہ بھائی اپنے دوست کے گھر امتحان کی تیاری کرنے جاتے ہیں اور وہیں سے مدرسے جاتے ہیں۔ باتیں کرتے کرتے کھیلوں کا موضوع چھڑ گیا۔ ان کا بیٹا کہنے لگا کہ اب مجھے کوئی بھی کھیل پسند نہیں، یہ سن کر سلیم اس سے کھیل کے ناپسند ہونے کی وجہ دریافت کرتا ہے تو اس کا بیٹا بتاتا ہے کہ ہمارے محلے میں کئی برس سے چار لڑکے رہتے ہیں جو ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ وہ ہمیشہ سب کو سلام کرتے ہیں، بڑوں کا ادب کرتے ہیں، ہمیشہ گردن جھکا کر چلتے ہیں اور کبھی کسی کو تنگ نہیں کرتے۔ میری ان بھائیوں میں سے ایک سے دوستی ہے، اس لیے میں ان کے گھر گیا تو ان کی نانی مجھے بھی اپنے نواسوں کی طرح پیار کرنے لگی اور مجھے نصیحتیں کرتی رہی۔ ان نصیحتوں کا اثر ہے کہ اب مجھے کوئی کھیل پسند نہیں اور میں بھی ان بھائیوں کی طرح نیک اور شریف بننا چاہتا ہوں۔

Advertisement

سوال ۱ : مختصر جواب دیں۔

(الف) بیدار نے سلیم کو جگا کر کیا پیغام دیا؟

جواب : بیدار نے سلیم کو جگا کر یہ پیغام دیا کہ صاحب زادے اُٹھیے، بالا خانے میں میاں (یعنی سلیم کے ابا) بلاتے ہیں۔

(ب) سلیم کی ماں نے سلیم کے ساتھ نصوح کے پاس جانے سے کیوں انکار کیا؟

جواب : سلیم کی ماں نے سلیم کے ساتھ نصوح کے پاس جانے سے اس لیے انکار کیا کیونکہ اس کی گود میں بچی سو رہی تھی۔

Advertisement

(ج) سلیم اپنے بھائی کے ساتھ مدرسے کیوں نہیں جاتا تھا؟

جواب : سلیم اپنے بھائی کے ساتھ مدرسے اس لیے نہیں جاتا تھا کیونکہ وہ امتحانات کی تیار کے لیے دوستوں کے ہاں جاتا اور وہیں سے مدرسہ چلا جاتا تھا۔

(د) سلیم نے چار لڑکوں کی کیا خوبیاں بیان کیں؟

جوب : سلیم نے چار لڑکوں کی یہ خوبیاں بیان کی کہ وہ گردن نیچی کیے چلتے ہیں ، کوئی بڑا مل جائے تو اسے سلام کرتے ہیں۔ اوپر تلے کے چار بھائی ہیں، نہ کبھی آپس میں لڑتے جھگڑتے ہیں، نہ قسم کھاتے ہیں، نہ کسی پر آواز کستے ہیں اور نہ کسی کو چھڑتے ہیں۔

Advertisement

(ہ) حضرت بی کون تھیں اور انھوں نے سلیم کو کیا نصحیت کی؟

جواب : حضرت بی سیلم کے ہم جماعت کی نانی تھیں اور انھوں نے سلیم کو نصیحت کی کہ : ”بیٹا ! برا مت ماننا یہ بھلے مانسوں کا دستور ہے کہ اپنے سے بڑا جو ہوتا ہے اس کو سلام کر لیا کرتے ہیں۔“

سوال ۲ : مندرجہ ذیل محاورات کے معنی لکھیں اور انھیں جملوں میں استعمال کریں۔

جی لگنا : دل لگنامیرا اس اسکول میں جی لگ گیا ہے۔
کانوں کان خبر نہ ہونا : کسی کو علم نہ ہونارشیدہ کے بیٹے کی شادی کی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہوئی۔
آوازہ کسنا : تنگ کرنا وہ راہ چلتی لڑکی پر آوازہ کس رہا تھا۔
زمین میں گڑجانا : شرمندہ ہونا وہ امتحانات میں فیل ہونے کے بعد زمین میں گڑ رہی تھی۔
دل کھٹا ہونا :برا لگناعلی کے بدتمیزی کرنے کے بعد استاد کا اس سے دل کھٹا ہوگیا۔

سوال۴ : مندرجہ ذیل الفاظ کی جمع لکھیں۔

خبر اخبار
کتاب کتب
مدرسہ مدارس
امتحان امتحانات
مشکل مشکلات

سوال ۵ : مندرجہ ذیل الفاظ کا تلفظ اعراب کی مدد سے واضع کریں۔

صُورَت
تَعجُّب
مَسْجِد
عُمَر دَراز
بَسَر و چَشْم

سوال ٦ : مصنف کا نام سبق کے عنوان اور اقتباس کا نصابی سبق میں موقع و محل درج کرتے ہوئے مندرجہ ذیل اقتباس کی تشریح کریں۔

