Advertisement

غزل کی تشریح:

دنیا میری بلا جانے مہنگی ہے یا سستی ہے
موت ملے تو مفت نہ لوں ہستی کی کیا ہستی ہے

اس شعر میں شاعر نے صنعت تضاد کو خوبصورتی سے برتتے ہوئے یہ کہا ہے کہ مجھے کچھ معلوم نہیں ہے کہ آیا یہ دنیا مہنگی ہے کہ سستی ہے۔اگر اس سستی یا مہنگی دنیا میں مجھے مفت میں بھی موت ملے تو میں تب بھی نہ لوں گا۔کیونکہ اس ہستی کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔

آبادی بھی دیکھی ہے ویرانے بھی دیکھے ہیں
جو اجڑے اور پھر نہ بسے دل وہ نرالی بستی ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں بہت کچھ دیکھا ہے۔کبھی آبادی بھی دیکھنے کو ملی ہے تو کہیں ویرانے بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ مگر دل وہ ایک واحد اور نرالی بستی ہے کہ جو ایک بار اجڑ جائے وہ دوبارہ بسنا ناممکن ہوتا ہے۔

Advertisement
جان سی شے بک جاتی ہے ایک نظر کے بدلے میں
آگے مرضی گاہک کی ان داموں تو سستی ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جان ایک ایسی حقیر شے ہے کہ کبھی کبھی اس کی قیمت فقط ایک نظر ہوتی ہے۔انسان ایک نظر کے بدلے اکثر اپنے دل و جان کسی پر قربان کر بیٹھتا ہے۔ آگے لینے والے یعنی محبوب کی مرضی ہوتی ہے کہ وہ اسے خریدے یا نہ حالانکہ ان داموں یہ سودا ہے تو بہت سستا ہے۔

Advertisement
جگ سونا ہے تیرے بغیر آنکھوں کا کیا حال ہوا
جب بھی دنیا بستی تھی اب بھی دنیا بستی ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ تمھارے بغیر اے محبوب میری دنیا بالکل سونی اور اداس ہے۔ تمھیں دیکھے بغیر میری آنکھوں کا کیا حال ہے۔ مگر یہ دنیا تو تب بھی آباد تھی بس رہی تھی اب بھی بس رہی ہے۔بس اس میں خوشی اور سکون مفقود ہے۔

Advertisement
آنسو تھے سو خشک ہوئے جی ہے کہ امڈا آتا ہے
دل پہ گھٹا سی چھائی ہے کھلتی ہے نہ برستی ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ جو آنسو میری آنکھوں میں تھے وہ اب سوکھ چکے ہیں۔مگر اس کے باوجود دل ہے کہ وہ بار بار رونے کو امڈ آتا ہے۔دل پہ اداسی کی ایک ایسی گھٹا سی چھائی ہوئی ہے کہ نہ تو یہ اداسی مٹتی ہے اور نہ ہی یہ گھٹا کھل کر برستی ہے۔

دل کا اجڑنا سہل سہی بسنا سہل نہیں ظالم
بستی بسنا کھیل نہیں بستے بستے بستی ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ اے ظالم محبوب دل کا اجڑنا تو بہت آسان ہے مگر اس دل کا بسنا یا کسی کو دل میں بسانا آسان نہیں ہے۔نہ۔ہی اجڑے دل کو دوبارہ سے آباد کرنا آسان ہے۔اس کی مثال ایسے ہی ہے کہ جیسے کسی بستی کا بسانا کوئی کھیل یا آسان کام نہیں ہوتا ہے بلکہ نہ جانے کتنے ہی عرصے میں بستے بستے یہ بستی آباد ہوتی ہے۔

Advertisement
فانیؔ جس میں آنسو کیا دل کے لہو کا کال نہ تھا
ہائے وہ آنکھ اب پانی کی دو بوندوں کو ترستی ہے

اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ میری وہ آنکھیں جن میں آنسوؤں تو کیا دل کے ارمانوں کا لہو بھی آنسو بن کر برسا کرتا تھا۔اب میری وہی آنکھیں پانی کی دو بوندوں کے لیے بھی ترس رہی ہیں۔

سوالوں کے جواب لکھیے:

سوال نمبر01:شاعر نے دل کو نرالی بستی کیوں کہا ہے؟

شاعر نے دل کو نرالی بستی اس لیے کہا ہے کہ انسانی دل وہ ایک نرالی بستی ہے کہ اگر وہ ایک بار اجڑ جائے تو اسے دوبارہ بسانا ایک ناممکن سی بات ہوتی ہے۔

Advertisement

سوال نمبر02:’ہستی کی کیا ہستی ہے’ سے شاعر کی کیا مراد ہے؟

اس سے شاعر کی مراد ہے کہ کسی ہستی کی بھلا کیا اہمیت ہے۔

سوال نمبر03:’بستی بسنا کھیل نہیں،بستے بستے بستی ہے’ اس مصرعے میں پہلے لفظ بستی اور دوسرے لفظ بستی کے فرق کو واضح کریں۔

اس مصرعے میں پہلے لفظ بستی سے مراد چھوٹا سا علاقہ گاؤں یا گھر ہے۔جبکہ دوسری بستی سے مراد بسنا یا آباد ہونا ہے۔

Advertisement

عملی کام:

اس غزل کے قافیوں کی نشاندہی کیجیے۔

سستی،ہستی،بستی، برستی،ترستی، وغیرہ۔

ذیل کے الفاظ کو جملوں میں استعمال کیجیے۔

جگاللہ اس سارے جگ کا خالق و مالک ہے۔
بستی احمد شہر سے دور ایک بستی میں رہتا تھا۔
گھٹادیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر کالی گھٹا چھا گئی۔
سہلنت نئی مشینوں نے انسانی زندگی کو بہت سہل بنا دیا ہے۔
کال تھر کے علاقے میں ہر سال پانی اور خوراک کا کال پیدا ہو جاتا ہے۔
لہوشہیدوں کا لہو کبھی رائیگاں نہیں جاتا ہے۔
Advertisement

Advertisement