Advertisement

دبستان سے کیا مراد ہے؟

دبستان کسی ایک مخصوص زوایے یا مکتبہ فکر کا نام ہے۔کوئی دبستان ،مکتبہ فکر یا اسکول ایک مخصوص طرح کے حالات ، اصولوں اور قواعد و ضوابط کی پیروی کرتا ہے۔ ایک جیسی رائے ،فکر اور سیاسی وسماجی حالات اور ایک نوعیت کے فلسفہ حیات سے تعلق رکھنے والے افراد کا گروہ بھی ایک دبستان کہلاتا ہے۔

Advertisement

دبستان اور تحریک میں فرق:

دبستان اور تحریک میں ایک بنیادی فرق یہ ہے کہ دبستان کسی مخصوص علاقے کا ایک مشترکہ رجحان ہوتا ہے۔ دبستان کی تخلیق میں کسی باقاعدہ جدوجہد کا دخل نہیں ہوتا ہے۔ یہ مخصوص علاقے کی فضا میں پروان چڑھنے والا رویہ ہوتا ہے۔ جبکہ تحریک ایک بامقصد رجحان ہوتا ہے جس کے لیے باقاعدہ جدوجہد کی جاتی ہے۔

Advertisement

دبستان میں استادی اور شاگردی والے رشتے کا تعلق بھی پایا جاتا ہے اس میں کچھ مخصوص اصولوں ،موضوعات ،طرزِاسلوب اور مواد کی پابندی کو بھی ملحوظ رکھا جاتا ہے۔ تحریک کا دائئرہ کار وسیع جبکہ دبستان کا دائرہ محدود ہوتا ہے۔ کسی دبستان سے تعلق رکھنے والے شاعر یا ادیب ایک مخصوص طرز عمل کو اختیار کرتے ہیں تو ان کے شاگرد ان اساتذہ کے اسی رجحان کی تقلید کرتے ہیں۔

یوں ایک ہی طرز فکر اور اسلوب اختیار کرنے والے افراد کو اس دبستان سے منسلک تصور کیا جاتا ہے۔ اردو ادب میں دو بڑے دبستانی مکتبہ فکر گزرے ہیں جنھیں ہم دبستان دہلی اور دبستانِ لکھنؤ کے نام سے جانتے ہیں۔ اس کے علاوہ اس دور میں موجود دکن ، رام پور اور بھوپال وغیرہ کو ادبی مراکز کے نام سے تو جانا جاتا ہے لیکن انھیں دبستان نہیں کہا جاسکتا ہے۔دبستان دہلی اور لکھنؤ کی اس قدر ادبی اہمیت ہے کہ ان کے حوالے سے دلّی کا دبستان شاعری از نور الحسن ہاشمی ، لکھنو کا دبستان شاعری از ابواللیث صدیقی جیسی قابل ذکر کتب بھی موجود ہیں۔

Advertisement

دبستان دہلی کا سیاسی پسِ منظر:

تاریخ کے صفحات میں ہندوستان میں شمالی ہند اور جنوبی ہند کے نام سے دو بڑے مراکز موجود تھے۔ شمالی ہند میں جس میں دہلی ، پنجاب اور لکھنؤ کے علاقے شامل تھے جبکہ جنوبی ہند میں دکن کا شمار کیا جاتا تھا۔ شمالی ہند اور جنوبی ہند دونوں ہی علاقے اپنے ادوار وہاں کی ثقافت اور ادبی اہمیت کی بنا پر بہت زرخیز تھے۔

1021ءمیں سلطان محمود غزنوی ہندوستان آیا۔اس کا تعلق افغانستان سے تھا اور یہ پنجاب کے راستے ہندوستان میں داخل ہوا۔سولہ حملوں میں ناکامی کے بعد سترھویں حملے میں یہ کامیاب ٹھہرا۔سومنات کے مندر پر حملے سے 1021ء میں اس نے پنجاب فتح کیا۔1021ء سے 1186ء تک کے اس کے عہد میں یہاں فارسی، ترکی ،عربی اور دیگر مقامی زبانوں کے ملاپ سے ایک نئی زبان تخلیق پا رہی تھی۔

