Advertisement
  • کتاب” اپنی زبان”برائے ساتویں جماعت
  • سبق نمبر15:کہانی
  • مصنف کا نام: ٹالسٹائی
  • سبق کا نام: دوگز زمین

خلاصہ سبق:

یہ سبق “دوگز زمین” روسی مصنف “لیو ٹالسٹائی” کی کہانی کا ترجمہ ہے۔ اس کہانی میں ایک نچوم کے کردار کو پیش کیا گیا ہے۔یہ نچوم روس کے ایک گاؤں میں رہنے والا کسان تھا۔ اس کی ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ وہ اتنی بڑی زمین کا مالک ہو کہ کوئی اس کی برابری نہ کر سکے۔

Advertisement

اس نے اپنے گاؤں میں ہی بوڑھی عورت سے کچھ زمین اس شرط پر خرید لی کہ کچھ عرصہ بعد وہ اس کو رقم کی ادائیگی کر دے گا۔اس سے بھی نچوم کے دل کو اطمینان نہ ہوا تو اسے ایک مسافر کے ذریعے یہ معلوم ہوا کہ قریب ہی ایک گاؤں میں لوگوں کو مفت زمین دی جا رہی ہے تو نچوم اپنا سب کچھ بیچ اس گاؤں جا پہنچا۔

Advertisement

وہاں یہ سرکار کی طرف سے ملنے والی زمین کے علاوہ خرید کر ایک اور بڑی زمین کا مالک بھی بن گیا۔ کچھ عرصہ بعد ایک تاجر کے ذریعے نچوم کو معلوم ہوا کہ باشکروں کے علاقے میں زمین کی بہتات ہے اور وہ بہت سستی بھی ہے۔ وہاں کے لوگ سیدھے سادھے ہیں اس لیے ان کے لیے تحفے لے جاؤ وہ خوش ہو جائیں گے۔ یہ سن کر نچوم کچھ تحائف لے کر باشکروں کے ہاں جا پہنچا۔باشکر یہ تحائف پا کر بہت خوش ہوئے۔

باشکروں کے سردار نے زمین فروخت کی یہ شرط رکھی کہ ایک ہزار روبل کے عوض صبح سورج طلوع ہونے سے لے کر سورج غروب ہونے تک جتنی جگہ کے گرد وہ چکر لگا لے گا وہ جگہ اس کی ملکیت ہو جائے گی۔ مگر اس میں شرط یہ تھی کہ جس جگہ سے وہ سفر کا آغاز کرے گا سورج ڈھلنے سے پہلے ہی اس کو اسی جگہ پر واپس پہنچنا لازمی ہو گا۔

Advertisement

نچوم یہ سن کر بہت خوش ہوا اور اس نے اگلے دن صبح سویرے اس سفر کا آغاز کیا۔ نچوم نے سوچا کہ آدھے دن کے بعد وہ اپنا رخ پلٹے گا اور واپسی کا سفر باندھ لے گا۔نچوم نے جب چلنا شروع کیا تو جیسے جیسے وہ آگے بڑھتا جا رہا تھا زیادہ زرخیز زمین اس کے قدموں تلے آنے لگی جس کی وجہ سے اس کا لالچ بڑھتا جا رہا تھا اور آگے ہی آگے بڑھنے کی چاہ میں وہ بہت دور نکل گیا اور مقررہ وقت پر واپس نہ پلٹ سکا۔

زیادہ پا لینے کی حرص نے نچوم کی جان لے لی۔ جب وہ زیادہ زمین پانے کے چکر میں ایک طویل چکر کاٹ کر واپس پلٹا تو اس کی حالت اتنی غیر ہو چکی تھی کہ اس کے پاؤں میں چھالے پڑ گئے اور دل کی دھڑکن تیز ہوگئی جبکہ وہ بے سدھ ہو کر گر پڑا۔نچوم کے اس لالچ نے اس کی جان لے لی اور جس جگہ وہ گرا وہیں پر دو گز زمین کھود کر اس نچوم کو دفنا دیا گیا۔

Advertisement

سوچیے اور بتایئے:

نچوم کی کیا خواہش تھی ؟

نچوم کی خواہش تھی کہ وہ بہت بڑی زمین کا مالک ہو۔

مسافر نے نچوم کو کون سی خوش خبری سنائی ؟

مسافر نے نچوم کو بتایا کہ قریب ہی ایک گاؤں میں والگا ندی کے پاس لوگوں کو مفت زمین دی جا رہی ہے۔اس کے علاوہ کوئی چاہے تو زیادہ زمین بھی خرید سکتا ہے۔

Advertisement

خوش خبری سن کر نچوم نے کیا کیا؟

نچوم اپنی زمین اور مکان بیچ کر اس گاؤں جا پہنچا۔وہاں یہ سرکار کی طرف سے ملنے والی زمین کے علاوہ خرید کر ایک اور بڑی زمین کا مالک بھی بن گیا۔

تاجر نے نچوم کو کیا مشورہ دیا؟

تاجر نے نچوم کو مشورہ دیا کہ باشکروں کے علاقے میں زمین کی بہتات ہے اور وہ بہت سستی بھی ہے۔ وہاں کے لوگ سیدھے سادھے ہیں اس لیے ان کے لیے تحفے لے جاؤ وہ خوش ہو جائیں گے۔

Advertisement

باشکروں نے نچوم کی کیا تواضع کی؟

باشکر نجوم سے بہت خوش ہوئے انھوں نے اس کا شکریہ ادا کیا اور اسے زمین دینے کی حامی بھری۔

