Advertisement

فضائل قرآن پر ایک مضمون

قرآن پاک اللہ تبارک و تعالی کا دیا ہوا وہ عظیم تحفہ ہے کہ جو انسان اپنا تعلق اس کتاب سے جوڑ لیتا ہے تو یہ کتاب اسے آسمان کی بلندیوں تک پہنچا دیتی ہے۔ جو لوگ اس قرآن مجید سے حقیقی رشتہ قائم کرتے ہیں یہ انہیں بہت اونچا اور سر بلند کر دیتا ہے۔

حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تبارک وتعالی نے ایک ہزار سال پہلے سورہ ‘طہ’ اور سورہ ‘یاسین’ ملائکہ کے سامنے تلاوت فرمائی۔ اور جب فرشتوں نے ان دو سورتوں کی تلاوت سنی تو وہ بے ساختہ پکار اٹھے اور کہنے لگے کہ وہ امت کتنی خوش نصیب ہے جس کی ہدایت کے لیے اللہ پاک اس قرآن کو نازل فرمائے گا۔ وہ سینے کس قدر خوش نصیب ہوں گے جن کے سینوں کے اندر قرآن محفوظ ہوگا۔ جن زبانوں سے قرآن پاک پڑھا جائے گا وہ زبانیں مبارکباد کی مستحق ہوں گی۔

Advertisement

قرآن مجید ایک ایسی کتاب ہے جس کے بارے میں حضور صلی اللہ وسلم نے خود فرمایا ہے کہ دو قسم کے شخص ایسے ہیں جنہیں دیکھ کر رشک کرنا چاہیے۔ ان کی زندگی قابل رشک ہے۔ ایک وہ شخص جس کو اللہ نے قرآن کی دولت عطا فرمائی اور قرآن مجید کے مطابق اپنے شب و روز بسر کرتا ہے۔ اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ تبارک و تعالی نے مال عطا کیا اور وہ اللہ کے عطا کردہ مال میں سے دن رات اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے۔ یہ وہ خوش نصیب دو شخص ہیں جن کی زندگی ہر ایک انسان کے لئے قابل رشک ہے۔ انہیں دیکھ کر اللہ تبارک و تعالی سے دعا کرنی چاہیے کہ اے اللہ جیسا تو نے انہیں بنایا ہے اور جو دولت انہیں عطا فرمائی ہے ہمیں بھی عطا فرما۔

Advertisement

قرآن کی عظمت کا اندازہ اس بات سے لگا لینا چاہیے کہ ایک بار رات کے وقت حضرت اسید بن عزیر قرآن کی تلاوت کر رہے تھے اور ان کے بیٹے سو رہے تھے۔ تھوڑے ہی فاصلے کی دوری پر انہوں نے اپنا گھوڑا باندھا ہوا تھا۔ جب وہ اپنی تلاوت میں مصروف تھے تو کچھ ہی دیر میں ان کا گھوڑا اچھلنے لگا۔ وہ گھبرا کر اٹھے کہ کہیں یہ گھوڑا میرے بیٹے کو نہ کچل دے۔ انہوں نے وہاں جا کر دیکھا تو کچھ نہیں تھا۔ اور جب دوبارہ تلاوت کرنے لگے تو گھوڑا پھر اچھلنے لگا وہ پھر آئے اور سب طرف دیکھنے لگے لیکن کوئی چیز یا کوئی شخص نظر نہیں آیا۔ لیکن جب انہوں نے آسمان کی طرف دیکھا تو انہیں اپنے سر پر چھتری کی مانند ایک سایہ نظر آیا۔ اور جب وہ اس سایہ کو دیکھنے لگے تو وہ سایہ دھیرے دھیرے اوپر چلا گیا۔

Advertisement

یہ سارا واقعہ حضرت اسیدبن عزیر نے دوسرے دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جب تم بلند آواز میں قرآن پاک کی تلاوت کر رہے تھے اس وقت جو تم نے سایہ دیکھا وہ اللہ کی رحمت کے فرشتوں کا سایہ تھا۔ جو قرآن مجید کی تلاوت سن کر نیچے آ رہے تھے‌ اگر تم تلاوت کا سلسلہ جاری رکھتے تو وہ فرشتے زمین پر آجاتے اور مدینے والے انہیں اپنی آنکھوں سے دیکھتے۔ تو قرآن مجید وہ عظیم المرتبت کتاب ہے کہ جہاں اس کی تلاوت ہوتی ہے وہاں اللہ کی رحمتوں کا نزول ہوتا ہے اورجن لوگوں کو اللہ نے روحانیت عطا فرمائی ہے وہ اللہ کی اس رحمت کو اترتے ہوئے اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیتے ہیں۔

حضور صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور قرآن مجید کے مطابق عمل بھی کرتا ہے ایسے شخص کے والدین کے سروں پر قیامت کے دن اللہ تبارک و تعالی ایسا نورانی تاج سجائے گا جس کی چمک سورج کی چمک سے بھی بڑھ کر ہوگی اور قرآن پڑھنے والے کے لئے جنت کی منزل آسان ہوتی جائے گی۔ جیسے جیسے وہ شخص قرآن پڑھتا جائے گا جنت کے درجات چڑھتا جائے گا۔ اس کی جنت کی آخری منزل وہ ہوگی جہاں پڑھتے پڑھتے وہ اپنی آیت ختم کرے گا۔

Advertisement

جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اللہ قیامت کے دن اس کو اونچا مقام عطا کرے تو اسے قرآن کے ساتھ اپنا تعلق قائم کرنا چاہیے۔ اسے قرآن پڑھنا چاہیے اور اس پر عمل کرنا چاہیے اور اسے یاد کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ پاک ہمیں قرآن کریم پڑھنے، سمجھنے اور اس کے بتائے ہوئے احکامات کو بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

قرآن مجید پر ایک تقریر پڑھنے کے لئے یہاں کلک کریں!

Advertisement

Advertisement