Advertisement

محمود غزنوی کے بعد شہاب الدین غوری کا عہد آتا ہے جس کے سپہ سالار قطب الدین ایبک نے 1193ء میں پرتھوی راج چوہان کو جنگ ترائن میں شکست فاش کرنے کے بعد دہلی کو فتح کیا۔1206 سے دہلی پر خاندان غلاماں ( قطب الدین ایبک خود کو خاندان غلاماں کہلاتا تھا) کی حکومت کا آغاز ہوا۔جس نے دہلی کو اپنا دارالحکومت بنایا۔

1290ء میں جلال الدین فیروز خلجی جبکہ اس کے بعد علاؤ الدین خلجی نے دہلی پر حکمرانی کی۔1325ءمیں غازی ملک نے دہلی میں اپنی حکومت کی بنیاد ڈالی۔1327ء میں غیاث الدین تغلق کا دور حکومت شروع ہوا تو اس نے دہلی سے دولت آباد(دکن) میں ہجرت کا حکم صادر کیا۔ اس ہجرت کو دیو گیر یا دوسری بڑی لسانی ہجرت بھی کہا جاتا ہے۔

Advertisement

تغلق کے عہد میں ہی علاؤالدین حسن بہمنی نے دکن میں اپنی خودمختار ریاست کا آغاز کر دیا۔ اس خاندان نے 190 سال تک بلاشرکت غیرے دکن پر حکومت کی۔1422ء میں امیر تیمور کی فوج نے دلی پر حملہ کرکے اس شہر کو بری طرح تباہ کیا۔

شاہ عالم بہادر شاہ 1707ء میں دہلی کے تخت پر بیٹھا۔1712ء میں فرخ سیر نے بادشاہی کا دعوی کیا تو اس وقت کے امیران اس کے حق میں ہو گئے اور اس وقت کےبادشاہ کو معذول کروا کے فرخس سیر کو تخت پہ بیٹھایا۔1719ء میں فرخ سیر کا قتل ہوا۔ دو بادشاہ یکے بعد دیگرے تخت پر آئے۔اس دور کی اہم بادشاہت میں محمد شاہ اور رنگیلا بادشاہ کے عہد تھے۔

Advertisement

محمد شاہ کا عہد اس لحاظ سے اہم رہا کہ یہ ادب پرور بادشاہ تھا یہی وجہ ہے کہ اس کے عہد میں شاعروں اور ادیبوں کی بہت پذیرائی کی گئی۔ جس سے ادب کو خاطر خواہ ترقی ہوئی جبکہ بادشاہ رنگیلا ایک عیاش بادشاہ تھا اس کے عہد میں نادر شاہ درانی نے دہلی پہ حملے کرکےاس کو شکت و ریخت سے دوچار کیا اس کے بعد پہ در پے دہلی پہ حملے ہوتے لگے۔

ایک وقت ایسا آیا کہ دہلی کی مغلیہ حکومت محدود ہوتے ہوتے محض علامتی حکومت رہ گئی اور نہ صرف دہلی بلکہ پورے ہندوستان کی حکمرانی کی باگ دوڑ انگریزوں (جو ایسٹ انڈیا کمپنی کی آڑ میں ہندوستان میں تجارت کی غرض سے آئے تھے اور آہستہ آہستہ اپنا اثرورسوخ بڑھا کر یہاں قابض ہونے لگے اور یہاں کے مقامی لوگوں کو خرید کر اپنی فوج تیار کر لی۔ انگریز اس وقت کے جدید جنگی سامان سے بھی لیس تھے) نے سنبھال لی۔اس پرآشوب دور میں دہلی میں تخلیق پانے والے ادب نے کئی کروٹیں بدلی جس کی خصوصیات کا جائزہ ذیل میں پیش کیا گیا ہے۔

Advertisement

دہلویت سے کیا مراد ہے اور دبستانِ دہلی کی خصوصیات:

دلی یا دہلی برصغیر میں حکومت اور تہذیب وتمدن ، ادب ، ثقافت ،فن اور فنون لطیفہ کا مرکز رہی۔اسی شہر کو میر امن نے ست جگی کہا۔کیونکہ مورخین کے مطابق یہ شہر قبل مسیح سے قریب سات دفعہ آباد اور برباد ہوا۔اسی شہر کو میر نے عالم میں انتخاب بتایا۔

