• کتاب "سب رنگ” برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر07:نظم
  • شاعر کا نام: جوش ملیح آبادی
  • نظم کا نام: رب کی نعمتیں

تعارف شاعر:

جوش کا اصل نام شبیر حسن خاں اور تخلص جوش تھا۔ وہ ملیح آباد کے ایک زمین دار گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے دادافقیر محمد خاں گویا اور والد بشیر احمد خاں بشیر معروف شاعر تھے ۔ جوش کی تربیت علمی اور ادبی ماحول میں ہوئی۔

وہ کم عمری میں شعر کہنے لگے تھے۔ انھوں نے عزیز لکھنوی سے اصلاح لی۔ حیدر آباد میں ملازمت کی۔ کچھ دنوں تک وہاں رہنے کے بعد دہلی آۓ اور رسالہ کلیم جاری کیا۔ آل انڈیا ریڈیو سے بھی تعلق رہا۔ پھر سرکاری رسالہ ‘ آج کل کے مدیر ہے۔ جوش نے مختلف شعری اصناف میں طبع آزمائی کی لیکن وہ بنیادی طور پر ظلم کے شاعر تھے۔ انھوں نے مختلف موضوعات پر نظمیں کہی ہیں جن میں رومانی ، اخلاقی ، سیاسی اور انقلابی نظموں کی خاص اہمیت ہے۔ انھیں شاعر شباب ، شاعر فطرت اور شاعر انقلاب کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

جوش کونظم ونثر دونوں پر یکساں قدرت حاصل تھی۔ روح ادب ، نقش و نگار ، شعلہ شبنم وغیرہ ان کے اہم شعری مجموعے ہیں۔ یادوں کی برات اور اوراق سحران کی نثری تصانیف ہیں۔

نظم رب کی نعمتیں کی تشریح:

اپنے مرکز سے نہ چل منہ پھیر کر بہر ِ خدا
بھولتا ہے کوئی اپنی انتہا اور ابتدا
یاد ہے وہ دور بھی تجھ کو کہ جب تو خاک تھا
کس نے اپنی سانس سے تجھ کو منور کر دیا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

یہ اشعار جوش ملیح آبادی کی نظم ” رب کی نعمتیں” سے لیے گئے ہیں۔ ان اشعار میں شاعر نے خدا کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ خدا کے لیے تمھیں جو بنیادی نعمتیں عطا کی گئی ہیں ان سے مجھ پھیر کر مت چلو۔جیسے کوئی شخص اپنی ابتدا اور انتہا نہیں بھول سکتا ہے ویسے ہی کوئی خدا کی نعمتوں سے بھی انکاری نہیں ہے۔اگر تم اپنے وجود پر غور کرو تو اس وقت کو یاد کرو جب تم خاک تھے پھر تمھارے رب نے خاک سے انسان کو تخلیق کر کے اسے زندگی اور سانس عطا کی تو تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو اور کب تک جھٹلاؤ گے۔ اس نظم میں شاعر نے سورۃ الرحمن میں موجود اللہ کی ذات کی بڑائی اور نعمتوں کا بیان پیش کیا ہے۔

سبنر گہرے رنگ کی بیلیں چڑھی ہیں جابجا
نرم شاخیں جھومتی ہیں ، رقص کرتی ہے صبا
پھل وہ شاخوں میں لگے ہیں دل فریب و خوش نما
جن کا ہر ریشہ ہے قند و شہد میں ڈوبا ہوا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلاۓ گا

نظم کے اس بند میں شاعر جنت کا ذکر کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں نیکی اور بھلائی کے انعام کی صورت میں نیک لوگوں کے لیے جنت بطور انعام رکھی ہے۔اس جنت میں جابجا سبزے اور پھلوں کی بیلیں موجود ہیں۔ان بیلوں کی نرم و نازک اور ہری بھری شاخیں جھومتی دکھائی دیتی ہیں اور تروتاز ہوا ان میں رقصاں ہے۔ان شاخوں پر بہت اعلیٰ و دلفریب پھل موجود ہیں۔ان پھلوں کی تاثیر ایسی ہی کہ اس سے پہلے یہ کسی نے چکھے نہ ہوں گے۔ان کا ہر ہر ریشہ شہد کی مٹھاس لیے ہوئے ہے۔اللہ کی طرف سے اتنی ساری نعمتیں تمھارے لیے بطور انعام ہیں تو کیا اب بھی تم شکر ادا نہ کرو گے اور اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔

