Advertisement
  • کتاب” جان پہچان”برائے نویں جماعت
  • سبق نمبر11:نظم
  • شعر کا نام: اسماعیل میرٹھی
  • نظم کا نام: ایک پودا اور گھاس

تعارف شاعر:

محمد اسماعیل نام ، اسمعیل تخلص تھا۔ میرٹھ میں پیدا ہوئے۔ اس دور کے رواج کے مطابق انھوں نے ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی۔ میرٹھ کے ایک عالم، رحیم بیگ سے فارسی زبان کی اعلی تعلیم پائی۔ انگریزی زبان میں بھی مہارت حاصل کر کے انجینئر نگ کا کورس پاس کیا۔ قوم کے بچوں کی تعلیم میں دل چسپی کی وجہ سے انھوں نے معلمی کا پیشہ اختیار کیا۔

اپنے عہد کے اہم شاعروں مثلا حالی اور شبلی کی طرح مولوی اسمعیل میرٹھی نے بھی اپنی شاعری کو بڑوں اور بچوں دونوں کے لیے تعلیم وتربیت کا ذریعہ بنایا اور درسی کتابیں بھی لکھیں۔ انھوں نے سادہ اور سلیس زبان میں اردوسکھانے کے ساتھ ساتھ ان کتابوں میں اخلاقی موضوعات کو اس خوبی سے شامل کیا کہ پڑھنے والے تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کے زیور سے بھی آراستہ ہوسکیں۔ اسمعیل میرٹھی نے ایسی نظمیں لکھی ہیں جوصرف بچوں کے لیے ہیں اور ہر عہد میں ان کی معنویت اور افادیت برقرار رہی ہے۔ ان کا کلام” کلیات اسمعیل‘‘ کے نام سے شائع ہو چکا ہے۔

نظم ایک پودا اور گھاس کی تشریح:

اتفاقاً ایک پودا اور گھاس
باغ میں دونوں کھڑے ہیں پاس پاس

یہ شعر اسماعیل میرٹھی کی نظم "ایک پودا اور گھاس” سے لیا گیا ہے۔ اس نظم میں گھاس اور پودے کے درمیان ڈرامائی انداز میں تقابل پیش کیا گیا ہے۔ اس شعر میں شاعر کہتا ہے کہ ایک روز اتفاقا ایک پودا اور گھاس ساتھ ساتھ کھڑے تھے۔وہ دونوں ایک باغ میں اور قریب قریب موجود تھے۔

گھاس کہتی ہے کہ اے میرے رفیق
کیا انوکھا اس جہاں کا ہے طریق

شاعر کہتا ہے کہ گھاس نے پودے کو مخاطب کر کے کہا کہ اے میرے ساتھی، دوست اس دنیا کے کیا عجیب و غریب طریقے کار ہیں۔

ہے ہماری اور تمہاری ایک ذات
ایک قدرت سے ہے دونوں کی حیات

گھاس کہتی ہے کہ تمھارا اور میرا ایک ہی برادری سے تعلق ہے۔یعنی ہم دونوں ہی پودوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اللہ کی طرف سے ہم دونوں کو ایک ہی جیسی زندگی بھی عطا کی گئی ہے۔

مٹی اور پانی ہوا اور روشنی
واسطے دونوں کے یکساں ہے بنی

شاعر کے مطابق گھاس کہتی ہے کہ ہماری زندگی اور نشوونما کے لیے مٹی،ہوا،پانی اور روشنی ہیں۔ یہ عناصر ہم دونوں میں سے کسی ایک جے لیے نہیں بلکہ دونوں کے لیے برابر اور یکساں ضروری ہیں۔

تجھ پہ لیکن ہے عنایت کی نظر
پھینک دیتے ہیں مجھے جڑ کھود کر

شاعر کہتا ہے کہ گھاس پودے کو یوں مخاطب کرتی ہے کہ جب ہم دونوں کی زندگی یکساں ہے تو پھر نجانے کیوں تم پر مجھ سے زیادہ مہربانی اور کرم کی نظر کی جاتی ہے۔جبکہ مجھے لوگ باآسانی جڑ سے کھود کر نکال باہر پھینکتے ہیں۔

سر اٹھانے کی مجھے فرصت نہیں
اور ہوا کھانے کی بھی رخصت نہیں

گھاس اپنا دکھ یوں بیان کرتی ہے کہ میں تو اس قدر بے ضرر ہوں کہ مجھے سر اٹھانے کی بھی فرصت میسر نہیں ہے۔مجھے ہوا کھانے کی بھی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔

کون دیتا ہے مجھے یاں پھیلنے
کھا لیا گھوڑے گدھے یا بیل نے

گھاس کہتی ہے کہ مجھے تو یہاں پر کوئی پھلنے پھولنے کی اجازت بھی نہیں دیتا ہے۔میں اس قدر غیر اہم اور غیر ضروری ہوں کہ کسی کا بھی گھوڑا ، بیل ، گدھا یا کوئی بھی اور جانور مجھے باآسانی کھا کر خراب اور ختم کر دیتا ہے۔

تجھ پہ منہ ڈالے جو کوئی جانور
اس کی لی جاتی ہے ڈنڈے سے خبر

گھاس اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے پودے سے کہتی ہے کہ مجھے تو باآسانی کوئی بھی جانور کھا کر ختم کر سکتا ہے۔ لیکن اگر تم پر کوئی جانور غلطی سے بھی منھ مار لے تو لوگ باقاعدہ ڈنڈے سے اس کی خبر گیری کرتے ہیں۔

