دیوالی پر ایک مضمون

دیوالی ہندوؤں کا ایک مشہور اور قدیم تہوار ہے اور سارے ہندوستان میں بڑی دھوم دھام سے منایا جاتا ہے۔عام عقیدہ یہ ہے کہ جب شری رام چندر جی لنکا فتح کرنے کے بعد سیتا جی کو ساتھ لے کر واپس اجودھیا لوٹے تو لوگوں نے بے حد خوشی منائی۔گھر گھر دیپ جلائے گئے۔اس دن کی یاد میں یہ تہوار اب ہر سال منایا جاتا ہے۔رات کو مکانوں، دکانوں اور دیواروں پر چراغ، شمع، بجلی کے قمقمے اور دیے جلائے جاتے ہیں۔یہ ایک دلکش نظارہ ہوتا ہے جسے ہزاروں لوگ دیکھنے کے لیے بازاروں مندروں وغیرہ میں جاتے ہیں۔

بعض لوگوں کا خیال ہے کہ یہ ایک موسمی تہوار ہے۔برسات کے موسم میں کیڑے مکوڑے پیدا ہو جاتے ہیں جن میں سے بعض زہریلے بھی ہوتے ہیں اس لیے برسات کے عین بعد اور سردی کا موسم شروع ہونے پر گھر کی صفائی نہایت ضروری ہے یہی وجہ ہے کہ دیوالی کے موقع پر لوگ مکانوں دکانوں کی سفیدی کرواتے ہیں۔جس سے دیواروں کے ساتھ چمٹے ہوئے جراثیم اور کونے کونے میں چھپے ہوئے کیڑے مکوڑے مر جاتے ہیں۔اس سے بیماری کا خطرہ ٹل جاتا ہے۔

دیوالی کے تہوار پر لوگ نئے کپڑے پہنتے ہیں، گھروں کو آراستہ پیراستہ کیا جاتا ہے،ہر گھر میں مٹھائی آتی ہے جسے کھا کر بچے بڑھے سب لطف اٹھاتے ہیں۔رات کو لکشمی کی پوجا کی جاتی ہے کیونکہ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ دیوالی کے دن جس گھر میں لکشمی کی پوجا ہوتی ہے وہاں دھن دولت کی کمی نہیں رہتی۔اس لیے بہت سے ہندو رات کو اس دیوی کی پرستش کرتے ہیں۔دوکاندار نئے کھاتے کھولتے ہیں اور اس کو نیک فال سمجھتے ہیں ان کا اعتقاد ہے کہ سال بھر وہ خوب نفع کمائیں گے اور ان کا کاروبار ترقی کرے گا۔

دیوالی کے تہوار کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ اس دن شام پڑتے ہی پٹاخے چھوڑنے شروع ہوجاتے ہیں۔گلیوں، بازاروں میں بچوں کی ٹولیاں جابجا گل پھلجڑیاں چھوڑتی، بم چلاتی، مہتابی اور چھنچھور پھینکتی دکھائی دیتی ہیں۔اس روشنی کے تہوار میں غضب کا نظارہ ہوتا ہے۔بازاروں اور سڑکوں پر بھیڑ ہوتی ہے، کھوے سے کھوا چھلتا ہے۔منڈیروں پر، چھتوں پر، دروازوں پر، کھڑکیوں میں غرض ہر جگہ موم بتیاں یادیو کی قطاریں منور ہوتی ہیں۔بجلی کے قمقموں کی لڑیاں مختلف رنگوں کی عجب بہار پیدا کرتی ہیں۔نیلا، سفید، سرخ، ہرا، ہر رنگ اپنا سماں باندھتا ہے۔اسی وجہ سے اس تہوار کو روشنیوں کا تہوار بھی کہا جاتا ہے۔

Close