• کتاب”دور پاس” برائے آٹھویں جماعت
  • سبق نمبر03:کہانی
  • سبق کا نام: سب کو خوش رکھنا آسان نہیں

خلاصہ سبق:

اس سبق میں ایک باپ بیٹے کی کہانی بیان کی گئی ہے جو اپنے گدھے کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ آدمی نے اپنے بیٹے کو گدھے پر بٹھا رکھا تھا۔راستے میں پہلے آدمی نے باپ بیٹے کو دیکھ کر کہا کہ ذرا اس بوڑھے کو تو دیکھنا خود گدھے پر سوار ہے اور لڑکے کو پیدل چلا رہا ہے۔

باپ نے لڑکے کو گدھے پر بٹھا دیا اور خود نیچے اتر آیا۔دوسرے آدمی نے بیٹے کو نالائق کہا کہ اس کا باپ پیدل چل رہا ہے جب کہ وہ لڑکا گدھے پر سوار ہے۔یوں لڑکا بھی نیچے اتر آیا اور دونوں باپ بیٹا پیدل چلنے لگے۔تیسرے آدمی نے باپ بیٹے کو دیکھ کر کہا کہ ان بے وقوفوں کو تو دیکھو سواری پاس ہوتے ہوئے بھی پیدل چل رہے ہیں۔

Advertisement

اس کی بات سن کر دونوں گدھے پر سوار ہوگئے۔ راستے میں ایک بوڑھی عورت نے انھیں دیکھا اور کہا کہ انھیں بے زبان جانور پر ذرا ترس نہیں آتا۔ یہ سن کر انھوں نے سوچا کیوں نہ اس عورت کو بھی خوش کر دیں اور گدھے کی ٹانگوں میں ڈنڈا باندھ کر اسے کندھوں پر بیٹھا لیا۔

راستے میں دریا آیا گدھے نے دولتیاں ماری اور اس میں جا گرا یوں سب کو خوش کرنے کی کوشش کا انجام یہ ہوا کہ کوئی خوش بھی نہ ہوا اور گدھا دریا میں گرنے سے باپ بیٹا اپنے جانور سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔

سوچیے اور بتایئے:

پہلے آدمی نے باپ بیٹے کو دیکھ کر کیا کہا؟

پہلے آدمی نے باپ بیٹے کو دیکھ کر کہا کہ ذرا اس بوڑھے کو تو دیکھنا خود گدھے پر سوار ہے اور لڑکے کو پیدل چلا رہا ہے۔

دوسرے آدمی نے بیٹے کو نالائق کیوں کہا؟

دوسرے آدمی نے بیٹے کو نالائق اس لیے کہا کہ اس کا باپ پیدل چل رہا تھا جب کہ وہ لڑکا گدھے پر سوار تھا۔

تیسرے آدمی نے باپ بیٹے کے بارے میں کیا کہا؟

تیسرے آدمی نے باپ بیٹے کو دیکھ کر کہا کہ ان بے وقوفوں کو تو دیکھو سواری پاس ہوتے ہوئے بھی پیدل چل رہے ہیں۔

انھیں بے زبان جانور پر ذرا ترس نہیں آتا۔ یہ بات کس نے کہی ؟

انھیں بے زبان جانور پر ذرا ترس نہیں آتا یہ بات بوڑھی عورت نے کہی تھی۔

سب کو خوش کرنے کی کوشش کا انجام کیا ہوا؟

سب کو خوش کرنے کی کوشش کا انجام یہ ہوا کہ کوئی خوش بھی نہ ہوا اور گدھا دریا میں گرنے سے باپ بیٹا اپنے جانور سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔

سبق کی مدد سے جملے مکمل کیجیے:

  • راستے میں ایک آدمی انھیں دیکھ کر کہنے لگا۔
  • ابھی وہ تھوڑی دور گئے ہوں گے کہ ایک اور آدمی ملا۔
  • ان بے وقوفوں کو تو دیکھو سواری کے ہوتے ہوئے بھی پیدل چل رہے ہیں۔
  • لاؤ، اس بوڑھی عورت کا بھی دل خوش کر دیں۔
  • جب وہ پل پر پہنچے تو گدھے نے گھبرا کر دولتیاں جھاڑیں۔

نیچے دیے ہوئے لفظوں سے جملے بنائیے :

پیدلپیدل چلنا صحت کے لیے اچھا ہے۔
جانوراحمد نے چڑیا گھر میں جانور دیکھے۔
درختہمارے گھر میں آم کا درخت ہے۔
علمعلم ایسی دولت ہے جسے کوئی چرا نہیں سکتا۔
دریادریا میں طغیانی آگئی۔

اس سبق میں’نالائق‘ اور’ بے زبان‘ دو لفظ آۓ ہیں جو نا + لائق اور بے + زبان سے بنے ہیں۔

اسی طرح آپ بھی نا اور بے لگا کر چار چار لفظ لکھیے :

نا= ناہنجار ، ناخلف ،نامراد ، ناامید۔
بے= بے اولاد، بے چارہ، بے باک، بے مروت۔

اس سبق کو غور سے پڑھیے:

ایک بوڑھا آدمی اور اس کا بیٹا کہیں جارہے تھے۔ لڑکا گدھے کی رسی پکڑے آگے آگے چل رہا تھا۔
لڑکا بوڑھے باپ کو سڑک پر پیدل گھسیٹ رہا ہے۔

ان جملوں میں آدمی ، بیٹا لڑکا، گدھا، رسی اور سڑک مختلف نام ہیں ۔ وہ لفظ جس سے کسی شخص کسی جگہ یا کسی چیز کا نام ظاہر ہو، اسے اسم کہتے ہیں۔

اسی طرح آپ بھی اس سبق سے کچھ اور اسم تلاش کر کے لکھیے۔

پل، لوگ ،عورت ،شاخ وغیرہ۔