Advertisement
  • سبق نمبر 11: ڈراما
  • مصنف کانام:حبیب تنویر
  • سبق کا نام: آگرہ بازار

ڈراما آگرہ بازار کا خلاصہ:

ڈراما ’آگرہ بازار‘ میں حبیب تنویر نے نظیرؔ کی زندگی کے عوامی رخ پر روشنی ڈالتے ہوئے ان کی شخصیت کوشہر آگرہ کے سماجی، سیاسی اور معاشی حالات کے پس منظر میں پیش کیا ہے۔ ڈراما کی کہانی دو ایکٹ پر مشتمل ہے۔

Advertisement

’آگرہ بازار‘ کی ابتدا نظیر اکبر آبادی کی نظم ’شہر آشوب ‘ سے ہوتی ہے۔ دو فقیر اسٹیج پر آتے ہیں اور شہر آشوب پڑھتے ہیں۔ اس ’شہر آشوب ‘سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ شہر کے حالات بہت خراب ہیں۔ سارے کارخانے بند ہیں، دکانوں میں گاہکوں کی کمی ہے۔ غرض یہ کہ شہر کی اقتصادی زبوں حالی کا نقشہ پوری طرح سے ناظرین کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔

Advertisement

شہر آشوب ‘کے بعد ایک فقیر اسٹیج کے دائیں اور دوسرا اسٹیج کے بائیں جانب چلا جاتا ہے ، تب پردہ اٹھتا ہے۔ پردہ اٹھنے کے بعد ناظرین کو آگرہ کے ایک بازار کامنظر دکھائی دیتا ہے لیکن بازار میں جس قسم کی رونق ہونی چاہئے وہ نہیں دکھائی دیتی ہے بلکہ سناٹا چھایا ہوا ہے اور بازار کی کچھ دکانیں بھی بند دکھائی دیتی ہیں۔

کتب فروش کی دکان پر کچھ گاہک کھڑے کتابیں دیکھ رہے ہیں۔ پتنگ فروش کی دکان بند دکھائی دیتی ہے۔اسٹیج پر تل کے لڈو والا،تربوز والا، برف والا، ککڑی والا، کان کا میل صاف کرنے والا اور پان والا باری باری اپنے گاہکوں کو آواز لگاتے ہیں لیکن بازار سے گزرتا کوئی بھی شخص ان کی آوازوں پر دھیان نہیں دیتا۔ چھوٹے بچے حالانکہ خوانچوں کی جانب للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے خاموش گزر جاتے ہیں۔ تمام خوانچوں میں آپسی گفتگو کے دوران یہ پتہ چلتا ہے کہ ان کا کاروبار مندا چل رہا ہے۔

Advertisement

اسی اثنا میں ایک مداری بازار میں داخل ہوتا ہے۔ مداری کے ذریعہ بندر کا تماشا دکھاتے وقت جو مکالمے ادا کئے جاتے ہیں اس سے آگرہ شہر کے تاریخی حالات معلوم ہوتے ہیں۔ اس سے ہمیں نادر شاہ اور احمد شاہ ابدالی کے دہلی پر حملہ کرنے اور سورج مل جاٹ کے آگرہ لوٹنے پر پڑنے والی افتاد کی داستان معلوم ہوتی ہے۔ اس کے بعد فرنگیوں کا ہندوستان پر قبضہ اور پلاسی کی جنگ کا بھی ذکر ہوتا ہوا قحط بنگال پر ختم ہوتا ہے۔

Advertisement

مداری جیسے ہی اپنا تماشا ختم کرتا ہے لوگ اس کے بندر کو پیسہ دینے کے بجائے وہاں سے جانا شروع کر دیتے ہیں۔ اسی دوران ککڑی والے کی آواز سنائی دیتی ہے جس پر مداری ککڑی والے سے ناراض ہو جاتا ہے کہ اس کی وجہ سے گاہکوں نے پیسے نہیں دیے اور اس کی ککڑی کی ٹوکری اٹھا کر پھینک دیتا ہے جس سے اس کی ساری ککڑی زمین پر بکھر جاتی ہے۔

اس کے بعد اس لڑائی میں ایک کے بعد ایک تمام سودے والے شامل ہو جاتے ہیں اور سب کا نقصان ہوتا ہے۔اس تمام تماشے سے ککڑی والے کے دل میں خیال سماتا ہے کہ کیوں نہ وہ اپنی ککڑی بیچنے کے لئے نظم لکھوا لے۔جس کے لئے وہ شاعر سے ملاقات کرتا ہے۔دوسرے ایکٹ کی ابتداء نظیرؔ کی نظم ’بنجارا نامہ‘ سے ہوتی ہے۔ جس میں شاعر کتب فروش کی دوکان پر ہے۔ پتنگ فروش کی دوکان پر لڑکا پتنگ لینے آتا ہے وہ اسے انواع و اقسام کے پتنگ دکھاتا اور نام بتاتا ہے۔لڑکا پچیس کوڑی کے مول پتنگ کے جاتا ہے۔ نظیر کی نواسی کھلونا لے کر آتی ہے۔بچی کی اچھل کود جاری ہے سب اس کے ساتھ مذاق کررہے ہیں۔ایکٹ کی آخر میں فقیر ”آدمی نامہ“ گاتے ہوئے اسٹیج پر آتے ہیں۔اسی کے ساتھ پردہ برابر ہوجاتا ہے۔

Advertisement

سوالات:

سوال نمبر 01:ڈرامے کے پہلے ایکٹ میں بازار کی بے رونقی کا کیا منظراسٹیج کیا گیا ہے؟

