Advertisement

میرا جی جدید نظم کے شاعر کہلاتے ہیں۔ ان کی نظم “کلرک کا نغمہ محبت” آزاد نظم کی ہیت میں لکھی گئی نظم ہے۔ یہ نظم چار بندوں پر مشتمل ہے۔ جو ایک کلرک کی زبانی کسی بھی انسان کی زندگی کی محرمیوں کی داستان سناتی ہوئی نظم ہے۔

Advertisement
سب رات مری سپنوں میں گزر جاتی ہے اور میں سوتا ہوں
پھر صبح کی دیوی آتی ہے
اپنے بستر سے اٹھتا ہوں منہ دھوتا ہوں
لایا تھا کل جو ڈبل روٹی
اس میں سے آدھی کھائی تھی
باقی جو بچی وہ میرا آج کا ناشتہ ہے

اس بند میں شاعر کلرک کی زبانی کہتا ہے کہ میری ساری رات خواب دیکھنے میں گزر جاتی ہے۔ اگرچہ میں سو رہا ہوتا ہوں لیکن میری آنکھیں اور دماغ سپنے بننے میں مصروف ہوتا ہے۔پھر مجھے جگانے صبح کی دیوی آ پہنچتی ہے۔میں اپنے بستر سے اٹھتا اور منھ دھوتا ہوں۔ اس کے بعد ناشتے کی باری آتی ہے تو کل کی لائی ڈبل روٹی کھانے کا خیال آتا ہے۔ جس میں سے آدھی گزشتہ کل کھا چکا تھا جبکہ باقی بچی آج کا ناشتہ ہے۔اس بند کے ذریعے شاعر نے ایک عام اور اکیلے انسان کی زندگی کا عکس پیش کیا ہے۔

دنیا کے رنگ انوکھے ہیں
جو میرے سامنے رہتا ہے اس کے گھر میں گھر والی ہے
اور دائیں پہلو میں اک منزل کا ہے مکاں وہ خالی ہے
اور بائیں جانب اک عیاش ہے جس کے ہاں اک داشتہ ہے
اور ان سب میں اک میں بھی ہوں لیکن بس تو ہی نہیں
ہیں اور تو سب آرام مجھے اک گیسوؤں کی خوشبو ہی نہیں
فارغ ہوتا ہوں ناشتے سے اور اپنے گھر سے نکلتا ہوں
دفتر کی راہ پر چلتا ہوں
رستے میں شہر کی رونق ہے اک تانگہ ہے دو کاریں ہیں
بچے مکتب کو جاتے ہیں اور تانگوں کی کیا بات کہوں
کاریں تو چھچھلتی بجلی ہیں تانگوں کے تیروں کو کیسے سہوں
یہ مانا ان میں شریفوں کے گھر کی دھن دولت ہے مایا ہے
کچھ شوخ بھی ہیں معصوم بھی ہیں
لیکن رستے پر پیدل مجھ سے بد قسمت مغموم بھی ہیں
تانگوں پر برق تبسم ہے
باتوں کا میٹھا ترنم ہے
اکساتا ہے دھیان یہ رہ رہ کر قدرت کے دل میں ترحم ہے
ہر چیز تو ہے موجود یہاں اک تو ہی نہیں اک تو ہی نہیں
اور میری آنکھوں میں رونے کی ہمت ہی نہیں آنسو ہی نہیں

اس بند میں شاعر کلرک کی زندگی کی محرومیوں کی تصویر پیش کرتا ہے۔اس کا کہنا ہے کہ وہ اکیلا رہتا ہے جبکہ اس کے سامنے رہنے والے شخص کے ساتھ اس کی بیوی بھی موجود ہے۔اس کے دائیں جانب کا مکان خالی جبکہ بائیں جانب کے مکان میں ایک عیاش شخص اپنی داشتہ کے ساتھ مقیم ہے۔(ان سطور کے ذریعے شاعر نے جنسی کجروی کے جذبات کو پیش کیا ہے) اس کلرک کا کہنا ہے ان سب کے درمیان میں ،میں تو موجود ہوں لیکن کسی کے ساتھ کی کمی بھی ہے۔مجھے سب آرام میسر ہیں لیکن کسی کے بالوں کی خوشبو مجھے میسر نہیں ہے۔ وہ اپنے ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد تیار ہو کر دفتر کی جانب نکلتا ہے تو راستے میں اسے شہر کی رونقیں ڈکھائی دیتی ہیں۔ ایک تانگہ اور دو کاریں جا رہی ہوتی ہیں۔ بچے اپنے مدرسوں کی جانب جا رہے ہوتے ہیں۔

