Advertisement
  • سبق نمبر 21: ڈراما
  • مصنف کا نام: حبیب تنویر
  • سبق کا نام: کارتوس

خلاصہ سبق: کارتوس

سبق “کارتوس” ایک ڈراما ہے جس میں 1799ء کے اس عہد کو دکھایا گیا ہے جب انگریز ہندوستان میں اپنے قدم جما رہے تھے۔اس کے اہم کرداروں میں کرنل ، لیفٹیننٹ ، سپاہی اور سوار شامل ہیں۔ رات کا وقت تھا گورکھ پور کے جنگلوں میں انگریزوں کے خیمے لگے ہوئے تھے۔ پہلا منظر کرنل کالنز کے خیمے کا پیش کیا گیا جہاں وہ لیفٹیننٹ کے ساتھ باتیں کرتا دکھائی دیتا ہے۔

Advertisement

انگریزوں کے یہ خیمے کئی ہفتوں سے وزیر علی کو گرفتار کرنے کے لیے لگائے گئے ہیں۔کرنل لیفٹیننٹ کو وزیر علی کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتا ہے کہ اس کے کارناموں سے انگریزی افسانے کے رابن ہڈ کی یاد تازہ ہو جاتی ہے۔ وزیر علی کے دل میں انگریز حکومت کے لیے شدید نفرت تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس نے قریب پانچ ماہ کی حکومت کے دورانیے میں اودھ کے دربار کو انگریزوں کے اثر سے پاک کر ڈالا۔

Advertisement

لیفٹیننٹ نے کرنل سے سعادت علی کے بارے میں دریافت کیا تو کرنل بتاںے لگا کہ سعادت علی ، آصف الدولہ کا چچا زاد بھائی ہے اور یہی وزیر علی کا اصل دشمن بھی ہے۔ آصف الدولہ کے ہاں لڑکے کی پیدائش کی امید نہ پا کر سعادت علی نے وزیر علی کی پیدائش کو اپنی موت خیال کیا۔ لیفٹیننٹ نے پوچھا کہ ہم نے سعادت علی کو تخت پر بٹھانے میں کیا مصلحت جانی تھی؟ کرنل نے بتایا کہ سعادت علی ہمارا دوست اور ایک عیاش پسند انسان تھا۔جس نے قریب اپنی آدھی مملکت اور دس لاکھ نقد ہمیں انعام میں دیے۔

لیفٹینٹ نے پوچھا کہ سنا ہے کہ وزیر علی افغانستان کے کے بادشاہ زمان کو ہندوستان پر حملے کی دعوت دے رہا ہے۔ جس پہ کرنل نے بتایا کہ افغانستان کو حملے کی پہلی دعوت ٹیپو سلطان نے دی پھر وزیر علی اور شمس الدولہ نے بھی انھیں دلی بلایا۔ شمس الدولہ کے بارے میں بتاتے ہوئے کرنل نے کہا کہ یہ نواب بنگال کا نسبتی بھائی تھا۔کرنل نے بتایا کہ اگر ہندوستان کے حملے کی لہر کامیاب ہوئی تو بکسر اور پلاسی کی جنگوں کے کارنامے بھی دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اور کمپنی بھی لارڈ ولزلی کے ہاتھوں اپنی ساکھ کھو بیٹھے گی۔ جس پہ لیفٹیننٹ کہنے لگا کہ وزیر علی کی آزادی تو ہمارے لیے بہت خطرناک ہے اسے گرفتار کیا جانا بہت ضروری ہے۔

Advertisement

کرنل نے بتایا کہ عزیر علی بہت بہادر ہے کہ اسے جب کمپنی نے معذول کرکے بنارس بھییجا اور کچھ ماہ بعد گورنر نے کلکتہ طلب کیا تو وزیر علی کمپنی کے وکیل کے پاس گیا اور کلکتے بلائے جانے پر شکایت کی۔ وکیل کے کسی خاطر خواہ جواب نہ دینے پر وزیر علی نے غصے میں اس کا قتل کر دیا۔ وہ اپنے جان نثاروں کے ساتھ اعظم گڑھ بھاگا اور اب جنگلوں میں مارا مارا پھر رہا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ کسی طرح نیپال پہنچ کر افغانی حملے کا انتظار کرے اور اپنی طاقت بڑھا کر سعادت علی کو معذول کرے اور اودھ پر قابض ہوکر انگریزوں کو ہندوستان سے نکال باہر کرے۔

