ایک اچھے شاگرد پر مضمون

جس طرح سے بچے کا رشتہ اس کے اپنے ماں باپ سے ہوتا ہے اسی طرح استاد اور شاگرد کا بھی رشتہ ہوتا ہے۔ جس طرح بچوں کو اپنے ماں باپ سے بولنے چالنے اٹھنے بیٹھنے کی تعلیم ملتی ہے اسی طرح استاد سے دنیا میں جینے کا سلیقہ اور صحیح غلط کی پہچان حاصل ہوتی ہے۔ اس لئے ہم سب کو استاد کی اتنی ہی عزت کرنی چاہئیے جتنی ہم اپنے ماں باپ کی کرتے ہیں۔ ایک شاگرد کا یہ فرض ہے کہ وہ ہمیشہ اپنے استاد کے متعلق ایماندار رہے۔

ویسے ایک اچھا شاگرد پیدائشی اچھا نہیں ہوتا بلکہ وہ اچھے لوگوں کے ساتھ رہ کر اور اچھی تعلیم حاصل کر کے قابل اور اچھا بنتا ہے اور تب جاکر وہ ایک اچھا شاگرد بنتا ہے۔ ایک اچھے شاگرد کی یہ پہچان ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ سخت محنت کرتا ہے اور اسی محنت کو بار بار کرنے سے آگے چل کر اس کی یہ محنت کامیابی میں بدل جاتی ہے۔

اچھے شاگرد صبح اٹھنے کی اہمیت کو بہت ہی اچھی طرح سے سمجھتے ہیں۔ اس لئے وہ صبح دیر تک سو کر اپنے فائدے کو کبھی بھی برباد نہیں کرتے۔ وہ ہمیشہ رات کو جلدی سو کرصبح جلدی اٹھتے ہیں۔ وہ روز صبح ورزش بھی کرتے ہیں اور اچھا کھانا بھی کھاتے ہیں جس سے انکا دماغ تر و تازہ رہے اور صحت بھی اچھی رہتی ہے۔

  • ایک اچھا شاگرد ہمیشہ سچ بولتا ہے اور جو شاگرد ہمیشہ سچ بولتا ہے وہی زندگی میں آگے بڑھتا ہے۔ کیونکہ جو جھوٹ بولتا ہے وہ ایک جھوٹ کو چھپانے کے لئے دس جھوٹ اور بول دیتا ہے۔ اس لیے وہ کبھی زندگی میں آگے نہیں بڑھ پاتا اور نہ کبھی کامیابی حاصل کر پاتا ہے۔
  • اچھا شاگرد اپنے استاد کی بڑی عزت کرتا ہے اور ہمیشہ ان کا کہنا مانتا ہے۔ ایسا شاگرد استاد کا بڑا پیارا ہوتا ہے۔
  • اچھا شاگرد ہمیشہ اپنے دوستوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ وہ اپنے علم کا کبھی بھی گمان نہیں کرتا اور آگے جاکر ملک کے لیے اچھا کام کرتا ہے۔
  • ایک اچھا شاگرد ہمیشہ علم والی باتیں کرتا ہے۔ ہمیشہ اپنے کام سے کام رکھتا ہے اور ہمیشہ اوّل درجہ لاتا ہے۔ وہ ہمیشہ اچھی اچھی کتابیں پڑھتا ہے۔
  • اچھا شاگرد ہمیشہ ہر کام وقت پر کرتا ہے۔ وقت پر کھانا کھاتا ہے، وقت پر اسکول جاتا ہے اور وقت پر کھیلتا ہے۔
  • اچھا شاگرد بننے کے لئے ہمیں اپنے والدین اور استاد اور سبھی بڑوں کا ادب کرنا چاہیے۔ کیونکہ ہمارے بڑے جو بھی ہمیں کام کرنے کے لیے کہتے ہیں ہمیشہ ہمارے فائدے کے لئے ہی کہتے ہیں۔
  • ایک اچھے شاگرد کو کبھی بھی لڑائی جھگڑا نہیں کرنا چاہیے اور ہمیشہ دوسروں سے خوش اخلاقی رکھنی چاہیے اور دوسروں کا خیال رکھنا چاہیے۔ ہمیشہ علم سے متعلق کتابیں پڑھنی چاہیے۔ اچھے شاگرد کو سب کی عزت کرنی چاہیے۔ بزرگوں کی خدمت کرنی چاہیے۔ اور اس کے علاوہ بری سنگت سے دور رہنا چاہیے اور روز اسکول جانا چاہیے۔
  • ایک اچھا شاگرد ہی زندگی میں کامیاب ہو سکتا ہے۔ کیونکہ اچھے شاگرد میں بچپن سے ہی ایسی قابلیت ہوتی ہے جس سے وہ زندگی میں آنے والی ہر طرح کی مشکلوں کا آسانی سے سامنا کر سکتا ہے اور بچپن سے ہی اپنے مقصد کو سوچ کر رکھتا ہے۔ اور وہی جا کر آگے زندگی میں کامیابی حاصل کرتا ہے۔
Advertisements