باشکروں کے سردار نے زمین فروخت کرنے کی کیا شرط رکھی؟

باشکروں کے سردار نے زمین فروخت کی یہ شرط رکھی کہ ایک ہزار روبل کے عوض صبح سورج طلوع ہونے سے لے کر سورج غروب ہونے تک جتنی جگہ کے گرد وہ چکر لگا لے گا وہ جگہ اس کی ملکیت ہو جائے گی۔ مگر اس میں شرط یہ تھی کہ جس جگہ سے وہ سفر کا آغاز کرے گا سورج ڈھلنے سے پہلے ہی اس کو اسی جگہ پر واپس پہنچنا لازمی ہو گا۔

Advertisement

نچوم آگے کیوں بڑھتا چلا گیا ؟

جیسے جیسے وہ آگے بڑھتا جا رہا تھا زیادہ زرخیز زمین اس کے قدموں تلے آنے لگی جس کی وجہ سے اس کا لالچ بڑھتا جا رہا تھا اور آگے ہی آگے بڑھنے کی چاہ میں وہ بہت دور نکل گیا۔

نچوم کا یہ انجام کیوں ہوا؟

زیادہ پا لینے کی حرص نے نچوم کی جان لے لی۔ جب وہ زیادہ زمین پانے کے چکر میں ایک طویل چکر کاٹ کر واپس پلٹا تو اس کی حالت اتنی غیر ہو چکی تھی کہ اس کے پاؤں میں چھالے پڑ گئے اور دل کی دھڑکن تیز ہو گئی اس کے لالچ نے اس کی جان لے لی۔

Advertisement

نیچے دیے ہوئے لفظوں کو اپنے جملوں میں استعمال کیجیے۔

حثیتہمیشہ اپنی حیثیت کے لوگوں سے تعلقات استوار کرنے چاہیے۔
قطاربچے قطار میں کمرہ جماعت کی طرف بڑھ رہے تھے۔
تواضعاحمد نے مہمانوں کی بہترین تواضع کی۔
رفتارگھوڑا تیز رفتار دوڑتا ہے۔
زرخیزدریا کے قریب کی زمین بہت زرخیز تھی۔
قبضہقبضہ مافیا گروہ نے ہماری زمین پہ قبضہ کر لیا۔
احساسروزے کا مقصد دوسروں کی بھوک کا احساس کرنا ہوتا ہے۔
لالچلالچ بری بلا ہے۔
بقایامیں یہاں اپنے بقایا جات کی ادائیگی کے لیے آیا ہوں۔
شرابورعلی پسینے میں شرابور دکھائی دیا۔
اطمینانبچے کو صحیح سلامت دیکھ کر ماں نے اطمینان کا سانس لیا۔
سفرکشمیر کا سفر بہت حسین اور طویل ہے۔

واحد سے جمع اور جمع سے واحد بنائیے۔

واحدجمع
مطلبمطالب
کھونٹیکھونٹیاں
انگلیانگلیوں
سیٹیسیٹیاں
احساساحساسات
ٹوپیٹوپیاں
اعتراضاعتراضات
طرفاطراف
تحفےتحائف
رقمرقوم
حرکتحرکات
منظرمناظر
شرطشرائط

صحیح جملے پر✅اور غلط پر ❎ کا نشان لگائیے۔

  • بوڑھی عورت نے اپنی زمین بیچنے کا ارادہ کیا۔✅
  • نچوم چاہتا تھا کہ وہ ایک بڑا زمیندار بنے۔✅
  • باشکروں کے پاس زمین کم تھی ۔❎
  • ہر جھونپڑی کے پیچھے موٹر گاڑیاں بندھی ہوتی تھیں۔❎
  • میں آپ کی زمین خریدنا چاہتا ہوں ۔✅
  • سردار نے اس سے دو ہزار روبل لے کر اپنی ٹوپی میں ڈالے۔❎
  • ہمارا ملازم اس ٹوپی کے پاس موجود رہے گا۔✅
  • دور دور تک ٹیلہ دکھائی نہ دیتا تھا۔❎
  • لوگ اس کی ہمت گھٹا ر ہے تھے۔❎

خالی جگہ کو بھریے۔

  • نچوم بھی زمین خریدنا چاہتا تھا۔
  • لوگوں کو مفت زمین دی جارہی ہے۔
  • ایک دن ایک تاجر سے نچوم کی ملاقات ہوئی۔
  • ایک دن میں تو آدمی بہت بڑی زمین کے گردچکر لگا سکتا ہے۔
  • اس کے پیچھے پیچھے کئی لوگ زمین میں کھوٹیاں گاڑتے چلے آرہے تھے۔
  • سورج کی کرنیں اس کی آنکھوں میں چھنے لگی تھیں۔
  • وہ لالچ میں آ کر آگے بڑھتا گیا اور بائیں طرف مڑنا ہی بھول گیا۔
  • اس کی سانس لوہار کی دھونکنی کی طرح چل رہی تھی۔
  • لوگ اس کی ہمت بڑھا رہے تھے۔
  • سردار کی ٹوپی اور نچوم کے بیچ دو گز کا فاصلہ باقی رہ گیا تھا۔

ان لفظوں کے متضاد لکھیے۔

اطمینانبے اطمینانی
زرخیزبنجر
موجودغیر موجود/غیر حاضر
بوجھلہلکا
غروبطلوع
دھندلاصاف