ابھی یہ گفتگو چل رہی تھی کہ ایک سپاہی نے آ کر بتایا کہ دور سے گھوڑوں کی ٹاپوں کی آواز سنائی دیتی ہے جو اسی طرف بڑھ رہی ہے۔ انھوں نے ایک سوار کو آتے دیکھا اور گمان کیا کہ وزیر علی کا کوئی آدمی ہو گا جو اس کے ٹھکانے کا بتا کر اس کی گرفتاری میں مدد کرنے کی غرض سے آیا ہے۔ اس گھڑ سوار نے آگے بڑھ کر کرنل سے اکیلے میں بات کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ وزیر علی نے کرنل سے یہاں خیمے لگانے اور لاؤ لشکر لانے کی وجہ دریافت کی جس پہ کرنل نے بتایا کہ یہ سب وزیر علی کے لیے ہے۔

Advertisement

سوار نے کرنل سے وزیر علی کی گرفتاری کے لیے دس کارتوس مانگے جو کہ کرنل نے اسے خوشی خوشی دے دیئے۔کرنل نے سوار کا نام پوچھا تو سوار نے اپنا نام وزیر علی بتاتے ہوئے کرنل کا شکریہ ادا کیا اور اس کی جان بخش دی کہ اس نے اسے دس کارتوس دیے تھے۔کرنل یہ سن کر ہکا بکا رہ گیا۔ جب لیفٹیننٹ نے آ کر پوچھا کہ کون تھا تو کرنل بس یہ کہنے پہ مجبور ہو گیا کہ ایک جان باز سپاہی۔ یوں ہم اس مکالمے کے ذریعے وزیر علی کی بہادری کی داستان جان سکتے ہیں۔

⭕️غور کریں:

ہر شخص کو اپنے وطن سے محبت کرنی چاہیے۔ حب الوطنی من الایمان: وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے۔ وطن سے محبت کرنے والے، وطن کی خاطر شہید ہونے والے کبھی مرتے نہیں ہے۔ وہ تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتے ہیں۔ اور زمانہ ہمیشہ ان کی قدر کرتا ہے۔

Advertisement

⭕️ سوالات و جوابات:

سوال1: وزیر کے کارنامے سن کر کس کے کارنامے یاد آتے ہیں؟

جواب: وزیر کے کارنامے سن کر رابن ہڑ کے کارنامے یاد آتے ہیں۔

سوال2: سعادت علی کو انگریزوں نے اودھ کے تخت پر کیوں بٹھایا؟

جواب: انگریزوں نے سعادت علی کو اودھ کے تخت پر اس لیے بٹھا دیا تھا کہ وہ انگریزوں کا دوست تھا۔اور بہت عیش پسند آدمی تھا۔ اس نے آدھی ملکیت بھی انگریزوں کو دے دی تھی اور دس لاکھ روپئے نقد بھی دئیے تھے۔

Advertisement

سوال3: سعادت علی کیسا آدمی تھا؟

جواب: سعادت علی دراصل بہت عیش پسند آدمی تھا۔

سوال4: کرنل سے کارتوس مانگنے والا سوار کون تھا؟

جواب: کرنل سے کارتوس مانگنے والا سوار دراصل وزیر علی تھا۔ جو انگریزوں کا بہت بڑا دشمن تھا۔

Advertisement

سوال5: مکالمہ کسے کہتے ہیں؟

جواب: دو لوگوں کے درمیان کی گفتگو مکالمہ کہلاتی ہے۔

⭕️ مندرجہ ذیل لفظوں سے جملے بناؤں:
﴿تخت خلاف پاک بہادر جاں باز وظیفہ اسکیم﴾

تخت تخت پر وہی بیٹھتا ہے جسے خدا چاہے۔
خلاف بے ایمانی کے خلاف آواز اٹھانی چاہیے۔
پاک ہمیشہ پاک رہنا چاہئے۔
بہادر دشمن کو معاف کرنے والا بہادر ہوتا ہے۔
جاں باز ہمیں اپنے مزہب، ملک اور قوم کے لیے جاں باز ہونا چاہیے۔
وظیفہ قابل شخص کو ہی وظیفہ ملتا ہے۔
اسکیم اسکیم بنا کر ہی ہر کام کرنا چاہئے۔