مغل سلطنت کے باعث دہلی نے ہندوستان میں تہذیب و تمدن اور ادب و ثقافت کے مرکز کی حیثیت اختیار کرلی۔یہاں پر جب اردو زبان کی صورت واضح ہوئی تو اس زبان میں شاعری کے کئی نقوش ابھر کر سامنے آرہے تھے۔ اگرچہ اردو زبان نے باقاعدہ جنوبی ہند میں تشکیل پائی تھی اور دکن میں ہی اردو کا اولین ادب بھی تشکیل پایا تھا۔

Advertisement

دہلی میں تخلیق پانے والے ادب کی بات کی جائے تو اس میں دہلویت کا ایک نمایاں رنگ دکھائی دیتا ہے۔ یہ رنگ دبستانِ دہلی کہلایا۔ یہاں دہلویت سے مراد وہ مخصوص شعری مزاج اور ذہنی افتاد و نقطہ نظر ہے جو یہاں کے ایک طویل عرصے تک رہنے والے سیاسی و سماجی اور تہذیبی حالات کے باعث پروان چڑھا۔ان حالات کو اس دور کے ہر بڑے شاعر نے نہ صرف محسوس کیا بلکہ شاعری کے پردے میں پیش بھی کیا۔

دبستانِ دہلی کی خصوصیات:

دبستان دہلی کی شعری خصوصیات کی بات جائے تو اس کے لیے داخلیت کی اصطلاح بھی استعمال کی جاتی ہے۔ اس دبستان کی شاعری میں داخلیت ، تصوف ، سادگی اور درد کی نمایاں کیفیات موجود تھیں۔ ان خصوصیات سے اس دبستان کو نہ صرف الگ پہچان ملی بلکہ اس نے اسے دبستان لکھنو سے ممتاز بھی بنایا۔یہاں کے حالات نے لوگوں کی طبیعت پر متفکرانہ اثر ڈالا۔

Advertisement

دہلی میں صوفیانہ تعلیم کا ایک رواج چلا آرہا تھا جس نے یہاں کے ماحول کے مطابق شاعری میں قناعت ، صبر و توکل ، استغنا اور قلندرانہ خصوصیات کو پیدا کیا۔داخلیت کی بدولت یہاں کے شاعروں کے ہاں قنوطیت کا رنگ دکھائی دینے لگا۔درد و سوز اور رنج و غم یہاں کی شاعری کا نمایاں وصف رہا۔ان کی شاعری میں سلاست و روانی ، فصاحت اور سادگی کے ساتھ ساتھ داخلیت کی بدولت ایک آہ جیسی کیفیت کی موجودگی ملتی ہے۔انھی خصوصیات کے زیر اثر دہلی میں نہ صرف شاعری کے کئی ادوار گزرے بلکہ شاعری کے کئی رنگ بھی دیکھنے کو ملتے ہیں۔

دبستانِ دلّی میں شاعری کے ادوار:

اردو زبان کے اولین ادب کی تخلیق کا آغاز دکن سے ہوا۔ دکن کی ادبی روایت جس کا آغاز بہمنی دور سے ہوتا ہے، میں فخر الدین نظامی ، خواجہ بندہ نواز گیسو دراز ، شاہ میراں جی شمش العشاق ،فیروز ، اشرف بیابانی ، حسن شوقی ،نصرتی اور رستمی جیسے کئی قابل ذکر شعراء گزرے ہیں۔ لیکن اگر بات کی جائے دبستان دہلی کے ادب کی تو شمالی ہند میں ادب کی تخلیق شاعری کی صورت میں ہوئی۔

Advertisement

شمالی ہند میں اردو شاعری کے آغاز اور فروغ کے ضمن میں دو طرح کے نظریات ملتے ہیں۔ اول ولی دکنی کی دہلی آمد اور بعد ازاں اس کے دیوان کی آمد سے شمالی ہند میں اردو غزل کی تاریخ گوئی کا آغاز ہوا۔ دوسرے نظریے کے مطابق ولی کی آمد سے قبل بھی بعض شعراء ملتے ہیں جنھوں نے ہندوی میں اشعار کہے۔