اولے پالے سے بچاتے ہیں تجھے
کیا ہی عزت سے بڑھاتے ہیں تجھے

گھاس پودے کو کہتی ہے کہ لوگوں کی زندگیوں میں تمھاری اہمیت تو اس قدر ہے کہ تمھیں وہ موسم کی شدت یعنی اولے پڑنے اور سردی وغیرہ سے بچانے کے لیے بھی لاکھ جتن کرتے ہیں۔وہ تمھیں انتہائی عزت، پیار اور محبت سے بڑا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

چاہتے ہیں تجھ کو سب کرتے ہیں پیار
کچھ پتا اس کا بتا اے دوست دار

گھاس پودے سے کہتی ہے کہ سب لوگ تم سے پیار کرتے ہیں اور تمھیں بے انتہا چاہتے ہیں۔ اے دوست مجھے بھی اس کا راز بتاؤ کہ اس کی کیا وجہ ہے کہ وہ تم پر اس قدر مہربان ہیں جبکہ میری اہمیت نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس سے پودے نے کہا یوں سر ہلا
گھاس سب بے جا ہے تیرا یہ گلہ

گھاس کے سب گلے شکوے سننے کے بعد یہ پودا گھاس کی شکایت کے جواب میں یوں گویا ہوا کہ اے گھاس تمھارا سب گلہ شکوہ سچ ہے۔ تمھاری حرف بہ حرف بات صیح ہے۔

مجھ میں اور تجھ میں نہیں کچھ بھی تمیز
صرف سایہ اور میوہ ہے عزیز

پودا اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے کہتا ہے کہ تم میں اور مجھ میں کچھ فرق نہیں ہے۔ ہم دونوں کا تعلق ایک نسل سے ہے۔ ضروریات ایک سی ہیں۔لیکن ہم میں جو بنیادی فرق ہے وہ یہ ہے کہ لوگوں کو محض میرا سایہ اور پھل درکار ہوتا ہے۔ اس لیے وہ مجھے عزیز رکھتے ہیں۔

فائدہ اک روز مجھ سے پائیں گے
سایہ میں بیٹھیں گے اور پھل کھائیں گے

پودا کہتا ہے کہ لوگوں کا مجھے عزیز جاننے کا مقصد یہی ہے کہ ایک دن انہیں مجھ سے فائدہ حاصل ہو گا۔ وہ آرام سے میرے سایہ میں بیٹھیں گے اور مجھ سے حاصل ہونے والا پھل کھائیں گے۔

ہے یہاں عزت کا سہرا اس کے سر
جس سے پہنچے نفع سب کو بیشتر

شاعر نے نظم کے آخر میں پودے اور گھاس کی گفتگو سے یہ سبق دیا ہے کہ یہاں اس دنیا میں لوگ اسی کو عزت دیتے ہیں۔ جن سے انھیں کوئی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ باقی سب کو وہ ہمیشہ غیر اہم ہی جانتے ہیں۔

سوچیے اور بتایئے:-

نظم میں گھاس نے پودے سے کیا کہا؟

گھاس نے پودے سے کہا کہ ہم دونوں کا تعلق اگرچہ ایک ہی نسل سے ہے اور ہماری ضرورت بھی ایک سی ہے کہ جو ہوا،پانی ،روشنی، مٹی تمھیں درکار ہوتی ہے وہی مجھے بھی درکار ہے۔ پھر نجانے کیوں لوگ مجھے اگنے نہیں دیتے،جڑ سے اکھاڑ پھینکتے ہیں یا ان کے جانور مجھے کھا جاتے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف تمھاری نگہداشت کے لیے اتنے جتن کیے جاتے ہیں۔

پودے پر عنایت کی نظر ہونے سے کیا مراد ہے؟

پودے پر عنایت کی نظر ہونے سے مراد یہ ہے کہ پودے کا لوگ خاص خیال رکھتے اور اسے خصوصی توجہ دیتے ہیں۔

پودے نے گھاس کی شکایت کو بے جا کیوں کہا؟

پودے نے گھاس کی شکایت کو غلط یا بے جا اس لیے کہا کہ گھاس اور پودے میں کوئی فرق موجود نہیں ہیں۔ دونوں کی ضروریات ایک سی ہیں۔لیکن لوگ محض اپنے نفع کے لیے پودے کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔

دنیا میں عزت کا سہرا کس کے سر بندھتا ہے؟

دنیا میں ہمیشہ عزت کا سہرا اسی کے سر بندھتا ہے جس سے لوگ کسی طرح کا فائدہ اٹھا سکتے ہوں۔ باقی لوگوں کی حیثیت اور اہمیت ثانوی ہوتی ہے۔

عملی کام:-

نیچے لکھے ہوئے مصرعوں کو مکمل کیجیے:

مٹی اور پانی ہوا اور روشنی
واسطے دونوں کے یکساں ہے بنی
اس سے پودے نے کہا یوں سر ہلا
گھاس سب بے جا ہے تیرا یہ گلہ

نیچے لکھے ہوئے لفظوں کو جملوں میں استعمال کیجیے:

اتفاقاًاتفاقاً اس پر میری نظر پڑ گئی۔
نفع تجارت ایک نفع بخش کاروبار ہے۔
تمیزاحمد ایک تمیز دار بچہ ہے۔
بیشتراحمد بیشتر لائبریری میں پایا جاتا ہے۔
رفیقدانیال اور علی بہترین رفیق ہیں۔

اس نظم سے محاورے چن کر لکھیے.

اس نظم میں عزت کا سہرا اور دوست دار الفاظ بطور محاورہ استعمال ہوئے ہیں۔