بازار پر عجیب بے رونقی ہے۔تل کے لڈو اور دوسرے پھیری والے آواز لگا رہے ہیں لیکن کسی کی سنوائی نہیں ہوتی۔ پتنگ والے کی دوکان بھی بند ہے۔ یہاں تک کے اسٹیج پر آتے ہوئے فقیر بھی شہر آشوب گاتے ہوئے آتے ہیں۔

سوال نمبر 02:آگرہ بازار سے لوگ بے نیازی سے کیوں گزر جاتے ہیں؟

راہ گیر اردگرد کے خوانچہ فروشوں کی آواز پر کان نہ دھرتے اور کچھ بازار کی بے رونقی کی وجہ سے وہ بے نیازی سے گزر جاتے تھے۔

Advertisement

سوال نمبر 03: بندر لیے مداری نے اپنے تماشے سے کیا رنگ جمایا؟

مداری نے اپنے تماشے سے ایسا رنگ جمایا کہ پھیری والے، بچے،لڑکے اور راستے میں چلنے والے سب اس کے گرد جمع ہوگئے۔ وہ بندر کے سامنے مختلف باتوں کاذکر کرتا تو بندر ایک ماہر فن کار کی طرح ان سب باتوں کی نقالی پیش کرکے لوگ کو محظوظ کرنے لگا۔

سوال نمبر 04: بازار میں جھگڑے کا کیا نقشہ پیش کیا گیا ہے؟

جھگڑے کا نقشہ یوں پیش کیا گیا کہ مداری نے ککڑی والا کا خوانچہ الٹ دیا۔اس کی ککڑیاں زمین پر بکھر گئیں۔سب خوانچے والے آپس میں جھگڑنے لگے۔اس موقع کو غنیمت پاکر کچھ لونڈے لونڈیوں نے ککڑیاں،لڈو اور دیگر سامان لوٹنا شروع کر دیا۔جس سے فساد اور بڑھتا گیا۔

Advertisement

سوال نمبر 05:ہمجولی نے میر صاحب کے بارے میں کیا بتایا ؟

ہمجولی نے میر صاحب کے متعلق بتایا کہ انھوں نے دہلی کو کیسے اپنی آنکھوں کے سامنے اجڑتے دیکھا۔اس شہر میں عزیزوں کی بے وفائی دیکھی، گھر چھوڑا،وطن چھواڑا یہاں تک کہ دہلی چھوڑ دی۔در در کی خاک چھانی، ایرانی اور تورانیوں کے حملے دیکھے۔ دیکھا کہ دہلی کی گلیوں میں خون کے دریا رواں ہیں۔انسانوں کے سر کٹوروں کی طرح تیر رہے ہیں۔اپنا گھر اپنی آنکھوں کے سامنے لٹتا دیکھا۔اب لکھنو میں رہائش پذیر ہیں اور فرنگیوں کی غارت گری دیکھ رہے ہیں۔

سوال نمبر 06: کتب فروش نے سلطنت مغلیہ کے بارے میں کیا خیال پیش کیا؟

کتب فروش کے خیال کے مطابق سلطنت مغلیہ جیسے کوئی سلطنت نہیں بلکہ قوی ہیکل ببر شیر ہے۔جس پر سینکڑوں کتوں،بلیوں نے حملہ کر دیا ہو۔اسے زخمی دیکھ کر آسمان سے گدھوں نے بھی اس پر حملہ کر دیا ہو اور ٹھونکیں مار مار کر اس کی تکہ بوٹی کر رہے ہوں۔اور وہ شیر ہے کہ نہ تو اسے کراہنے کی مہلت اور نہ مر جانے کا یارا۔

Advertisement

سوال۔نمبر 07:روپیے، پیسے سے متعلق نظیر کی کیا بے نیازی بیان کی گئی ہے؟

نظیر کی پیسے سے بے نیازی کا یہ عالم تھا کہ پیسے کو ہاتھ نہ لگاتے تھے۔ایک دفعہ جونواب سعادت کا آدمی ان کے گھر آیا اس کے پاس پیسوں کی تھیلی اور گھر میں پیسہ ہونے کی وجہ سے رات بھر نظیر جو نیند نہ آئی۔

زبان وقواعد:

نیچے لکھے ہوئے مرکب الفاظ سے جملے بنائیے۔

زور آزمائیپہلوانوں نے اکھاڑے میں آمنے سامنے ہوکر زور آزمائی کی۔
گوشہ گیراحمد نوجوانی میں ہی گوشہ گیر ہوگیا۔
غارت گریدہلی میں قتل و غارت گری کا بازار سرگرم تھا۔
نو مشقہم سے مقابلہ مت کیجئے،آپ اس میدان میں نومشق ہیں۔
اسم شریفآپ کا اسم شریف کیا ہے؟
نا چیزمجھ ناچیز کو احسن کہتے ہیں۔
لوگ باگبازار میں لوگ باگ آجارہے تھے۔

عملی کام:-

ڈرامے میں پتنگ کی جو مختلف قسمیں بتائی گئی ہیں ان کے نام لکھیے۔

  • ڈرامے میں پتنگ کی بتائی گئی قسموں کے نام درج ذیل ہیں:
  • دودھاریا، گلہریا، پہاڑیا،دو باز، لل پرا،گھائل، لنگوٹیا،بگلا،دوپنا،دھیر، تربوزیا،پیندی پان،دوکونیا،گل سرا،ککڑی،چوکھڑا،باجرا،کج کلا،چمچکا،تکل مانگ دار۔

Advertisement
Advertisement

Advertisement