Advertisement

نظم : یوں تو ہر کلامِ موزوں کو نظم کہا جاسکتا ہے لیکن اصطلاح میں نظم سے مراد وہ وہ شعری اصناف ہیں جن میں کسی موضوع پر ربط و تسلسل کے ساتھ اظہارِ خیال کیا جائے۔

  • نظمِ جدید کو فنی ساخت کے اعتبار سے تین حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ نظموں کی کچھ اقسام ایسی ہیں جو نظم کے جدید یا مروضہ ضابطوں کی پابند نہیں ہیں۔
  • ۱) پابند نظم
  • ۲) نظم معرا
  • ۳) آزاد نظم

تعارفِ شاعر :

ولی محمد نام اور نظیر تخلص ہے۔ آپ دہلی میں پیدا ہوئے۔ شطرنج بازی اور پتنگ بازی کے علاوہ بھی آپ کے کئی مشاغل تھے۔ آپ نے مختلف چیزوں کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ زمانے نے آپ کو بازاری شاعر بھی کہا۔ آپکا بیان کرنے کا انداز بےساختگی اور دلچسپی لیے ہوئے ہے۔ آپ کی نظموں میں آدمی نامہ ، مفلسی، روٹی نامہ اور مکافات وغیرہ مشہور ہیں۔ آپ ایک مقبول عوامی شاعر تھے۔

Advertisement
جب آدمی کے حال پہ آتی ہے مفلسی
کس کس طرح سے اس کو ستاتی ہے مفلسی
پیاسا تمام روز بٹھاتی ہے مفلسی
بھوکا تمام رات سلاتی ہے مفلسی
یہ دکھ وہ جانے جس پہ کہ آتی ہے مفلسی

تشریح :

اس نظم میں شاعر نظیر اکبر آبادی صاحب ان لوگوں کی صورتحال سے عوام کو آگاہ کررہے ہیں جو مفلسی کا شکار ہوتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ جب ایک انسان کے حال اور اس کی زندگی میں مفلسی داخل ہوجاتی ہے تو وہ اسے طرح طرح سے ستانے لگتی ہے۔ مفلسی انسان کو پیاسا بھی رکھتی ہے اور رات کو بھوکا بھی رکھتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ مفلسی کا دکھ وہی انسان سمجھتا ہے جس پر مفلسی آتی ہے۔

Advertisement
مفلس کی کچھ نظر نہیں رہتی ہے آن پر
دیتا ہے اپنی جان  وہ ایک ایک نان پر
ہر آن ٹوٹ پڑتا ہے روٹی کے خوان پر
جس طرح کتے ٹوٹتے ہیں استخوان پر
ویسا ہی مفلسوں کو لڑاتی ہے مفلسی

تشریح :

اس نظم میں شاعر نظیر اکبر آبادی صاحب ان لوگوں کی صورتحال سے عوام کو آگاہ کررہے ہیں جو مفلسی کا شکار ہوتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ جو شخص مفلسی کا شکار ہوجاتا ہے پھر مفلسی اس شخص کی عزت کی پرواہ نہیں کرتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ مفلس شخص کو جہاں سے روٹی ملتی ہے وہ وہاں اپنی جان دینے کو بھی تیار ہوجاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہر مفلس شخص کی عزت روٹی کو دیکھ کر ختم ہونے لگتی ہے اور جس طرح کتے کسی شے پر ٹوٹ پڑتے ہیں مفلسی بھی مفلس لوگوں کو اسی طرح آپس میں لڑواتی ہے۔

Advertisement
کیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیل
کوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیل
کپڑے پھٹے تمام بڑے بال پھیل پھیل
منہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میل
سب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسی

تشریح :