⭕️ واحد کی جمع بناؤ:

واحدجمع
شکایتشکایات
فوجافواج
سلطانسلاطین
جنگلجنگلات
وظیفہوظائف
وزیروزرا

⭕️ مندرجہ ذیل جملوں میں صحیح لفظوں سے خالی جگہوں کو بھائیے۔

1۔ سنا ہے یہ وزیر علی افغانستان کے بادشاہ شاہ زمان کو ہندوستان پر…..حملہ…..کرنے کی دعوت دے رہا ہے۔ (حملہ/لڑائی/قبضہ)
2۔ وزیر علی کے دل میں انگریزوں کے خلاف….. نفرت….. کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ (نفرت/برائی/محبت)
3۔ وزیر علی کی گرفتاری….. بہت مشکل ہے۔ (معزولی/جان بخشی/گرفتاری)

Advertisement

⭕️ عملی کام:

سوال: اپنے استاد سے تین شہیدانِ وطن کے نام معلوم کرکے اپنی کاپی پر لکھئے؟

  • 1۔ شہید اشفاق اللہ خاں
  • 2۔ شہید بریگیڈئیر عثمان علی
  • 3۔ شہید عبدالحمید

⭕️ ڈرامہ “کارتوس” کے پانچ مکالمے لکھو۔

1۔ آصف الدولہ کا بھائی ہے۔ وزیر علی کا چچا اور اس کا دشمن، در اصل نواب آصف الدولہ کے ہاں لڑکے کی کوئی امید نہیں تھی، وزیر علی کی پیدائش کو سعادت علی نے اپنی موت خیال کیا۔
2۔ افغانستان کو حملہ کی دعوت سب سے پہلے اصل میں ٹیپو سلطان نے دی، پھر وزیر علی نے بھی اسے دہلی بلایا اور شمش الدولہ نے بھی۔
3۔ نواب بنگال کا نسبتی بھائی بہت خطرناک آدمی ہے۔
4۔ بہادر نہ ہوتا تو یوں کمپنی کے وکیل کو قتل کر دیتا۔
5۔ ہماری فوجیں اور نواب سعادت علی خان کے سپاہی بڑی سختی سے اس کا پیچھا کر رہے ہیں، ہمیں اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ انہیں جنگلوں میں ہیں۔

Advertisement

⭕️ حبیب تنویر کی حالات زندگی:

  • اصل نام : حبیب احمد خاں
  • قلمی نام : حبیب تنویر
  • تخلص : تنویر
  • پیدائش : 1923ء میں ہوے۔
  • وفات : 2009ء میں ہوا۔
  • تعلیم : ناگپور یونیورسٹی سے بی اے کیا۔
  • ملازمت : آل انڈیا ریڈیو میں ملازمت کی۔
  • حبیب تنویر شروع سے ہی ادبی ذوق و شوق رکھتے تھے۔ لندن اور جرمنی جاکر ڈرامے کی تکنیک پر مہارت حاصل کی۔ اور کئی ڈرامے لکھے جو ہندوستان کے علاوہ یورپ کے کئی اسٹیجوں پر کھیلے گئے۔ حبیب تنویر کے کئی ڈرامے عالمی سطح پر بھی مشہور ہوۓ۔ حبیب تنویر نے کئی فلموں میں گیت اور کئی فلموں میں مکالمے بھی لکھے ہیں۔

حبیب تنویر نے قدسیہ زیدی کی ہندوستانی تھیٹر کمپنی میں شامل ہو گۓ۔
حبیب تنویر کا سب سے بڑا اور اہم کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنے ڈرامے کے ذریعے چھتیس گڑھ کے لوک کلاکاروں کو قومی سطح پر مشہور بنا دیا۔

حبیب تنویر کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر کئی انعامات اور اعزازات سے نوازا گیا۔ حبیب تنویر کے لکھے ہوئے ڈرامے ہندی، مراٹھی، بنگالی اور یورپ کی کئی زبانوں میں ترجمہ کیے گئے ہیں۔

Advertisement
تحریر ارمش علی خان محمودی بنت طیب عزیز خان محمودی⭕️