فتح مکہ پر ایک مضمون

فتح مکہ اسلام کی تاریخ کا روشن باغ ہے۔ اللہ تبارک و تعالی نے اہل ایمان کو کامیابی عطا کی۔ جس شہر سے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کر کے مدینہ شریف تشریف لے گئے اور جہاں اہل مکہ نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو تکلیفیں پہنچائیں تھیں، کہیں کوڑے برسائے تو کہیں پتھر پھینکے۔ آج اسی شہر میں حضور جلوہ فراز ہو رہے ہیں۔ وہ دن کتنا روشن کتنا زیادہ شاندار تھا۔

مکہ فتح ہونے کے ایک دن قبل مکہ میں ابوسفیان کچھ پریشان اور بے چین ہو رہا تھا کہ جیسے کچھ برا ہونے والا ہے۔ ابو سفیان کی پریشانی کو دیکھ کر اس کی بیوی ہندہ نے پوچھا تمہیں کیا ہوا ہے؟ کیوں اتنے بے چین ہو؟ ابوسفیان بنا کوئی جواب دیئے گھر سے باہر نکل گیا اور مکہ کی گلیوں میں گھومتے گھومتے وہ اس کی حد تک نکل گیا۔ اچانک سے اس کی نظر ایک بہت بڑے میدان پر پڑی۔ اس میدان میں ہزاروں مشعلیں جل رہی تھیں۔ مشعلوں کی روشنی میں لوگوں کی چہل پہل صاف نظر آرہی تھی۔ عربی زبان میں دھیمی آواز آرہی تھی جیسے سیکڑوں لوگ کچھ پڑھ رہے ہوں۔ اس نے جاننے کی کوشش کی کہ یہ لوگ کون ہیں اور انکا کیا مقصد ہے؟

اتنا تو اس نے اندازہ لگا لیا تھا کہ یہ لشکر مکہ پر چڑھائی کرنے کے لیے آیا ہے۔ دھیرے دھیرے وہ لشکر کے قریب آگیا۔ جب اس نے قریب آکر دیکھا تو اس کے پہچان کے کئی لوگ لشکر میں شامل تھے جو مسلمان ہو چکے تھے اور مدینہ ہجرت کرچکے تھے۔ یہ سب دیکھ کر وہ سمجھ گیا کہ یہ لشکر مسلمانوں کا لشکر ہے اور یقیناً محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جانثاروں کے ساتھ مکہ تشریف لے آئے ہیں۔

ابوسفیان یہ سب دیکھ ہی رہا تھا کہ اس کی گردن پر کسی نے تلوار رکھ دی اور لشکر کے لوگوں نے اسے گرفتار کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ ابوسفیان کو یقین ہوگیا تھا کہ اب اسے کوئی نہیں بخشے گا۔ اسے اپنی ساری اسلام کے خلاف کی گئی سازشیں یاد آنے لگیں اور وہ خوفزدہ ہوگیا۔ ابو سفیان کی گرفتاری اسلام کی قوم کے لئے کامیابی کا سبب تھا۔ خیمے میں موجود حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنی تلوار نکالی اور کہا اسے قتل کردینا چاہیئے۔ سارے فساد کی جڑ یہ سفیان ہی بنا ہے۔ وہاں بیٹھے سارے لوگ ابوسفیان کو نفرت کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔ تبھی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو سفیان کے ہاتھ کھلوائے اور اسے پانی پلانے کو کہا۔ حضور کی محبت اور نرم مزاجی کو دیکھ کر ابوسفیان ایمان لے آیا اور مسلمان ہو گیا۔

حضور نے فرمایا کہ جاؤ ابوسفیان تم آزاد ہو اور کل ہماری مکہ میں آمد ہوگی اور مکہ والوں سے کہہ دینا کہ ہماری کوئی بھی تلوار تب تک میان سے باہر نہیں نکلے گی جب تک کہ تم لوگ ان پر حملہ نہ کرو گے۔ سارے اصحابہ کرام نے ابو سفیان کو گلے سے لگایا اور کہا مبارک ہو تم ہمارے دینی بھائی ہو گئے ہو۔ تمہاری پچھلی ساری خطائیں معاف کر دی گئی ہیں۔ اور اللہ تمہارے گناہ معاف فرمائے۔

ابوسفیان سب سے گلے مل کر خیمے سے باہر نکل گے۔ وہ جہاں سے گزر رہے تھے ہر فرد، جو کچھ دیر پہلے اس کی جان کا دشمن تھا ا‌ن سے ہاتھ ملا رہے تھے۔ اگلے دن مکہ شریف کی حد پر جو لوگ کھڑے تھے ان میں سب سے نمایاں ابو سفیان تھے۔ مسلمانوں کا لشکر مکہ میں داخل ہو چکا تھا اور ان کی تلواروں اور نیزوں پر خون کا ایک قطرہ بھی نہیں تھا۔ لشکر اسلام کو حکم ملا تھا کہ کسی کے گھر میں داخل نہ ہونا۔ کسی کی عبادت گاہ کو نقصان نہ پہنچانا۔ عورتوں اور بچوں پر ہاتھ نہ اٹھانا۔

حضرت بلال حبشی اعلان کرتے ہوئے آگے چل رہے تھے کہ مکہ والو! آج تم سب کے لیے عام معافی کا اعلان ہے۔ کسی پر زور زبردستی نہیں کی جائے گی۔ جو اسلام قبول کرنا چاہے وہ کرسکتا ہے اور جو نہ کرنا چاہے وہ نہ کرے۔ وہ ان کے مذہب کے مطابق عبادت کر سکتے ہیں۔ لیکن مکہ کے اندر بت پرستی کی اجازت نہیں ہوگی۔ کسی کو بھی اس کی جائیداد سے محروم نہیں کیا جائے گا۔ غیر مسلموں کی جان و مال کی حفاظت مسلمان کریں گے۔

بنا خون بہائے بنا تلوار چلائے مکہ فتح ہو چکا تھا۔ لوگ اس مذہب کو اختیار کرنے کے لئے اور اللہ کی توحید اور رسول اللہ ﷺ کی رسالت کا اقرار کرنے کے لئے مکہ میں جمع ہونے لگے۔ جس میں ابو سفیان کی بیوی ہندہ بھی شامل تھی۔ ہندہ وہ عورت تھی جس نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کا قتل کروایا تھا اور ان کا کلیجہ چبایا تھا۔ لیکن اب وہ شرمندہ تھی اور اسلام قبول کرنا چاہتی تھی۔

یہ تھا ہمارا اسلام، یہ تھی اس کی تعلیمات۔ یہ سکھایا تھا حضور صلی اللہ وسلم نے ہم سب کو۔

Advertisements