گو شمالی ہند میں اردو ادب ولی اور اس کے معاصرین کی دین سمجھا جاتا ہے لیکن تحقیقات میں اس کے کئی سراغ اور ابتدائی صورتیں ملتی ہیں۔ جیسے کہ افضل کی بکٹ کہانی یا بارہ ماسہ جو کہ ایک عشقیہ داستان ہے۔ مجموعی طور پر اس شاعری کے دبستان کو پانچ ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے جن میں سراج الدین خان آرزو ، ٹیک بہار اور جعفر زٹلی جیسے شاعر موجود ہیں۔

Advertisement

جعفر زٹلی اردو میں ہجویات اور زٹلیات لکھیں۔ جعفر زٹلی کو فرخ سیر نے اس کے خلاف قطع کہنے پر قتل کروایا تھا۔جعفر زٹلی کی کئی نظمیں شہر آشوب کی تعریف میں آتی ہیں۔ اس لحاظ سے اسے اردو کا پہلا شہر آشوب شاعر بھی کہا جاسکتا ہے۔ سراج الدین خان آرزو کی اردو غزل سے دلچسپی کا آغاز دلی میں ولی کے دیوان کی آمد سے ہوتا ہے۔اس کو سراج الشعراء جیسے القابات سے بھی نوازا گیا۔

خان آرزو کی شہرت ان کے گہرے لسانی شعور کیا بنا پر ہے۔ انھوں نے عبدالواسع ہانسوی کی تالیف کو ترمیم اور اضافوں کے ساتھ نوادراللفاظ کے نام سے مدون کیا۔ مجمع النفائس کے نام سے ان کا ایک فارسی شعرا کا تذکرہ بھی موجود ہے۔

Advertisement

دوسرے دور کے قابل ذکر شعراء میں حاتم ، آبرو ، مضمون اور شاکر ناجی جیسے شعرا کا ذکر ہوتا ہے۔ اس دور میں ایہام گوئی کو فروغ ملا۔مغلیہ سلطنت کے آخری دور میں مغلوں کے پاس اختیارات محدود ہونے کی وجہ سے کوئی کام نہ تھا۔ اس عہد میں شعرا بجائے اس کے کہ اپنے آپ کلام میں گہرائی اور معنویت پیدا کرتے انھوں نے ظاہری بناوٹ اور لفظی صنعت گری پر توجہ دی۔اس طرح ایہام گوئی کا آغاز ہوا۔

شاہ حاتم پیشے کے اعتبار سے سپاہی اور ایک رنگین مزاج شاعر تھا مگر اس کی زندگی میں ایک موڑ آیا جب یہ رنگین مزاجی سے تصوف کی جانب مائل ہوا۔ایہام گوئی کے آغاز میں اس ردعمل کو قبول کرتے ہوئے حاتم نے دیوان زادہ کے نام سے اپنا دیوان مرتب کیا۔اس دور میں انھوں نے ولی کی زمین میں شاعری کی۔دوسرے دور میں خود کو ایہام گوئی کے لیے وقف کیا جبکہ تیسرے ہی دور میں لسانی تبدیلیوں کا آغاز کر دیا۔زبان کی ہیت کو درست کرنے کے لیے حاتم نے نامانوس الفاظ نکالنے پر کام کیا۔ زبان کو اس قابل بنایا کہ اس میں اسالیب کے کئی تجربات کیے جا سکتے تھے۔

Advertisement
کہتا ہے صاف و شستہ سخن بسکہ ہے تلاش
حاتم کو اس سبب نہیں ایہام پر نگاہ
کئی دیوان کہہ چکا حاتم
اب تلک پر زبان نہیں ہے درست

شاہ مبارک آبرو بھی ایہام گوئی کے حوالے سے اہم شاعر ہے۔ان کی شاعری مغلوں کے آخری دور کی تہذیب ، ثقافت ،معاشرت ،اخلاقیات اور شعری رجحانات کی مثال ہے۔آبرو کی شاعری کا وصف ہے کہ ان کی غزل میں سوز و گداز ملتا ہے جو باقی شعرا کے ہاں بہت کم نظر آتا ہے۔