اس نظم میں شاعر نظیر اکبر آبادی صاحب ان لوگوں کی صورتحال سے عوام کو آگاہ کررہے ہیں جو مفلسی کا شکار ہوتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ کوئی آدمی کتنا ہی نیک و عزت دار کیوں نہ ہو مفلسی کی وجہ سے اور بھوک کی وجہ سے اس کی عزت خاک برابر ہوجاتی ہے اور لوگ اسے اپنی مرضی کے ناموں سے پکارنے لگتے ہیں اور اپنی مرضی کے پیسوں پر اس سے محنت طلب کام کروانے لگتے ہیں۔ پھر ایسے شخص کے کپڑے بھی پھٹے ہوتے ہیں اور بال بھی لمبے لمبے ہوتے ہیں۔ اس کا منہ خشک ہوتا ہے، دانت زرد رنگ کے ہوتے ہیں اور اس کے بدن پر میل ہوتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ مفلسی آدمی کی شکل کو بالکل ایک قیدی کی شکل جیسا بنادیتی ہے۔

دنیا میں لے کے شاہ سے اے یارو تا فقیر
خالق نہ مفلسی میں کسی کو کرے اسیر
اشرف کو بناتی ہے اک آن میں فقیر
کیا کیا میں مفلسی کو خرابی کہوں نظیر
وہ جانے جس کے دل کو جلاتی ہے مفلسی

تشریح :

اس نظم میں شاعر نظیر اکبر آبادی صاحب ان لوگوں کی صورتحال سے عوام کو آگاہ کررہے ہیں جو مفلسی کا شکار ہوتے ہیں۔ اس شعر میں شاعر کہتے ہیں کہ اس دنیا میں شاہ سے لے کر فقیر تک جتنے لوگ موجود ہیں خدا ان میں سے کس کو بھی کبھی مفلس نہ بنائے۔ کسی کو مفلسی کا قیدی نہ بننے دے۔ شاعر کہتے ہیں کہ مفلسی اشرفا کو بھی فقیر بنا دیتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مفلسی کی بہت سی خرابیاں ہیں میں تمھیں کون کون سی خرابیاں بتاؤں۔ اس کی اصل قیامت تو وہی جانتا ہے جو مفلسی کا شکار ہوجاتا ہے اور جس کے دل کو مفلسی جلاتی ہے۔

Advertisement

مشق :

۱ : مفلسی آدمی کو کس کس طرح سے ستاتی ہے؟

جواب : مفلسی انسان کو سارا دن پیاسا رکھتی ہے اور رات میں اسے بھوکا سلاتی ہے۔

۲ : مفلس کو ہر وقت کس چیز کی فکر رہتی ہے؟

جواب : مفلس کو ہر وقت روٹی کی فکر لگی رہتی ہے۔

Advertisement

۳ : اس بند کی تشریح کیجیے :

کیسا ہی آدمی ہو پر افلاس کے طفیل
کوئی گدھا کہے اسے ٹھہرا دے کوئی بیل
کپڑے پھٹے تمام بڑے بال پھیل پھیل
منہ خشک دانت زرد بدن پر جما ہے میل
سب شکل قیدیوں کی بناتی ہے مفلسی

تشریح :

اس نظم میں شاعر نظیر اکبر آبادی صاحب ان لوگوں کی صورتحال سے عوام کو آگاہ کررہے ہیں جو مفلسی کا شکار ہوتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ کوئی آدمی کتنا ہی نیک و عزت دار کیوں نہ ہو مفلسی کی وجہ سے اور بھوک کی وجہ سے اس کی عزت خاک برابر ہوجاتی ہے اور لوگ اسے اپنی مرضی کے ناموں سے پکارنے لگتے ہیں اور اپنی مرضی کے پیسوں پر اس سے محنت طلب کام کروانے لگتے ہیں۔ پھر ایسے شخص کے کپڑے بھی پھٹے ہوتے ہیں اور بال بھی لمبے لمبے ہوتے ہیں۔ اس کا منہ خشک ہوتا ہے، دانت زرد رنگ کے ہوتے ہیں اور اس کے بدن پر میل ہوتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ مفلسی آدمی کی شکل کو بالکل ایک قیدی کی شکل جیسا بنادیتی ہے۔

