گداگری پر ایک مضمون

  • گداگری سے مراد کسی کے سامنے ہاتھ پھیلانا یا پھر بھیک مانگنا کہہ سکتے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالی ہم سب کو کسی کا محتاج نہ بنائے۔ اللہ ہم سب کو ایسی توفیق عطا کرے کہ ہم جب بھی مانگیں اللہ سے مانگیں۔
  • اسلام سے پہلے بعض مذاہب میں مذہبی لوگوں کو قصبہ معاش کی اجازت نہیں تھی اور ان کی گزر و بسر بھیک اور نذر ونیاز پر تھی۔ ہندو مذہب میں برہمن اونچی ذات کہلاتی ہے لیکن ان کی گزر بسر بھی خیرات پر ہوتی تھی۔ بلکہ آج بھی ان پر لازم ہے کہ وہ براہمنوں کو دان یعنی خیرات پیش کریں۔
  • اسی طرح عیسائیوں میں جب رہبانیت کا عروج تھا تو جو لوگ اپنے آپ کو عبادت اور ریاضت کے لئے وقف کردیتے تھے تو ان کا گزارہ بھی مہیا حضرات کی خیرات سے ہوتا تھا۔ اسی طرح بدھ مذہب میں بھی یہ تصور پایا جاتا ہے۔
  • لیکن اسلام میں پہلے دن سے قصبہ حلال کو روڑی قرار دیا گیا اور گداگری کی مذمت بیان کی گئی ہے۔ قرآن ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالی نے صرف عام لوگوں کو ہی نہیں بلکہ انبیاء کرام علیم السلام کو بھی حلال کمانے اور حلال کھانے کا حکم دیا۔ اللہ تبارک وتعالی فرماتا ہے۔” اے لوگو تم پاکیزہ چیزیں کھاؤ اور نیک عمل کرو”۔
  • ان دونوں چیزوں میں مناسبت یہ ہے کہ جب انسان حلال کھاتا ہے تو اللہ پاک اس کو نیک عمل کی بھی توفیق عطا فرماتا ہے۔ اور حرام کھانے سے دل سخت ہو جاتا ہے اور نیک عمل کی توفیق سلب ہوجاتی ہے۔ بہت سے حرام کھانے والے ایسے بھی ہیں جو نماز نہیں پڑھتے۔ بعض ایسے ہیں جو نماز تو پڑھتے ہیں لیکن انکی نماز میں خشوع خضو نہیں ہوتا۔ بعض ایسے بدنصیب بھی ہوتے ہیں جو حرام کے استعمال کی وجہ سے ایمان تک سے محروم ہوجاتے ہیں۔ اس لئے اللہ پاک نے قرآن کریم میں کئی بار تاکید فرمائی ہے کہ ” اے ایمان والو کھاؤ۔ میری دی ہوئی نعمتوں کو خوب استعمال کرو۔ لیکن پاکیزہ چیزیں استعمال کرو، یعنی حلال چیزیں، حرام نہیں۔”
  • اللہ تبارک وتعالی سورہ جمعہ میں فرما رہا ہے کہ "جب جمعہ کے لئے پکارا جائے تو دوڑ کر آجاؤ اور جب نماز سے فارغ ہو جاؤ تو زمین پر پھیل جاؤ۔ جاکر اللہ کا فضل تلاش کرو حلال روزی کی تلاش کرو۔”
  • اللہ نے اپنی عبادت کے لئے پورا دن نہیں مانگا بلکہ رزق حلال کو اپنا یعنی اللہ کا فضل کہا ہے۔ اللہ کا فضل صرف ایمان لانا ہی نہیں، اللہ کا فضل صرف روزہ نماز ہی نہیں بلکہ رزق حلال کے مواقع آجانا اور اللہ کا با فراغت روزی کسی کو دے دینا، یہ بھی اس کا بہت بڑا فضل ہے اور اللہ سے یہ مانگنا بھی چاہیے۔
  • حضور صلی اللہ وسلم نے فرمایا کہ ایک دن ان کے پاس ایک سائل آیا اور اپنی ضرورت کا اظہار کرنے لگا۔ حضور نے فرمایا کہ کیا تمہارے گھر میں کچھ بھی نہیں ہے؟ تو اس سائل نے کہا کہ صرف ایک پیالہ ہے اور ایک ٹاٹ ہے۔ حضور نے فرمایا کہ دونوں چیزیں لے آؤ۔ حضور نے دونوں چیزوں کو بیچ دیا۔ اور فرمایا کہ جاؤ اپنے گھر کی ضرورت کا سامان خرید کر لے آئو اور ایک کلھاڑی کا پھل لے کر آؤ۔ حضور نے اس سائل کو خود اپنے ہاتھوں سے کلھاڑی بنا کر دی اور فرمایا جاؤ اب اپنی کلھاڑی سے لکڑیاں کاٹو اور بیچو اور پندرہ دن کے بعد مجھ سے ملنا۔ حضور کی ملاقات اس سائل سے چند دنوں کے بعد ہوئی توحضور نے دیکھا کہ اس شخص کے پاس کئی درہم جمع ہوچکے تھے۔
  • حضور نے فرمایا کہ کسی سے مانگنا یا کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے سے بہتر ہے کہ تم جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اپنی پیٹھ پر لاد کر لاؤ اور اسے بیچ کر اپنا گزر اوقات کرو۔
  • گداگری صرف ان کے لیے ہے جو واقعی ہاتھ پیر سے لاچار ہیں اور اپنے لیے روزی نہیں کما سکتے۔ لیکن جو لوگ ہاتھ پیر سے سلامت ہیں انہیں گداگری بالکل جائز نہیں ہے لہذا انہیں مانگنا، اور ان کو دینا اسلام میں دونوں ہی حرام ہے۔ اللہ تبارک و تعالی ہم سب کو توفیق دے کہ ہم اس کے علاوہ کسی اور کے سامنے ہاتھ نہ پھیلائیں۔(آمین)
Advertisements