Advertisement

ڈراما مرزا غالب کا خلاصہ:

ابراہیم یوسف کا ڈراما‘مرزا غالب’ دہلی کے پر آشوب دور کا عکاس ہے۔ڈرامے کے کرداروں میں میں غالب کی زوجہ امراؤ بیگم،غالب کے ملازم اور کچھ انگریز اور ہندوستانی سپاہی موجود ہیں۔ ڈرامے کا آغاز غالب کے کرادر سے ہوتا ہے جو کچھ فکر مندی کی حالت میں بیٹھے ہوئے ہیں۔

امراؤ بیگم اور ان کے درمیان نواب صاحب کی جانب سے آنے والے وظیفے اور گھر کے حالات کے مطلق تبادلہ خیال ہورہا ہوتا ہے کہ مرزا غالب کے ملازم کلونے آکر شہر کے حالات کی خبر دی۔کلو نے آکر بتایا کہ ہر جانب دھائیں دھائیں گولیاں برس رہی ہیں۔ شہر میں ایک قیامت صغریٰ برپا ہے۔

مہاراجہ پٹیالہ کے آدمی دیوار کی دوسری جانب نہیں جانے دے رہے ہیں۔کچھ گورے دیوار پھاند کر اندر گھس آئے ہیں۔ غالب شہر کے حالات اور آنے والے وظیفے کی رقم کے بارے نیں میں فکر مند ہوگئے۔اتںے میں کچھ گورے سپاہی مرزا غالب سے پوچھ تاچھ کے لیے آئے کہ وہ جان سکیں کہ غالب چونکہ درباری زندگی سے وابستہ تھے اس لیے وہ بادشاہ کے کتنے وفادار تھے۔ وفاداری کا ثبوت دینے کے لیے غالب کو کانل براؤن کے سامنے پیش ہونا تھا کرنل براؤن سے پیشی کے بعد غالب شہر کے حالات سے پریشان تھے۔

دلی شہر کی بربادی اور شہر کے کھنڈر ہو جانے کی وجہ سے غالب نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ کل کو کوئی سیاح دہلی آتا ہے تو اس کی یہ اجڑی حالت دیکھ کر وہ کہے گا کہ کبھی یہ شہر عالم میں انتخاب کہلایا ہوگا۔ اتنے میں نوکر نے بتایا کہ مرزا یوسف نے ماما اور ملازموں کو پریشان کر رکھا ہے۔وہ جب گولیوں کی آواز سنتے ہیں تو گھر سے باہر تشریف لے آتے ہیں۔

کل رات بھی کچھ گورے گھر میں گھس آئے تھے جو اور کچھ نہیں تو کچھ سامان اٹھا کر لے گئے۔اتنے میں مرزا یوسف کے نوکر نے آکر بتایا کہ مرزا یوسف مجھ سے بے قابو ہوکر گھر سے باہر کی جانب دوڑے تھے کہ انھیں گولی لگنے سے وہ شہید ہوگئے۔ مرزا یوسف کی موت کے وقت غالب بہت بے بس و لاچار تھے۔

دہلی شہر کے حالات سخت خراب تھے۔ لوگ گھروں سے نکل بھی نہیں رہے تھے۔ایسے میں مرزا کا ان کے کفن دفن کا انتظام کرنا اور دیگر سب معاملات نہایت مشکل مرحلہ تھا۔یہی وجہ ہے کہ غالب کی اسی پریشانی کے ساتھ غالب اپنا شعر "اے مرگ ناگہاں تجھے کیا انتظار ہے” پڑھنے کے ساتھ ہی پردہ گر جاتا ہے۔

سوالات:

سوال نمبر01:کلو نے شہر کا کیا حال بیان کیا؟

کلو نے آکر بتایا کہ ہر جانب دھائیں دھائیں گولیاں برس رہی ہیں۔ شہر میں ایک قیامت صغریٰ برپا ہے۔مہاراجہ پٹیالہ کے آدمی دیوار کی دوسری جانب نہیں جانے دے رہے ہیں۔کچھ گورے دیوار پھاند کر اندر گھس آئے ہیں۔

سوال نمبر02:نوکر نے مرزا یوسف کے حالات کس طرح بیان کیے؟

نوکر نے بتایا کہ انھوں نے ماما اور ملازموں کو پریشان کر رکھا ہے۔وہ جب گولیوں کی آواز سنتے ہیں تو گھر سے باہر تشریف لے آتے ہیں۔کل رات بھی کچھ گورے گھر میں گھس آئے تھے جو اور کچھ نہیں تو کچھ سامان اٹھا کر لے گئے۔اتنے میں مرزا یوسف کے نوکر نے آکر بتایا کہ مرزا یوسف مجھ سے بے قابو ہوکر گھر سے باہر کی جانب دوڑے تھے کہ انھیں گولی لگنے سے وہ شہید ہوگئے۔

سوال نمبر03:دلی کو عالم میں انتخاب کہنے پرغالب نے مذاق کیوں اڑایا تھا؟

دلی شہر کی بربادی اور شہر کے کھنڈر ہو جانے کی وجہ سے شاعر نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ کل کو کوئی سیاح دہلی آتا ہے تو اس کی یہ اجڑی حالت دیکھ کر وہ کہے گا کہ کبھی یہ شہر عالم میں انتخاب کہلایا ہوگا۔

سوال نمبر04:مرزا یوسف کی موت پر غالب کو کن کن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا؟

مرزا یوسف کی موت کے وقت غالب بہت بے بس و لاچار تھے۔ دہلی شہر کے حالات سخت خراب تھے۔ لوگ گھروں سے نکل بھی نہیں رہے تھے۔ایسے میں مرزا کا ان کے کفن دفن کا انتظام کرنا اور دیگر سب معاملات نہایت مشکل مرحلہ تھا۔