۴ : محاورے کو جملوں میں استعمال کیجیے :

۱) دل جلانا : علی کی حرکتیں اس کے والدین کا دل جلاتی ہیں۔
۲) چھاتی پر مونگ دلنا : وہ اپنے والدین کی چھاتی پر مونگ دلتا ہے۔
۳) جان پر کھیلنا :اس نے اپنی جان پر کھیل کر ایک بچے کی جان بچائی۔
۴) نظر لگنا :وہ اتنی پیاری لگ رہی تھی کہ اس کی والدہ کو خدشہ تھا کہیں اسے نظر نہ لگ جائے۔

۵ : اس نظم (مفلسی) کا خلاصہ اپنے الفاظ میں کیجیے :

تعارفِ شاعر :

ولی محمد نام اور نظیر تخلص ہے۔ آپ دہلی میں پیدا ہوئے۔ شطرنج بازی اور پتنگ بازی کے علاوہ بھی آپ کے کئی مشاغل تھے۔ آپ نے مختلف چیزوں کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا۔ زمانے نے آپ کو بازاری شاعر بھی کہا۔ آپکا بیان کرنے کا انداز بےساختگی اور دلچسپی لیے ہوئے ہے۔ آپ کی نظموں میں آدمی نامہ ، مفلسی، روٹی نامہ اور مکافات وغیرہ مشہور ہیں۔ آپ ایک مقبول عوامی شاعر تھے۔

Advertisement

خلاصہ :

اس نظم میں شاعر نظیر اکبر آبادی صاحب ان لوگوں کی صورتحال سے عوام کو آگاہ کررہے ہیں جو مفلسی کا شکار ہوتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ جب ایک انسان کے حال اور اس کی زندگی میں مفلسی داخل ہوجاتی ہے تو وہ اسے طرح طرح سے ستانے لگتی ہے۔ مفلسی انسان کو پیاسا بھی رکھتی ہے اور رات کو بھوکا بھی رکھتی ہے۔

شاعر کہتے ہیں کہ جو شخص مفلسی کا شکار ہوجاتا ہے پھر مفلسی اس شخص کی عزت کی پرواہ نہیں کرتی ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ مفلس شخص کو جہاں سے روٹی ملتی ہے وہ وہاں اپنی جان دینے کو بھی تیار ہوجاتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ کوئی آدمی کتنا ہی نیک و عزت دار کیوں نہ ہو مفلسی کی وجہ سے اور بھوک کی وجہ سے اس کی عزت خاک برابر ہوجاتی ہے اور لوگ اسے اپنی مرضی کے ناموں سے پکارنے لگتے ہیں اور اپنی مرضی کے پیسوں پر اس سے محنت طلب کام کروانے لگتے ہیں۔

Advertisement

پھر ایسے شخص کے کپڑے بھی پھٹے ہوتے ہیں اور بال بھی لمبے لمبے ہوتے ہیں۔ شاعر کہتے ہیں کہ کوئی آدمی کتنا ہی نیک و عزت دار کیوں نہ ہو مفلسی کی وجہ سے اور بھوک کی وجہ سے اس کی عزت خاک برابر ہوجاتی ہے اور لوگ اسے اپنی مرضی کے ناموں سے پکارنے لگتے ہیں اور اپنی مرضی کے پیسوں پر اس سے محنت طلب کام کروانے لگتے ہیں۔ پھر ایسے شخص کے کپڑے بھی پھٹے ہوتے ہیں اور بال بھی لمبے لمبے ہوتے ہیں۔ اس کا منہ خشک ہوتا ہے، دانت زرد رنگ کے ہوتے ہیں اور اس کے بدن پر میل ہوتا ہے۔ شاعر کہتے ہیں کہ مفلسی آدمی کی شکل کو بالکل ایک قیدی کی شکل جیسا بنادیتی ہے۔

Advertisement

Advertisement