جدائی کے زمانے کی سخن کیا زیادتی کہیے
کہ اس ظالم کی ہم پر جو گھڑی بیتی سو جگ بیتا

آبرو کی شاعری بے رنگ نہیں اس میں جذبے اور خیالات کا احساس ملتا ہے۔ایہام سے پرہیز کرکے سادہ اسلوب میں بات کی تو میر کے رنگ کی جھلک دکھائی دی۔

Advertisement
پھرتے تھے دشت دشت دوانے کدھر گئے
وہ عاشقی کے ہائے زمانے کدھر گئے

ایہام گوئی کے شعرا میں شاکر ناجی عامیانہ ذوق کا شاعر کہلایا۔مجموعی طور پر ان ایہام گو شعرا کا اسلوب ثقیل اور بوجھل تھا۔جلد ہی اس کا ردعمل ظاہر ہوا اور دبستانِ دہلی کے تیسرے شعری دور کا آغاز بھی ہوا۔تیسرا دورکے حوالے سے مرزا مظہر جانِ جاناں ، سودا ،میر اور میر سوز جیسے شعرا کے نام اہم ہیں۔یہ شعراء ایہام گوئی کے خاتمے کے حوالے سے بھی اہم جانے جاتے ہیں۔

مرزا مظہر جان جاناں پہلے خود ایہام گو شاعر تھا مگر جلد ہی اس کے خاتمے کے لیے آواز بلند کی کہ اس سے شاعروں کی صلاحیتں ضائع ہو رہی تھیں۔ جان جاناں نے ردعمل کے طور پر ایک نئے شعری اور لسانی اسلوب کی بنیاد ڈالی۔آپ کی کوششوں سے زبان میں صوتی آہنگ ایک نئے سلیقے سے متعارف ہوا۔جس سے زبان اور دبستانِ دہلی کی خصوصیات میں سلاست و روانی در آئی۔

Advertisement
یہ حسرت رہ گئی کس کس مزے سے زندگی کرتے
اگر ہوتا چمن اپنا ، گل اپنا ، باغباں اپنا

مرزا مظہر جانِ جاناں کی کوششوں سے ہی شمالی ہند کا شعری منظر نامہ تبدیل ہوا۔کی چوتھا دور میر تقی میر ، میردرد اور سودا کا دور کہلایا جبکہ انشاء اللہ خان انشاء ، مصحفی ، رنگین اور جرات اس دور کے نوجوان شعراء میں شمار ہوتے تھے جنھوں نے لکھنوی رنگ کو اپنایا۔ میر تقی میر کی شاعری محرومیوں کی ایک طویل داستان ہے۔ انھوں نے زندگی کے کرب کو سادہ سے سادہ ترین انداز میں پیش کیا۔ میر کے اشعار میں درد مند درویش اور زندگی سے آزردہ شاعر کی تصویر ابھرتی ہے۔ ناقدین نے میر کی شاعری کو آہ سے تعبیر کیا ہے۔ ان کی شاعری کے چھے ضخیم دواوین موجود ہیں۔

کہا میں نے کتنا ہے گل کا ثبات
کلی نے یہ سن کر تبسم کیا
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے

میر نے اپنے سوز و گداز سے، تو خواجہ میر درد نے تصوف سے اردو شاعری کو نیا آہنگ عطا کیا۔چھوٹی بحروں میں بڑے بڑے مسائل کو بیان کیا۔

Advertisement
زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے
ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے
وائے نادانی بہ وقت مرگ یہ ثابت ہوا
خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا

سودا کے کلام میں شوخی ، رنگا رنگی اور بے باکی کا عنصر پایا جاتا تھا۔سودا نے قصیدہ گوئی میں ایک خاص مقام پایا۔

جس روز کسی اور پہ بیداد کرو گے
یہ یاد رہے ہم کو بہت یاد کرو گے

اسی عہد میں مصحفی ،جرات اور رنگین جیسے شعرا نے زبان کو سنوارنے اور نکھارنے کی کوششیں بھی کیں۔

