احساسِ ذمہداری پر مضمون

  • انسان جب اس دنیا کی زندگی میں قدم رکھتا ہے تو ہزار ذمے داریوں کو اپنے ساتھ لے کر آتا ہے۔ گویا زندگی کی تعبیر ذمہ داریاں ہی ہیں اور وہ بھی اس قدر الگ الگ بلکہ متضاد کہ ان کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا۔ قرآن پاک میں مختلف آیتوں میں انسان کی ذمہ دارانہ ہستی کا بیان کیا گیا ہے۔ سورۃ مومن میں ارشاد فرمایا ہے کہ :”کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ یوںہی بے کار اور مہمل چھوڑ دیا جائے گا”۔
  • سورۃ قیامہ میں ارشاد ہے کہ :”کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ وہ یوںہی بے کار اور مہمل چھوڑ دیا جائے گا” اور سورۃ بلد میں فرمایا”بےشک ہم نے انسان کو بڑی محنت اور مشقت میں رہنے والا انسان بنایا ہے” ۔ اور فرمایا کہ”ہم نے بارِ امانت آسمانوں، زمین اور پہاڑوں کے روبرو پیش کیا، مگر انہوں نے اسے اٹھانے سے انکار کردیا اور اس ذمہ داری سے ڈرگئے ، مگر انسان نے اسے اٹھالیا” یہاں امانت سے یہی ذمے داریاں اور فرائض مراد ہیں جو اللہ تعالیٰ کی جانب سے انسان پر عائد ہوتے ہیں۔
  • ہمارے علم کے مطابق اس کائنات میں اللہ تعالیٰ کی اور کوئی ایسی مخلوق نہیں جو ذمے داریوں کا بوجھ اٹھانے اور ان سے بہ حسن و خوبی سبکدوش ہوجانے میں انسان کی برابری کرسکے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں وہ صلاحیت و استعداد پیدا کی ہے جس کی بدولت وہ ان ذمہ داریوں کو نہ صرف برداشت کرسکتا ہے بلکہ اچھے طریقے سے انجام بھی دیتا ہے۔
  • ہر انسان پر الگ الگ اور متضاد ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ انفرادی ، خاندانی، معاشرتی، قومی اور ملکی۔ اُن میں سے بعض وہ ہیں جو کسی کے بتائے بغیر معلوم ہو جاتی ہیں اور بعض بتانے سے معلوم ہوتی ہیں۔ ان ذمے داریوں کا معلوم ہونا، پھر ان کو نبھانے کا احساس پیدا ہونا ،پھر صحیح طریقے سے انہیں عملی طور پر اترنا اور منزل تک پہنچنے اور گوہر مراد حاصل کرنے کے لئے اس کو پورا کرنا بہت ضروری ہے۔ اگر عملی قدم نہ اٹھایا جائے تو کامیابی ممکن ہی نہیں ہو سکتی۔ اسی لئے اسلام نے ان تینوں پر زور دیا ہے۔
  • اس وقت زیر بحث ایک خاص قسم کی ذمہ داری کا جو آجری اور محنتکشی سے متعلق ہے۔ ایک مقبول آیت سورۃ النساء میں یہ فرمایا گیا ہے کہ :”اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ جس کی امانت ہے اس کو واپس کر دی جائے۔”
  • آیت نے اصولی طور پر رہنمائی فرمادی، کیونکہ آجر اور محنت کش کے درمیان جو معاملہ ہوتا ہے، وہ بھی ایک امانت اور ذمہ داری ہے۔ لہٰذا آجرکی جو ذمہ داریاں ہیں، وہ انہیں بہ حسن و خوبی پورا کرے اور مزدور کو ان کی اپنی ذمہ داریاں اچھے طریقے سے ادا کرے، نہ کوئی کسی کا حق مارے، نہ ظلم کرے اور نہ کسی کو نقصان پہنچائے۔
  • قرآن کریم کی اس اصولی ہدایت کی تفصیلات حضور اکرمﷺ نے بیان فرمائی ہیں۔ چنانچہ آجر کی ذمہ داریوں کو صرف ایک حدیث میں بیان فرمادیا گیا ہے :” مزدور کی مزدوری اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے دے دی جائے” اور اس کی اجرت و مزدوری میں ہر وہ حق اور سہولت داخل ہے جو دونوں کے درمیان طے ہوئی تھی۔ اب مطلب یہ ہو گا کہ مزدور، خادم اور ملازم کے تمام حقوق وقت پر ادا کرنا آجر اور مالک کی ذمہ داری ہے کہ اس کے اندر کوتاہی خیانت ِ مجرمانہ ہوگی ، جس کا لازمی اثر دنیاوی زندگی میں یہ ہوگا کہ معاملات اور کاروبار میں نہ ترقی ہوگی، نہ برکت۔ اور طبقاتی نفرت قوم کے اندر ظاہر ہونے لگے گی، جس کی نحوست میں پورا معاشرہ مبتلا ہوجائے گا۔ اسی طرح اس خیانت کا نتیجہ آخرت میں بھی خطرناک صورت میں سامنے آئے گا۔ شافع محشر، نبی اکرم ﷺ اس کے خلاف بارگاہ رب العزّت میں استغاثہ دائر فرمائیں گے کہ میرے رب! اس خائن کو پوری پوری سزادے۔
  • اس تحریر میں احساسِ ذمے داری کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے اور ہر شعبۂ زندگی میں فرض شناسی اور احساسِ ذمے داری کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ ظاہر ہے جس معاشرے میں فرض شناسی کا جذبہ مفقود ہوتا ہے اور احساس ذمے داری نہیں ہوتا ہے وہ ایک کامیاب اور متوازن معاشرہ نہیں کہلا سکتا ہے۔ ہر شعبہ زندگی میں احساسِ ذمے داری کو اپنانا ایمان اور بندگی کا تقاضا ہے۔