پھول میں خوشبو بھری، جنگل کی بوٹی میں دوا
بحر سے موتی نکالے صاف، روشن ، خوش نما
آگ سے شعلہ نکالا، ابر سے آب صفا
کس سے ہو سکتا ہے اس کی بخششوں کا حق ادا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلائے گا

مندرجہ بالا بند میں شاعر نے اللہ کی ان نعمتوں کا ذکر کیا جن سے ہر بشر فائدہ اٹھاتا ہے۔اللہ ہی کی ذات ہے کہ جس نے پھول تخلیق کرنے کے بعد ان میں خوشبو بھری جنگل کی بوٹیوں میں بیماریوں کے حل پوشیدہ رکھے۔ آگ سے شعلہ پیدا کیے اور آسمان سے بارش کی صورت میں پانی برسایا۔ ہم انسانوں سے آخر ان عنایتوں کا شکر کب ادا ہو سکتا ہے۔پھر بھی آخر کیوں اور کب تک ہم ناشکری کریں گے اور اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلائیں گے۔

صبح کے شفاف تاروں سے برستی ہے ضیا
چودھویں کے چاند سے بہتا ہے دریا نور کا
شام کو رنگ شفق کرتا ہے اک محشر بپا
جھوم کر برسات میں اٹھتی ہے متوالی گھٹا
کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلاۓ گا

اس بند میں شاعرکہتا ہے کہ اللہ کی ذات کی قدرت ہی ہے کہ صبح کے وقت آسمان سے تاروں کا نور پھوٹتا ہے اور چودھویں کے چاند کو نور سے نوازا اور اللہ ہی حکم سے بادل برستے ہیں اور آسمان پر شفق کے بکھرے رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں تو برسات کی بہاریں اور متوالی گھٹاؤں کے نظارے دکھائی دیتے ہیں۔اللہ کی قدرت انسان کو اتنے دلفریب نظاروں سے نوازتی ہے تو ہم اس پاک ذات کی کون کون سی نعمتوں کو اور کب تک جھٹلائیں گے۔

سوچیے اور بتایئے:

اپنے مرکز سے منہ پھیرنے کا کیا مطلب ہے؟

اپنے مرکز سے منھ پھیرنے سے مراد ہے اپنے اصل کو بھول جانا یعنی اللہ کی عطا کی گئی نعمتوں کی روگردانی کرتے ہوئے اس کا شکر ادا نہ کرنا۔

شاعر نے شاخوں اور پھلوں کے بارے میں کیا خیال ظاہر کیا ہے؟

شاعر شاخوں اور پھلوں کے بارے میں بتاتا ہے کہ جنت میں سبزے کی بیلیں ہیں جن کی نرم و نازک شاخیں انواع و اقسام کے پھلوں سے ڈھکی ہوئی ہیں۔ جن کا ذائقہ اور مٹھاس شہد سے بھی بڑھ کر ہے۔

تیسرے بند میں شاعر نے خدا کی کن نعمتوں کا ذکر کیا ہے؟

تیسرے بند میں شاعر نے اللہ کی ان نعمتوں کاذکرکیا جن سے ہر بشر فائدہ اٹھاتا ہے۔اللہ ہی کی ذات ہے کہ جس نے پھول تخلیق کرنے کے بعد ان میں خوشبو بھری جنگل کی بوٹیوں میں بیماریوں کے حل پوشیدہ رکھے۔ آگ سے شعلہ پیدا کیے اور آسمان سے بارش کی صورت میں پانی برسایا۔

آخری بند میں شاعر نے کن قدرتی مناظر کو بیان کیا ہے؟

آخری بند میں شاعر نے اللہ کی قدرت کو بیان کیا ہے کہ صبح کے وقت آسمان سے تاروں سے روشنی پھوٹتی ہے۔چاند کی چاندنی سے نور کا دریا بہتا ہے۔ شفق کا نظارہ اور برسات کی بہاریں موجود ہیں۔

کب تک آخر اپنے رب کی نعمتیں جھٹلاۓ گا‘‘ اس سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

اس سے شاعر کی مراد ہے کہ تم پر تمھارے رب کی اتنی ساری عنایتیں ہیں ان عنایتوں اور نعمتوں کا شکر تم پر واجب ہے آخر تم کب تک ان نعمتوں کو جھٹلاؤ گے۔