Advertisement

دبستانِ دہلی کا پانچواں اور آخری دور مرزا غالب ، مومن خان مومن ، شیخ ابراہیم ذوق اور بہادر شاہ ظفر جیسے نامور شعراء کا دور کہلاتا ہے۔ اس عہد تک اردو زبان باقاعدہ زبان کی شکل اختیار کر چکی تھی اور اس کے ساتھ ہی شاعری میں پختگی اور گہرائی کا رنگ آ چکا تھا۔یہاں غالب اور مومن کا کلام معنویت ، فکری عنصر اور ندرت خیال کے باعث ایک منفرد روپ اختیار کر چکا تھا۔غالب کے کلام میں شوخی کے ساتھ فکر و فلسفہ کا رنگ بھی ملتاہے۔مشکل پسندی غالب کی شاعری کا خاصہ رہی۔

نقش فریادی ہے کس کی شوخیِ تحریر کا
کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

مومن خان مومن نے اپنی شاعری میں جنسی تلازمات کو ابھارا۔مومن کی شاعری میں نکتہ آفرینی بھی بہت لطیف انداز لیے ہوئے ہے۔سادگی کا رنگ بھی پایا جاتا ہے۔

Advertisement
تم میرے پاس ہوتے ہو گویا
جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا

مومن کے اس شعر کے عوض غالب انھیں اپنا پورا دیوان دینے کو تیار تھے۔ ابراہیم ذوق جنھیں اردو شاعری میں غالب کے حریف کے طور پر جاتا ہے۔ ان کی شاعری میں حسن و عشق کی وردات کا بیان ملتا ہے تو ساتھ ہی تصوف اور اخلاقی پند کا درس بھی موجود ہے۔ان کی غزلیں طویل اور کلام میں تاثیر کے سوا تمام خوبیاں موجود ہیں۔

وقتِ پیری شباب کی باتیں
ایسی ہیں جیسے خواب کی باتیں

اسی عہد میں شاہ نصیر بھی شمالی ہند کے اہم شاعر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ان کو بسیار گو شاعر بھی کہا گیا۔ جبکہ اردو شاعری میں انھیں استادی کا درجہ بھی حاصل رہا۔ اس کے علاوہ بہادر شاہ ظفر ، مومن ، مجروح اور شیفتہ وغیرہ اس دور کے قابل ذکر شعراء میں شمار کیے جاتے ہیں۔

Advertisement

مختصر یہ کہ اگرچہ دہلی کی شاعری میں فارسی شاعری کے اثرات نمایاں رہے مگر حالات کی سنگینی ، ابتری ، انتشار ، بدنظمی کی بدولت یہاں کی شاعری میں تصوف ، درد ، سوز و الم ، سادگی اور داخلیت جیسا رنگ شروع سے آخر تک غالب رہا۔جس کی وجہ سے داخلیت، قناعت ، صبر و توکل ،ہجر اور تنہائی جیسے موضوعات دبستان دہلی کی شاعری کے ساتھ مخصوص ہو گئے۔

ان سوالات کے جوابات دیجئے۔

  • دبستان یا مکتبہ فکر سے کیا مراد ہے؟
  • دبستانِ دہلی میں دہلویت سے کیا مراد لیا جاتا ہے؟
  • دبستانِ دہلی کے سیاسی منظر نامے کو مختصراً بیان کریں؟
  • دبستانِ دہلی کی نمایاں خصوصیات کون سی ہیں؟
  • دبستانِ دہلی میں داخلیت کا پہلو نمایاں طور پر موجود ہے یا خارجیت کا؟
  • داخلیت کی زد کیا ہے؟
  • داخلیت اور قنوطیت سے کیا مراد ہے؟
  • دبستانِ دہلی کی شاعری کے نمایاں ادوار کتںے اور کون سے ہیں؟
  • دبستانِ دہلی کے ایہام گو شعرا کے نام بتائیں؟
  • ایہام گوئی کو کس شاعر نے ترک کیا؟
  • اصلاح زبان کی کوششوں کا آغاز کس شاعر نے کیا؟
  • دیوان زادہ کس کی تصنیف ہے؟
  • مومن کے کس شعر کے عوض غالب انھیں اپنا پورا دیوان دینے کو تیار تھے؟

Advertisement