نمازوں کی ادائیگی کی ذمہ داری

حضرت عبادہ ابن صامتؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا: پانچ نمازیں اللہ تعالیٰ نے فرض کی ہیں، جو ان کا وضو اچھی طرح بناۓ اور انہیں درست وقت پر ادا کرے اور ان کا رکوع وسجود پورا اور صحیح ڈھنگ سے ادا کرے اور جو اس کی پابندی کرے گا اللہ کا وعدہ ہے کہ اسے شخص کو بخش دیا جائے گا اور جو ایسا نہ کرے گا تو اس کے لیے اللہ کا وعدہ یہ ہے کہ جہنم کا عذاب دیا جائے گا ۔

قرآن کی پیروی کی ذمہ داری

حضرت ابن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا، جس نے قرآن سیکھا، پھر اس کی اتباع کی، اللہ تعالیٰ اسے دنیا میں گمراہی سے بچائے گا اور قیامت کے دن سخت عذاب سے محفوظ رکھے گا، ایک روایت میں ہے کہ جو قرآن کی پیروی کرے گا، وہ دنیا میں گم راہ اور آخرت میں بدبخت نہ ہوگا، پھر آپ ﷺ نے یہ آیت تلاوت میں ارشاد فرمایا کہ جو میری ہدایت کی اتباع کرے، وہ نہ کبھی گم راہ ہو گا اور نہ ہی بدنصیب۔

دین کو پھلانے کی ذمہ داری

رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو دین کو پھلاۓ گا اس کے گھر میں کبھی بھی رزق کی تنگی نہیں ہوگی ۔ اس کے گھر میں ہمیشہ خیر و برکت ہوگی ۔ اور اس کی ہر دعا قبول ہو جائے گی۔ اور آخرت میں بھی اس کو بخش دیا جائے گا ۔

نمازیوں کے لیے بشارت کی ذمہ داری

حضرت بریدہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: ان لوگوں کو قیامت کے دن پوری روشنی کی خوش خبری سنادو، جو اندھیروں میں مسجدوں کو جاتے ہیں۔‘‘ اور دوسرے لوگوں کو بھی لیکر جاتا ہے۔

نیکی کی دعوت دینے کی ذمہ داری

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا، جو ہدایت کی طرف بلائے، اسےتمام عمل کرنے والوں کی طرح ثواب ملے گا اور اس کے اپنے ثواب سے کچھ کم نہ ہوگا اور جو گم راہی کی طرف بلائے گا تو اس پر تمام پیروی کرنے والے گمراہوں کے برابر گناہ ہوگا اور یہ ان کے گناہوں سے کچھ کم نہ کرے گا۔”

Advertisements