”کئی برس سے اس محلے۔۔۔۔۔۔۔۔۔جھوٹی شکایت بھی تو نہیں کی۔“

Advertisement

حوالہ : یہ اقتباس سبق نصوح اور سلیم کی گفتھو سے لیا گیا ہے۔ اس سبق کے مصنف کا نام ڈپٹی نذیر احمد ہے۔ یہ سبق ناول توبۃ النصوح سے ماخوذ کیا گیا ہے۔

تشریح : اس اقتباس میں ڈپٹی نذیر صاحب باپ بیٹے یعنی سلیم اور نصوح کے درمیان ہونے والی گفتگو سے ہمیں آشنا کر رہے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ سلیم صاحب نے اپنے بیٹے کو بلایا اور اس سے باتیں کرنے لگے، باتیں کرتے کرتے کھیلوں کا موضوع چھڑ گیا۔ ان کا بیٹا کہنے لگا کہ اب مجھے کوئی بھی کھیل پسند نہیں، یہ سن کر سلیم اس سے کھیل کے ناپسند ہونے کی وجہ دریافت کرتا ہے تو اس کا بیٹا بتاتا ہے کہ ہمارے محلے میں کئی برس سے چار لڑکے رہتے ہیں جو ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ وہ ہمیشہ سب کو سلام کرتے ہیں، بڑوں کا ادب کرتے ہیں، ہمیشہ گردن جھکا کر چلتے ہیں اور کبھی کسی کو تنگ نہیں کرتے۔ میری ان بھائیوں میں سے ایک سے دوستی ہے، اس لیے میں ان کے گھر گیا تو ان کی نانی مجھے بھی اپنے نواسوں کی طرح پیار کرنے لگی اور مجھے نصیحتیں کرتی رہی۔ ان نصیحتوں کا اثر ہے کہ اب مجھے کوئی کھیل پسند نہیں اور میں بھی ان بھائیوں کی طرح نیک اور شریف بننا چاہتا ہوں۔

Advertisement

سوال ۷ : متن کو مدنظر رکھتے ہوئے خالی جگہ پر کریں۔

  • (الف) سلیم کی عمر اس وقت کچھ کم ( دس برس ) کی تھی۔
  • (ب) میں اوپر ( لوٹا) لینے گئی تھی۔
  • (ج) صورت سے (غصے میں) تو نہیں معلوم ہوتا تھا۔
  • (د) سلیم ڈرتا ڈرتا (اوپر ) گیا اور (سلام ) کر کے آلگ جا کھڑا ہوا۔
  • (ہ) اگلے مہینے ( امتحان) ہونے والا ہے۔
  • (و) شاید مجھ کو عمر بھر بھی (شطرنج) کھیلنی نہ آئے گی۔
  • (ز) بڑے بھائی جان کے پاس ہر وقت (گنجفہ اور شطرنج) ہوا کرتا تھا۔

سوال ۸ : متن کو مد نظر رکھ کر درست جواب کی(درست) سے نشان دہی کریں۔

(الف) سلیم کو کس نے آکر جگایا؟

  • ٭نصوح نے
  • ٭بیدارا نے ( ✓ )
  • ٭ماں نے
  • ٭حضرت بی نے

(ب) میاں اکیلے بیٹھے ہوئے کیا کررہے تھے؟

Advertisement
  • ٭شطرنج کھیل رہے تھے
  • ٭کھانا کھا رہے تھے
  • ٭کتاب پڑھ رہے تھے ( ✓ )
  • ٭لکھ رہے تھے۔

(ج) ماں کی گود میں کون سویا ہوا تھا؟

  • ٭بلی
  • ٭سلیم
  • ٭لڑکی ( ✓ )
  • ٭بیدارا

(د) سلیم ڈرتا ڈرتا کہاں گیا؟

Advertisement
  • ٭مدرسے
  • ٭بازار
  • ٭مسجد
  • ٭اوپر ( ✓ )

(ہ) اکثر کون گھبرایا کرتا ہے؟

Advertisement
  • ٭مبتدی
  • ٭چور
  • ٭جھوٹا ( ✓ )
  • ٭نالائق

(و) کھیل کے پیچھے کون دیوانہ بنا رہتا تھا؟

  • ٭نصوح
  • ٭سلیم ( ✓ )
  • ٭بیدارا
  • ٭منجھلا لڑکا
Advertisement

Advertisement
Advertisement

Advertisement