شاعرکا کہنا ہے کہ تانگوں کا کیا ذکر چھیڑوں کہ کاریں تو بجلی کی سی تیزی سے گزر جاتی ہیں لیکن ان تانگوں کے تیر سہنا مشکل محسوس ہوتا ہے۔کہ اگرچہ ان تانگوں پہ شریف گھروں کی لڑکیاں سوار ہو کر جا رہی ہوتی ہیں لیکن کچھ راستے پہ میرے جیسے افسردہ لوگ بھی جا رہے ہوتے ہیں۔لیکن تانگوں سے ان کی ہنسی کی آواز اور باتوں کا میٹھا ترنم(لہجہ) مجھے اس جانب متوجہ کرتا ہے۔مجھے اس وقت رہ رہ کر یہ خیال آتا ہے کہ نجانے قدرت کو مجھ پہ رحم کیوں نہیں آتا ہے کہ میرے پاس سب کچھ موجود ہے لیکن ایک اس کی (ہمسفر) کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ میری حالت ایسی ہے کہ نہ تو میری آنکھوں میں رونے کی سکت باقی ہے اور نہ ہی آنسو موجود ہیں۔

جوں توں رستہ کٹ جاتا ہے اور بندی خانہ آتا ہے
چل کام میں اپنے دل کو لگا یوں کوئی مجھے سمجھاتا ہے
میں دھیرے دھیرے دفتر میں اپنے دل کو لے جاتا ہوں
نادان ہے دل مورکھ بچہ اک اور طرح دے جاتا ہوں
پھر کام کا دریا بہتا ہے اور ہوش مجھے کب رہتا ہے

اس بند میں شاعر کہتا ہے کہ جیسے تیسے میرا راستہ کٹ جاتا ہے اور قید خانہ ( کلرک کا دفتر) آتا ہے۔ ایسے میں میرے اندر سے کوئی آواز آتی ہے اور مجھے یہ سمجھاتی ہوئی محسوس ہوتی ہے کہ چلو اپنے کام میں دل لگاؤ۔ جس کے بعد آہستہ آہستہ میں اپنے دل کو دفتر کے کام میں لگانے کی کوشش کرتا ہوں۔ دل تو ایک نادان اور نا سمجھ بیوقوف بچے کی مانند ہے جسے میں ایک اور بہانہ بنا دیتا ہوں۔اس کے بعد کام کا ایک دریا بہنے لگتا ہے کہ مجھے کوئی ہوش نہیں رہتا ہے۔

Advertisement
جب آدھا دن ڈھل جاتا ہے تو گھر سے افسر آتا ہے
اور اپنے کمرے میں مجھ کو چپراسی سے بلواتا ہے
یوں کہتا ہے ووں کہتا ہے لیکن بے کار ہی رہتا ہے
میں اس کی ایسی باتوں سے تھک جاتا ہوں تھک جاتا ہوں
پل بھر کے لیے اپنے کمرے کو فائل لینے آتا ہوں
اور دل میں آگ سلگتی ہے میں بھی جو کوئی افسر ہوتا
اس شہر کی دھول اور گلیوں سے کچھ دور مرا پھر گھر ہوتا
اور تو ہوتی
لیکن میں تو اک منشی ہوں تو اونچے گھر کی رانی ہے
یہ میری پریم کہانی ہے اور دھرتی سے بھی پرانی ہے

اس بند میں شاعر نے معاشرے کے ایک اور رخ یعنی افسری کی تصویر کو پیش کیا ہے کہ جب آدھا دن بیت جاتا ہے تو گھر سے کوئی افسر دفتر پہنچتا اور چپراسی کے ذریعے مجھے دفتر میں بلاوا بھیجتا ہے۔ وہ افسر مجھے بہت کچھ کہتا ہے لیکن جو کچھ بھی کہتا ہے بے کار کہتا ہے۔اس کی باتیں سننے کے بعد جب میں تھک کر اپنے کمرے میں کوئی فائل لینے آتا ہوں تو دل میں یہ خیال ابھرتا ہے کہ اے کاش میں کوئی افسر ہوتا تو اس شہر کی دھول بھری گلیوں سے دور کہیں پہ میرا گھر ہوتا۔وہاں میرے ساتھ تو(شاعر کی ہمسفر/ محبوبہ) ہوتی۔ لیکن اے میری محبوبہ میں ایک منشی (کلرک) ہوں اور تم ایک اونچے گھر کی رانی ہو۔میری یہ داستان محبت ایک ایسی محبت کی داستان ہے جو کئی سال دوہرائی جانے والی کہانی ہے۔ ( شاعر نے یہاں پہ معاشرتی تضاد اور طبقاتی فرق کی نشاندھی کی ہے)