عید پر ایک مضمون

عید کے معنی خوشی کے ہیں۔یہ خوشی کا تہوار ہے جو مسلمان مناتے ہیں۔عیدیں سال میں دو ہیں، عید الفطر اور عید الضحیٰ۔

عیدالفطر

وہ عید ہے جو رمضان کے روزوں کے خاتمے پر منائی جاتی ہے۔فطر کے معنی ہیں کھولنا۔اس لئے جب ماہ رمضان کے تیس روزے ختم ہو جاتے ہیں تو ماہ شوال کی پہلی تاریخ کو روزے کھول دیے جاتے ہیں اور عید منائی جاتی ہے۔اس عید پر اہل اسلام اس بات کے لیے اللہ پاک کا شکر ادا کرتے ہیں کہ ان کے روزے بخریت انجام پائے اور انہوں نے عبادت کرکے خدا تعالیٰ کی رضامندی حاصل کی۔رمضان کے آخری دن شام کو ہلالِ عید دکھائی دیتا ہے تو اس کا اعلان نقاروں کو بجا کر کیا جاتا ہے۔اور لوگ خوشی سے پھولے نہیں سماتے ایک دوسرے کو عید مبارک کہتے ہیں۔اگلی صبح عمدہ کھانے خاص طور پر سویاں تیار کی جاتی ہیں۔اس دن ہر کمانے والا بالغ مسلمان اپنی اور اپنے اہل و عیال کی طرف سے صدقہ فطر غریبوں اور محتاجوں کو دیتا ہے۔

روزہ رکھنے سے مسلمان پر یہ بخوبی ظاہر ہوجاتا ہے کہ فاقہ کش کی حالت کیا ہوتی ہے۔اسی لیے وہ عید الفطر پر مسکینوں اور ناداروں میں حسب توفیق نقد و جنس خیرات کے طور پر تقسیم کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہے کہ یارب تو نے مجھے مفلسی اور فاقہ کشی سے بچایا۔میں تیرا صدق دل سے شکرگزار ہوں۔ روزہ سے روزہ دار کا دل اور جسم دونوں پاک ہو جاتے ہیں۔

عید کے دن مسلمان صاف ستھرے کپڑے پہنتے ہیں اور عید گاہ یا جامع مسجد میں جاکر نماز عید پڑھتے ہیں۔اس کے بعد وہ اپنے رشتہ داروں، دوستوں اور عزیزوں کی ملاقات کو جاتے ہیں۔خوشی سے ایک دوسرے کے گلے ملتے ہیں، دعوتیں کرتے ہیں،اور صدقہ و خیرات دیتے ہیں۔غریبوں محتاجوں کو کھانا کھلاتے ہیں،احباب کو تحفے بھی پیش کیے جاتے ہیں کئی جگہ میلے بھی لگتے ہیں اور خوب رونق ہوتی ہے۔

دوسری عید جس کا نام عید الاضحٰی ہے ماہ ذی الحج کی دسویں تاریخ کو منائ جاتی ہے۔یہ عیدالفطر کے دو ماہ اور دس دن بعد آتی ہے۔اس سے ایک دن پہلے تمام دنیا کے صاحب توفیق لاکھوں مسلمان مکہ معظمہ میں حج کا فریضہ ادا کرتے ہیں اور وہیں عید کا دن بھی مناتے ہیں۔اس عید کے دن مسلمان بھیڑ، بکری یا اونٹ وغیرہ کی قربانی کرتے ہیں۔اسی لیے اس عید کو عید قرباں، یا بقرعید، یا عیدالاضحیٰ کہتے ہیں۔”اضحیٰ” کے معنی ہیں قربانی۔در حقیقت یہ عید حضرت ابراہیم علیہ سلام کی قربانی کی یاد میں منائی جاتی ہے۔

کہتے ہیں کہ ایک رات حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خواب میں دیکھا کہ میں خدا کے حکم سے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو قربان کر رہا ہوں۔صبح ہوئی تو انہوں نے یہ خواب اپنے بیٹے سے بیان کیا۔ بیٹے نے عرض کی”آپ کا خواب سچا ہے آپ خدا تعالیٰ کا حکم بجا لائیں اور مجھے قربان کردیں تاکہ خداوند تعالی کی رضا حاصل ہو” اس پر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کو منہ کے بل لٹایا اور ذبح کرنے پر آمادہ ہوئے۔دو بار ذبح کرنے میں ناکام ہوئے تیسری بار جب بیٹے کی گردن پر وار کرنے والے ہی تھے تو غیب سے آواز آئی”اے ابراہیم یہ تو محض تیرا امتحان تھا اور تو اس امتحان میں پورا اترا ہے اس لیے اپنے بیٹے کو ذبح نہ کر”عین اسی وقت ایک دنبہ عالم غائب سے نمودار ہوا اور حضرت ابراہیم علیہ سلام نے اسے قربان کیا۔اسی قربانی کی یاد میں اہل اسلام قربانی کرتے ہیں اور خوشی مناتے ہیں اور ہر سال حضرت ابراہیم علیہ سلام کی قربانی کی یاد کو تازہ کرتے ہیں۔

یہ دونوں عیدیں مسلمانوں کے خوشی کے تہوار ہیں۔عیدالفطر تو رمضان کے مہینے کی روزہ داری کا فریضہ بخوبی انجام دینے کی خوشی میں منائی جاتی ہے اور عیدالاضحیٰ حج کے فریضہ کی ادائیگی کے شکرانے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قربانی کی یاد میں منائی جاتی ہے۔دونوں عیدوں کے موقع پر نماز عید کا جامع مسجد یا عید گاہ میں جماعت کے ساتھ پڑھنا ہر مسلمان پر واجب ہے۔اس کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ اس موقع پر زیادہ سے زیادہ برادران اسلام ایک جگہ اکٹھے ہوکر باہمی اتحاد اور الفت کا ثبوت دیتے ہیں۔

Close