سبق کا مختصر خلاصہ

کسی گاؤں میں ایک بوڑھا رہتا تھا وہ بہت نیک اور محنتی تھا۔وہ روزانہ جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور ان سے طرح طرح کی چیزیں بنا کر انہیں بازار میں بیچ آتا۔ اس کی خوبی تھی کہ وہ کبھی ہرے بھرے پیڑ نہیں کاٹتا تھا۔ اس طرح کام کرتے ہوئے اسے کئی سال گزر گئے اور آس پاس کے جنگلوں کے سارے سوکھے پیڑ ختم ہوگئے۔

ایک دن اسے کوئی سوکھا پیڑ نہیں ملا تو اس نے ہرے بھرے ایک پیڑ کو کاٹنے کی ٹھانی۔لیکن اس کے دل نے یہ گوارا نہ کیا۔چنانچہ وہ پورب کی طرف نکل گیا۔ وہاں بہت سے سوکھے پیڑ تھے لیکن ساتھ ہی وہ جنگل بہت خطرناک تھا پھر بھی وہ وہاں گیا اور وہاں سے کچھ لکڑیاں کاٹ کر لایا اور گھر آ کر اس نے ایک خوبصورت سا پلنگ بنایا اور اس کے چاروں پایوں کو بونوں کی شکل میں تراش دیا۔ جب پلنگ بن کر تیار ہوا تو لوگ اسے دیکھ کر تعجب کرنے لگے اور اس کی شہرت چاروں طرف پھیل گئی۔اور جب یہ بات راجا کو معلوم ہوئی تو اس نے اس پلنگ کو خرید لیا۔

راجا جب اس پلنگ پر سویا تو اسے بہت اچھی نیند آئی لیکن آدھی رات گزرنے کے بعد اس نے دیکھا کہ پلنگ کا ایک پایا دوسرے پائے سے کچھ کہہ رہا تھا کہ دوستو راجا سو رہا ہے چلو تب تک ہم راج محل کی سیر کر آئیں۔ لیکن ان میں سے دوسرے نے کہا اس طرح راجا اپنی نیند سے بیدار ہو جائے گا۔ چنانچہ ان میں سے ایک ایک کرکے چاروں پائے سیر کے لیے گئے اور انہوں نے عجیب و غریب ماحول دیکھا۔

ان میں سے ایک نے دیکھا کہ راجا کا باورچی دال چاول چرا رہا ہے۔ دوسرے نے خزانچی کو اشرفیوں کے توڑے چھپا کر لے جاتے ہوئے دیکھا۔ تیسرے نے راجا کے قتل کی سازش سنی۔ پھر انہوں نے کہا کہ جو راجا غفلت کی نیند سوتا ہے اس کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے اور اگر اب بھی راجا اپنی غفلت کی نیند سے بیدار ہوکر اپنی ذمہ داری کو سنبھال لے اور سازش کرنے والوں کو سزا دے تو بہت کچھ ہو سکتا ہے اچانک راجا اٹھا اور اس نے اپنی تلوار کھینچ لی۔

سوچے اور بتائیے:

سوال: بوڑھے میں کون سی اچھی عادتیں تھیں؟

جواب: بوڑھے میں اچھی عادتیں یہ تھیں کہ وہ کبھی ہرے بھرے پیڑ کو نہیں کاٹتا تھا۔ جو سوکھے ٹوٹے یا آندھی میں گرے پڑے پیڑ ملتے تھے ان سے ہی اپنا کام چلاتا تھا۔

سواج: بوڑھے کا روزانہ کیا معمول تھا؟

جواب: بوڑھے کا روزانہ کا معمول تھا کہ وہ جنگل جا کر لکڑیاں لاتا تھا اور ان سے گھروں میں کام آنے والی مختلف چیزیں بناتا اور انہیں بازار میں بیچ کر اپنے گھر کا خرچ چلاتا تھا۔

سوال: بوڑھا پورب کی طرف کے جنگل میں کیوں گیا؟

جواب: بوڑھا پورب کی طرف کے جنگل میں اس لیے گیا کیونکہ وہ ہرے بھرے پیڑ نہیں کانٹنا چاہتا تھا۔اور پورب کی طرف سوکھے اور گرے پڑے پیڑ بہت تھے چنانچہ وہ یہی سوچ پورب کی طرف نکل پڑا۔

سوال: راجا نے پلنگ کیوں خرید لیا؟

جواب: جب بوڑھے نے پلنگ بنایا تو لوگ اسے دیکھ کر تعجب کرنے لگے وہ بہت خوبصورت تھا ایسا لگتا تھا کہ چاروں بونے اسے اپنے سر پر اٹھائے کھڑے ہیں۔ پلنگ کی شہرت سن کر راجا نے اسے خرید لیا۔

سوال: اس کہانی کے مطابق راجا کو کیسا ہونا چاہیے تھا؟

جواب: اس کہانی کے مطابق راجا کو ذمہ داری کے ساتھ راج پاٹ سنبھالنے والا اور سازش کرنے والوں کو سزا دینے والا ہونا چاہیے تھا۔

نیچے لکھے ہوئے الفاظ کی مدد سے خالی جگہوں کو بھریے۔
﴿ہرے بھرے۔ محنتی۔ سپہ سالار۔ رفتہ رفتہ۔لکڑی۔ وزیر۔۔نیک۔ ٹوٹے﴾

  • کسی گاؤں میں ایک بوڑھا رہتا تھا وہ بہت ’نیک‘ اور ’محنتی‘ تھا۔
  • وہ کبھی ’ہرے بھرے‘ پیڑ نہیں کاٹتا تھا۔
  • آس پاس کے جنگلوں کے سارے سوکھے ’ٹوٹے‘ پیڑ ’رفتہ رفتہ‘ ختم ہو گئے۔
  • گھر آ کر اس نے ’لکڑی‘ سے ایک خوبصورت پلنگ بنانا شروع کیا۔
  • تیسرے پائے نے کہا میں جو باہر گیا تو دیکھا کہ وزیر اور ’سپہ سالار‘ دیوار کے پاس کھڑے دھیرے دھیرے باتیں کر رہے ہیں۔

کالم (الف) اور (ب) میں دیے گئے لفظوں کے صحیح جوڑ ملائیے۔

الفب
خطرناک
صحتمند
پرلطف
ذمہدار
تجربہکار

نیچے لکھے ہوئے الفاظ کی جمع بنائے۔

الفاظجمع
سوالسوالات
خیالخیالات
جذبہجذبات
اختیاراختیارات
احساساحساسات


نیچے دیئے ہوئے محاوروں کو جملوں میں استعمال کیجئے۔

عش عش کرناحامد کی نئی موٹرسائیکل دیکھ کر سب عش عش کرنے لگے۔
دل میں آنا حامد کو بازار جانے کا خیال دل میں آیا۔۔
ٹھان لینااس بار خالد نے پانچویں جماعت میں اول آنے کی ٹھان لی۔